ربیع الاوّل کا ماہِ مبارک،  دامان رسالت جنت میںاور محروم دامن جہنم میں 

ربیع الاوّل کا ماہِ مبارک،  دامان رسالت جنت میںاور محروم دامن جہنم میں 

  



مولانا محمد اکرم اعوان:

ربیع الاول اللہ کے ان چند مبارک مہینوں میں سے ہے جنہیں ہر مسلمان بڑی عقیدت، احترام ، ادب ،پیار اور بڑی محبت سے دیکھتا ہے الحمدللہ۔ ہمارے ایک دوست ہوتے تھے ر ا جہ محمد شریف مرحوم اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔ انہوں نے ایک کتاب ترتیب دی ”واقعات عظیمہ کی تاریخ زمانی“ جس میں حیات نبوی علیہ الصلوة والسلام کے ولادت باسعادت سے لے کر وصال مبارک تک،سالوں،تاریخوں،مہینوں، منٹوں اور سیکنڈ وںتک کے ہر واقعے کاوقت لکھا ہے۔بہت بڑے بڑے تین واقعات ربیع الاول مبارک میں ہیں۔ آقائے نامدار کی ولادت باسعادت ربیع الاول میں ہے ۔آپ کی بعثت عالی ربیع الاول میں ہے۔ آپ کا وصال مبارک ، اس دنیا سے پردہ فرما جانا، ربیع الاول میں ہے ۔ تین عظیم واقعات اس ماہ مبارک میں جمع ہو گئے ۔

ہم آج کی رسومات کے مطابق کثرت سے یوم ولادت کو میلاد شریف کے نام پر مناتے ہیں بڑی اچھی بات ہے۔ کہا جاتا ہے لوگ روکتے ہیں۔ کون بد بخت روکتا ہے؟حضور کی ولادت باسعادت میں کوئی خوشی مناتا ہے توکون بدنصیب اسے روک سکتا ہے؟ لوگ اپنا ، اپنے بچوں کا برٹھ ڈے مناتے ہیں۔دوستوں کی برتھ ڈے پارٹیاں ہوتی ہیں۔نبی علیہ الصلوة والسلام کی ولادت باسعات پر کون روکتا ہے؟ لیکن یہ انتخاب کس کا ہے ؟ نبی علیہ الصلوٰةوالسلام کی بارگاہ میں نذرانہ عقید ت پیش کرنے کا ،اپنی عقید ت کے اظہار کا طریقہ اور سلیقہ کیا ہے؟ یہ وہ بارگاہ ہے جس کے طریقے ،سلیقے ،آداب، رب العالمین نے سکھائے ہیں ۔

حضور مسجد نبوی میں جلوہ افروز ہوتے، سائل آتے فیض یاب ہوتے۔جب حضور اکرم اپنے حجرہ مبارک میں تشریف لے گئے تو چند مخلص دیہاتی مسلمان ،کاشت کار ،چرواہے، اپنامال مویشی اور کام روک کر دینی مسائل پوچھنے کے لےے حاضر ہوئے ۔ انہیں جلدی تھی، مویشی چھوڑکر آئے ہیں، ریوڑ چھوڑ کر آ گئے ہیں ۔ انہوں نے جرا¿ت کی حجرہ مبارک کے باہر سے آواز دی۔ یا رسول اللہ۔یا رسول اللہ ۔اللہ کریم کو یہ بات پسند نہیں آئی، فرمایا یہ جرا¿ت، میرے حبیب کو ڈسٹرب کررہے ہو ۔وحی آگئی ” یہ لوگ جو حجرہ مبارک کے باہر سے آپ کو آوازیں دے رہے ہیں،یہ اجڈ اور گنوار ہیں“ ۔ (الحجرات :4 ) مخلص مسلمان تھے ،صحابی ؓ تھے، سختی سے منع کیاگیا،کوئی عذاب کی وعید نہیں آئی۔اگر کوئی غیر مسلم ہوتا تو پتا نہیں کون سے عذاب کی وعید آتی؟روک دیا گیا۔یااللہ کب بات کریں؟ فرمایا ” بیٹھے رہو اگر حضور باہر تشریف لائیں کسی اور طرف متوجہ ہوں تو تم انہیں اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتے۔ جب اپنی مرضی سے آپ کی طرف رخ انور پھیریں پھر اپنی گزارشات پیش کرو “ ۔ (الحجرات :5)

