سرورِ کائنات،رحمت للعالمین احمد مجتبیٰ، خاتم النبین کا جشن ولادت

سرورِ کائنات،رحمت للعالمین احمد مجتبیٰ، خاتم النبین کا جشن ولادت

  



علم و آگہی

پروفیسر قاضی اکرام بشیر

وہ دنیا میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

اُتر کر حرا سے سُوئے قوم آیا

اور اک نسخہ ءکیمیا ساتھ لایا

غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم

کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است

ہزارباربشویم دہن زمشک و گلاب

ہنوز نام تو گفتن کمال بی ادبسیت

(میں ہزار بار اپنا منہ عطر و گلاب سے دھوﺅں تو پھر بھی تیر انام لینا کمال بے ادبی ہے)

فخرِ موجودات، سرور کونین، خاتم النبین، رحمت للعالمین آنحضرت محمد مصطفی (جن کی ذات پر ہزاروں درود و سلام) کا جشنِ ولادت قریب آ گیا ہے۔ دنیا بھر میں اربوں مسلمان اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آنحضور کی شان و شوکت اور عظمت کے گرویدہ ہیں۔ یہ وہ ذاتِ پاک ہیں کہ جب دنیا جہالت اور گمراہی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، لوگ بتوں کی پوجا کرتے، نوزائیدہ بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے، چوری، ڈاکہ ، شراب نوشی، سودی کاروبار، جوا بازی، جھوٹ، فریب اور غریبوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم تھا تو آپ ایک آفتابِ درخشاں بن کر ان اندھیروں کو ختم کرنے کے لئے اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کے والد ماجد حضرتِ عبداللہ ؓ آپ کی پیدائش سے چند ماہ قبل ہی اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے تھے آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہؓ نے عرب کے رواج کے مطابق انہیں دودھ پلانے اور قدرتی ماحول میں پرورش پانے کے لئے حضرت دائی حلیمہ کے سپرد کیا۔ حضرتِ آمنہؓ رسول اکرم کے بچپن ہی میں انتقال فرما گئیں جس کے بعد چچا حضرت ابو طالب نے آپ کی پرورش کی حضرت ابو طالب شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے والد محترم تھے جنہوں نے ہر مشکل میں اپنے بھتیجے حضرت محمدﷺ کا ساتھ دیا۔ آنحضور شروع سے ہی ایک باوقار، سنجیدہ اور متین شخصیت کے مالک تھے۔ مکہ مکرمہ میں آپ صادق اور امین کے لقب سے معروف تھے۔ نوجوانی کے عالم میں تجارت کا پیغمبری پیشہ اپنایا اور حضرتِ خدیجتہ الکبریٰؓ جو عرب کی ایک ثروتمند اور مالدار خاتون تھیں، انہوں نے اپنا مال تجارت کے لئے آنحضور کے سپرد کیا۔ جب واپس تشریف لائے تو حضرت خدیجہؓ ان کی دیانت اور امانت داری سے بے حد متاثر ہوئیں اور آپ کی اعلیٰ شخصی صفات کی بدولت آپ کو شادی کا پیغام بھیجا جو آپ نے قبول فرما لیا۔ اس وقت آنحضرت کی عمر مبارک پچیس سال تھی جبکہ حضرت خدیجہ ؓ آپ سے پندرہ سال بڑی تھیں۔

ام المومنین نے زندگی بھر تمام مشکلات میں آنحضور کا ساتھ دیا۔ جب آپ پر وحی نازل ہوئی اور آپ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجتہ الکبریٰ ؓسے کہا کہ وہ انہیں چادر اوڑھا دیں تو ام المومنین نے ان کی ہمت بندھائی اور سب سے پہلے اسلام بھی قبول کیا۔

منصبِ رسالت پر فائز ہونا

جب آنحضورﷺ غارحرا میں اپنا بیشتر وقت گزارتے اور عبادت میں مصروف رہتے تھے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور قرآن پاک کی چند آیات لے کر آئے آپ اس عظیم منصب پر فائز ہوتے وقت ذمہ داریوں کے بارِ گراں کے حوالے سے سوچ رہے تھے لیکن قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ جابجا آپ کی رہنمائی فرماتے ہیں۔ آنحضورﷺ کے دیگر معجزات میں قرآن مجید فرقانِ حمید آپ کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ یہ وہ کتابِ ہدایت ہے جو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لئے مشعلِ راہ ہے اور زندگی کے تمام مسائل پر روشنی ڈالتی ہے۔ اسی کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماءالحسنیٰ ہیں اور رسول اکرم کو بھی ان کے مختلف ناموں سے نہ صرف مخاطب کیا گیا بلکہ بہت سی سورتوں کے نام بھی آپ کے ناموں پر ہیں۔ دائرہ اسلام میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں حضرتِ خدیجتہ الکبریٰؓ، حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ شامل تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے مسلمان ہونے کی دعا آنحضور نے خود فرمائی تھی۔ خلفائے راشدین، عشرہ مبشرہ اور جلیل القدر صحابہ کے ناموں میں بہت سے معروف نام شامل ہیں۔

اہلِ قریش کی طرف سے مشکلات

جب آنحضور نبوت کے منصب پر فائز ہوئے اور مکہ والوں کو پیغام حق پہنچایا تو آپ کے راستے میں بے پناہ مشکلات پیش آئیں آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے۔ ایک بوڑھی عورت آپ پر کوڑا کرکٹ پھینکتی تھی جب وہ بیمار ہوئی تو آپ اس کی عیادت کے لئے چلے گئے سبحان اللہ، یہی وہ اسوئہ حسنہ تھا جس کی بدولت لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔ حضرتِ عمرؓ آپ کے قتل کی نیت سے آئے تھے لیکن قرآن پاک کی آیات سن کر فوراً دائرہ اسلام میں آ گئے۔

طائف کا سفر

دعوتِ حق کو پھیلانے کے لئے آنحضور نے طائف کا سفر کیا لیکن کفار نے پتھر مار مار کر آپ کو زخمی کیا اور پاﺅں مبارک خون سے لبریز ہو گئے۔ اس موقعہ پر حضرتِ جبرائیل علیہ السلام اللہ کا پیغام لے کر آئے کہ کیوں نہ ان گمراہوں پر پہاڑ گرا دیا جائے لیکن نبیءرحمت نے فرمایا کہ میں ان کی ہدایت کی دعا کرتا ہوں۔

شعب ابی طالب

کفار مکہ نے جب آپ کا سوشل بائیکاٹ کیا تو آپ اپنے اہل و عیال کے ہمراہ طویل عرصہ شعب ابی طالب میں محصور رہے۔ جب تائید ایزی آئی تو اس مشکل سے نجات ہوئی۔

ہجرت کا سفر