یہ ڈھول ،باجے ،یہ تماشے، یہ شور وغل، یہ پٹاخے ،یہ پھول جھڑیاں، وہاں توصحابی ؓنے باہر سے آواز لگائی تو عرش عظیم ہل گیا۔ہم کیا کرتے ہیں؟کوئی منانے سے نہیں روکتا۔ بارگاہ عالی میں جلیل القدر صحابہ ؓ بیٹھے ہیں، مہاجرین مکہ بیٹھے ہیں، انصار مدینہ بیٹھے ہیں، غازیان بدر واحد بیٹھے ہیں۔ وہ لوگ بیٹھے ہیں جنہوں نے دین کے لےے گھر بار، خیش اور قبیلے سب کچھ ترک کردیئے،جنہوں نے جانیں نچھاور کیں، بیٹے قربان کئے، آپس میں باتیں ہوتی ہیں ،آوا ز اونچی بھی ہوجاتی ہے، فوراً وحی الٰہی آ گئی۔ فرمایا ” آواز اونچی نہ ہو، اگر آواز اونچی ہو گئی تو میں تمہاری ساری قربانیاں، تمہارے مونہہ پر دے ماروں گا۔ کسی عبادت کی ضرورت نہیں“۔ (الحجرات :2 )

آگے چلو اللہ کا ایک فرشتہ ہے اسے ملک الموت کہتے ہیں ۔بڑا وسیع نظام ہے اس کے ماتحت۔جتنے بندے دنیا میں آتے ہیں اس کا ایک ملازم ہر بندے کے ساتھ ہے۔ جب اللہ کا حکم ہوتا ہے اسے معین وقت کا علم ہوتا ہے ۔اشارہ کرتا ہے، روح قبض ہوجاتی ہے،فقیر بھی ہوتے ہیں امیر بھی ہوتے ہیں ،گدا بھی ہوتے ہیں بادشاہ بھی ہوتے ہیں، پتا تب چلتا ہے جب روح لے کر چلتے بنتے ہیں ۔طبیعت عالی ناساز ہے، اپنی محبوبہ زوجہ محترمہ کی گود میں آرام فرما ہیں، دختر نیک اختر تیمارداری کررہی ہیں۔کوئی حجرہ مبارک کے باہر سے آواز دیتا ہے یارسول اللہ اندر آنے کی اجازت ہے؟ آپ کی دختر نیک اختر کو بات پسند نہیں آتی۔ ترشی سے جواب دیتی ہیں کہ حضور کی طبیعت مبارک میں گرانی ہے اور تم اجازتیں طلب کررہے ہو؟ حضور فرماتے ہیں ”نہ بیٹا اس نے کبھی اجازت نہیں مانگی، اس کے تو نمائندے کام کرتے ہیں، یہ تیرے باپ کا دروازہ ہے جہاں یہ خود کھڑ ا اجازت مانگ رہا ہے، بیٹا یہ ملک الموت ہے “ ۔

 دوسری بات میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا حضور کے عہد مبارک میں یوم ولادت منایا جاتا تھا؟ کیا صحابہ ؓ ، تا بعین ؒ، تبع تابعینؒ، ؒمتقدمین ؒ،سلف صالحینؒ مناتے تھے؟ہم نے کہاں سے شروع کیا؟ یہ ہم نے مغرب سے لیا ہے ۔اقوام مغرب برتھ ڈے کے نام سے یوم ولادت اپنا، بڑوں کا، دوستوں کا مناتے ہیں ، ہم نے بھی لے لیا۔ ہم بھی بڑ ی باقاعدگی سے برتھ ڈے مناتے ہیں ۔ہم نے تاریخیں لکھ رکھی ہوتی ہیں ۔اس کی تاریخ پیدائش کب منانی ہے؟کبھی یہ بھی تحقیق فرما لیں کہ ولادت باسعادت کا یوم مبارک کو ن سا ہے؟ مورخین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ 9 ربیع الاول آپ کی ولادت باسعادت کا دن ہے۔ بہت تھوڑے اور چند مورخ 12 ربیع الاول کی بات کرتے ہیں۔اکثریت 9 ربیع الاول پرہے اور سارے اس بات پر متفق ہیں کہ 12 ربیع الاول حضور کے وصال مبارک کا دن ہے اور جس دن حضور نے دُنیا سے پردہ فرمایا،خیبر میں یہودیوں نے عید منائی تھی ۔جشن کیا تھا، خوشی منائی تھی۔ تھوڑا سا مطالعہ کر لیں اہل ِ علم سے پوچھ لیں، تفتیش کر لیں ،منائیں،میں تو نہیں روکتا۔ کوئی بھی نہیں روکتا۔کچھ آداب کا خیال رکھیں جو رب العالمین نے بنائے ہیں کچھ تاریخوں کا تعین کر لیں ۔ بارہ تاریخ کو میری جوانی تک ہمارے دیہات میں بارہ وفات کے نام سے درود پکاتے تھے عام دیہاتیوں کو بھی علم تھا کہ یہ وصال مبارک کا دن ہے اور بارہ وفات کے نام سے کھانے بنا کر غریبوں میں تقسیم کر کے ایصال ثواب کرتے تھے اوربارگاہ عالی میں ہدیہ¿ درود بھیج کر، نفل پڑھ کر، دعائیں مانگتے تھے۔ یہ آج بارہ میں جشن کدھر سے آگیا ؟ضرو ر مناو¿، لیکن یار کوئی آگا، پیچھا ،کوئی دن تاریخ، طریقہ، سلیقہ ، ادب و آداب ،کوئی قاعدہ، کوئی ضابطہ، بس اتنی سی گزارش ہے کہ یہ کوئی قاعدے، ضابطے ،دن، تاریخ یہ بارگاہ بڑی نازک ہے او ر بڑا نازک رشتہ ہے اور اس کی ضرورت دونوں جہانوں میں ہے۔ میرے بھائی یہی دنیا، دنیا میں بڑی چیزوں کی ضرورت ہے کچھ چیزیںنہیں بھی ملتیں، ان کے بغیر بھی گزر ہوجاتی ہے،لیکن اس کی ضرورت تو دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ہے۔ اس کے بغیر تو گزارا نہیں ہوگا۔ دو ہی راستے ہیں دامان رسالت جنت میں ،محروم دامن جہنم میں اور جہنم بڑی اوکھی جگہ ہے بڑی تکلیف دہ جگہ ہے پھر وہاں موت نہیں ہے جان چھوٹے گی نہیں۔ ابدالآباد جہنم دامان رحمت میںابدآباد میں جنت۔یہ معاملہ تو بڑا نازک ہے۔ میرے بھائی نام نامی آئے اور مسلمان کو خوشی نہ ہو،جس کو خوشی نہ ہو وہ تو مسلمان ہی نہیں۔ لیکن خوشی کا بھی سلیقہ ہے ،طریقہ ہے، انداز ہے اور روئے زمین پر یہ واحدبارگاہ ہے جس کے آداب قرآن کریم سکھاتا ہے۔

حضور دُنیا سے پردہ فرما گئے روزہ اطہر میں جلوہ افروز ہیں عہد ابوبکر صدیق ؓ خلافت ِ راشدہ کا دور تھا۔اُم المومنین اسی حجرے میں مقیم تھیں ۔ایک طرف حضور کا قیام تھا قبر اطہر تھی، ایک طرف اماں حضرت عائشہ موجود تھیں۔ سامنے گلی تھی۔ دوسری طرف ایک گھر تھا ،اس گھر کی خاتون یا مرد نے دیوار میںکوئی کیل ٹھوکنا چاہی۔ کوئی چیز لٹکانا ہو گی، کوئی ضرورت ہو گی، ٹھک ٹھک کی آواز آئی۔ فوراً اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خادمہ دوڑائی اور آپ کا پیغام کیا تھا؟ اسے جا کر کہو یہ تمہاری کھٹ کھٹ حضور کو ایذا دے رہی ہے۔وہ ادب جو اللہ نے سکھایا روزہ اطہر کا وہ ادب آج بھی وہی ہے ۔ میری گزارش ان سے بھی ہے جو حج عمرے پر جاتے ہیں۔وہاں دھکم پیل نہ کریں۔ روزہ اطہر کے وہی آداب ہیں، قیامت تک وہی رہیں گے۔ میرے بچپن تک تو لوگ اسے گھروں میں مناتے تھے، تلاوت کرتے تھے، نوافل پڑھتے تھے، علماءسے تقریریں کراتے تھے ، پھرگھروں سے نکل کر جلسے ہو گئے ،جلسے ، جلوسوں میں بدلے ،جلوس ،جشن میں بدل گئے۔ جشن کا مطلب ہوتا ہے جو جس کا دل چاہے کرے۔اس بارگاہ میں میرے بھائی عشق و محبت بھی آداب کے پابند ہیں۔ عشق ایک جنون کا نام ہے، جنون پابندیاں نہیں مانتا۔ لیکن اس بارگاہ میں عشق بھی پابند ادب ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ ہم محبت کریں جیسا ہم چاہتے ہیں۔ رب چاہتا ہے ایسے محبت کرو جیسے میں چاہتا ہوں ۔ہم اپنی بات منوائیں یا اپنے رب کی مانیں۔

 اس کا ایک اور پہلو بھی ہے حضور اکرم کا ارشاد ہے کہ میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر عبداللہ تک کسی ایسی نسل میں منتقل نہیں ہوا جس میں نکاح نہ ہو، ہمیشہ میرا نور حلال اور جائز راستے سے منتقل ہوا ہے۔آپ نے کہاں پیدا ہونا ہے؟کس گھر میں پیدا ہونا ہے ؟ کس دن؟کس لمحے پیدا ہونا ہے؟ کہاں بچپن گزارنا ہے ؟کس کی گود کو سنوارنا ہے؟ کہاں وحی کا نزول ہونا ہے؟ کس لمحے ہونا ہے ؟یہ رب العالمین کاا نتخاب تھا۔ آپ کا کون سا دن منانا ہے؟ اس کا انتخاب کون کرے گا؟ یہ کس کا حق ہے؟ اسی رب العامین کا حق ہے اس نے کون سا دن چنا ہے؟ وہ کہتا ہے (آل عمران :164) یار سارے احسان تو اس کے ہیںساری کائنات اس کااحسان ہے۔یہ ہوا بادل پانی یہ زمین،آسمان،یہ نعمتیں، والدین، اولاد،گھر،بار،دوست ، احباب، ملک، حکومتیں، اقتدار ،دولت،سب اس کے احسانات ہیں،صحت، حیات،سب اس کے احسانات ہیں۔کہتا ہے یہ تم میں سے سب پر ہیں ایک احسان میں نے اپنے ایمان والے بندوں پر کیا ہے جو بے مثل و بے حساب ہے۔جس کی مثال کائنات میں نہیں ملتی وہ یہ ہے کہ میں نے ان میں اپنا رسول مبعوث فرمایااس نے نہ وصال مبارک کے دن کو چنا ،نہ ولادت مبارک کا۔ اس نے بعثت عالی کے دن کو چنا۔ رب العالمین کے انتخاب میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ ولادت باسعادت پرہم برکات کا ذکر کرتے ہیں، معجزات کا ذکر کرتے ہیں ،وصال پر کوئی درود یا ارواح کرے گا، اپنی بخشش مانگے گا، آپ کے حوالے سے ۔بعثت کی بات آئے گی تو آپ کے پیغام کی بات ہوتی ہے او ر جب پیغام کی بات آتی ہے تو ہم کنی کترا جاتے ہیں۔ یہ بات تو صحیح نہیں ہے انہی میں سے،مَیں نے اپنا حبیب پیدا فرمایا،ایسا بندہ پیدا فرما دیا،جو کائنات میں بے مثل و بے مثال ہے،جس جیسا دوسرا کوئی بندہ میں نے پیدا نہیں فرمایا۔ یااللہ ایسا کیا کمال ہے؟فرمایا ” میری باتیں بندوں کو سناتا ہے ،بندوں کو مجھ سے ہم کلام کردیا ہے“ ۔ (آل عمران :164)

کردیا ہم سخن بندوں کو خدا سے تو نے

 جو چاہتا ہے کہ مَیں اللہ کریم سے باتیں کروں۔ یسا لمحہ آئے ،کوئی ایسا موقع آئے، میری زندگی میں بھی کوئی ایسا وقت آئے، میں ر ب سے باتیں کروں فرمایا تو قرآن پڑھو ۔رب سے باتیں کررہے ہوگے۔رب تم سے مخاطب ہو گا، تم رب کی بات سن رہے ہو گے۔ تم رب سے بات کر رہے ہو گے ۔ بس اللہ سے با ت کرا دی۔ فرمایا نہیں، اللہ سے بات کرا دی پھر وَیُزَکِّی±ھِم ان کے آلودہ دلوں کو تجلیات باری سے منور کردیا ،روشن کردیا، پاک کردیا، اتنا پاک کردیا کہ فرشتے اس پاکی کو ترستے ہیں۔وہ تقدس ملائکہ کو نصیب نہیں، اس سے زیادہ قلوب انسانی کو طہارت اور تقدس دے دی۔ دلوں کو روشن کردیا، منور کردیا، تجلیات باری کی آماجگاہ بنا دیا۔ وَیُعَلِّمُھُمُ ال±کِتٰبَ (آل عمران :164) اور اللہ کی کتاب کے علوم کے خزانے بانٹ دےے وَال±حِک±مَة کائنا ت کی ساری دانیاں، ساری دانش ،انہی معانی میں سمو کر مومنوں کے سینے میں اتار دیا۔

جب قرآن کی تعلیمات تھیں تو ہمارا عالم کیا تھا؟ جن مسلمانوں کے پاس رسول ا للہ کی تعلیمات تھیں وہ کیا تھے؟ جہاں دارو جہاں گیروجہاں بانو جہا ں آرا اور آج ہم غلام کیوں ہیں ؟یہ مغرب نے ہماری رگ جاں کاٹ دی۔ اس تعلیم سے الگ کر کے ہمیں اپنے پیچھے اپنے نظام تعلیم میں سمو دیا۔ وہ ہمیں کیا سکھاتا ہے ؟دُنیا کی چیزوں کا غلط استعمال۔ دین اور دنیا میں کیا فرق ہے؟ یہ سمجھتے ہیں جی دین صرف آخرت کا سکھاتا ہے ۔دُنیا کے علم تو باہر ہے۔ ارے نہیں بھائی دین اسلام کیا ہے؟ دُنیا کی ساری چیزوں کو ان کے بنانے والے کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق استعمال کرنا اسلام ہے۔اسلام سارے دنیاوی علوم سکھاتا ہے اور اگریہ تجلیات جو وَیُزَکِّی±ھِممیں ہیں یہ نصیب ہو جائیں تو دیکھو تاریخ عہد نبوت کی ریوڑ چھوڑ کر لوگ آئے ،چرواہے آئے، تنومند ،جری،دلیر، مخلص حضور نے فرمایا صبح جو غازی جا رہے ہیں جہاد پر ان کا کمانڈر یہ ہوگا۔جرنیل بننے تک بندے کی بھونیں سفید ہو جاتی ہیں۔ کالجوں سے نکلتا ہے تو فوجی تربیت گاہوں میں لیفٹیننٹ سے لے کر جرنل بننے تک اس کی عمر کٹ جاتی ہے، بھنویں سفید ہوجاتی ہیں،ہزاروں میں سے کوئی پہنچتا ہے ۔دنیا کی تعلیم گاہوں میں یونیورسٹیوں میں تربیت گاہوں میں پڑھ لکھ کر آتا ہے، کتنے جرنیل ہیں جنہیں تاریخ یاد رکھتی ہے؟یہ جو جنگلوں سے ،صحراو¿ں سے اٹھ کر آئے اور نبی کریم نے آن واحد میں جرنیل بنا دیا۔ کون ایسا ہے جسے تاریخ بھلا سکتی ہے؟ اسلام تو ایساآب حیات ہے ۔عمر بھر کی یونیورسٹیوں کی، اداروں کی تعلیم وہ جرا¿ت رندانہ، وہ آب و تاب، وہ چمک دمک ،وہ سیاسی شعور ،وہ فتوحات کے جذبے، وہ جنگی فلسفے، وہ نشیب وفراز نہ دے سکی جو لمحے بھر کی رفاقت رسول نے عطا کردیا ۔رب کریم تو یہ دن منانے کی دعوت دیتا ہے۔فرماتا ہے صرف دن نہ مناو¿، اس جذبے کو زندہ کرو، برکات نبوت کو سینوں میں سماو¿۔اپنے دُکھ یہاں ڈھیر کردو،برکات نبوت سے جھولیاں بھر کر لے جاو¿۔کوئی ہے جو دُنیا میں دُکھ سمیٹے اور سکھ عطا کرے۔ یہ اللہ کی بارگاہ ہے۔ یہ بارگاہ مصطفی ﷺہے، جو آتا ہے، سارے دکھ، ساری تکلیفیں وہاں ڈھیر کرکے ساری خوشیاں لے کر آتا ہے،لیکن کوئی وہاں پہنچے تو سہی ،ہم وہاں جائیں تو سہی، وہاں جانے کا سلیقہ تو سیکھیں ،وہاں جانے کا طریقہ تو سیکھیں ۔کیسے عجیب لوگ تھے یار جنہوں نے یہ سلیقہ سیکھا ۔ غزوہ احد میں ایک صحابی ؓ کو تلوار لگی ،یہاں سے ان کی آنکھ کٹ گئی ۔ الگ نہیں ہوئی، لٹک گی، چمڑا بچ گیا۔اس طرح لٹک رہی تھی اور بارگاہِ رسالت میں زخمی حاضر ہوا۔ آپ نے دست اقدس سے واپس رکھ دی۔ سارے آپریشن مکمل ہو گئے، بینائی واپس آگئی، زخم بھر گیا پھر جنگ میں شریک ہوگیا سبحان اللہ۔ ایک اور صحابی بڑے زخمی ہوئے انہیں ساتھیوں نے اٹھایا، بارگاہِ رسالت میں لے جاتے ہیں زخم بھر جائیں گے۔اس نے کہا، نہیں زخم بھرنے کے لئے نہیں مجھے لے ضرور جاو¿ ۔میرا رخسار حضور کے قدم مبارک پر رکھ دو اور دُعا کرو وہاںمیری روح قبض ہوجائے۔اللہ نے ان کی تمنا پوری کی یہاں وہ حیات بٹ رہی تھی۔ وہ دُنیا کی حیات چھوڑ کر وہاں سے ابدی حیات لے گئے۔بھائی کیا نہیں ہے وہاں؟ اس دامن میں کیا نہیں ہے ۔اس دامن میں کیا کچھ ہے؟ وہ دامن ہاتھ میں آئے تو۔ ہم ہاتھ کہاں مار رہے ہیں؟اس دامن میں کوئی ہاتھ تو ڈالے ۔ارے میرے بھائی بارگاہ بڑی عالی ہے ۔بڑی نازک ہے ،بڑا نازک رشتہ ہے اور اس بارگاہ کے آداب رب العالمین خود سکھاتا ہے۔

منافقین نے ایک جسارت کی ۔عربی کا ایک لفظ تھا  رَاعِنَا یہ رعایت سے ہے۔ جیسے انگریزی میں کہتے ہیں Excuse me آپ بات کرتے ہیں۔ اگلے نے نہیں سمجھی ،وہ کہتاہے Excuse me یہ بات دہرا دیں معنی تو ہے کہ مجھے معاف کریں، لیکن مراد یہ ہوتی ہے کہ بات دہرا دی جائے عربی میں کہتے تھے رَاعِنَاکہ ہم سے رعایت کیجےے یعنی بات سمجھی نہیں ،یہ دوبارہ دہرا دیجےے۔ منافقین ”ی“ پرزیر پڑھ کر ”راعی نا “ کہہ دیتے تھے ۔راعی کہتے ہیں چرواہے کو۔ حضور اکرم کئے اوصاف حمیدہ میں یہ بھی ہے کہ آپ نے بکریاں بھی چرائیں تو وہ طعنہ بن جاتا تھا کہ آپ تو چرواہے ہیں۔اللہ کریم کو اتنا غضب آیااس بات پر متبادل لفظ دے دیا۔ فرمایا یہ لفظ لغت سے نکال دو لَا تَقُو±لُو±ا رَاعِنَا وَقُو±لُوا ان±ظُر±نَا (البقرہ:104) رَاعِنَا کو عربی لغت سے نکال دو۔ اس کی جگہ ان±ظُر±نَا کہا کرو اور یار ذرا نزاکت دیکھو اس بارگاہ کی اس رب العالمین نے فرمایا یہ رَاعِنَا عربی لغت سے نکال دو۔ کوئی کلمہ گو رَاعِنَا نہ کہے یا اللہ کیا کہیں ؟فرمایا ان±ظُر±نَاکہا کرو۔ ہماری طرف نظر کرم فرمایں بے ادبی تو منافق کرتے تھے۔ فرمایا منافقوں جیسی حرکت مومنوں کو زیب نہیں دیتی ،جو لفظ منافق کہتے ہیں وہ مومن کے مونہہ سے نکلے ہی نہیں، مومن یہ لفظ لغت میں ہی نہیں ہونا چاہئے۔

ذرا اپنے جشن دیکھ لو کہیں یہ منافقوں جیسے ،کافروں جیسے ،یہودیوں جیسے ، کہیں مرنے کے بعد تم بھی موم بتیاں تو نہیں جلا دیتے ہو جیسے کافر جلاتے ہیں نہیں آپ تو ایسا نہیں کرتے ہویہ تو کافروں کے کام ہیں۔ ان کے پاس دعامانگنے کو کچھ نہیں ،ان کا کوئی مالک نہیں جس سے وہ مانگیں۔ ان کا کوئی عقیدہ نہیں ۔وہ موم بتی جلا کر ،اندر بھی آگ جل رہی ہے اوپر بھی آگ جلا دیتے ہیں ۔ہم تو ایسا نہیں کرتے۔ اگر کرتے ہو تو توبہ کر۔

لوگو ! جو چاہو کرو ذرا دیکھ لو اپنا دامن کس چیز کے ساتھ پھیلا رہے ہومیرا مشورہ یہ ہے اپنا دامن رحمت العالمین کی بارگاہ میں پھیلاو¿۔اس کے آداب اللہ نے سکھائے ہیں ،اس بارگاہ سے خود کو منسلک کرواللہ آپ سب کو بامراد کرے ۔ (آمین!)

مزید : ایڈیشن 1


loading...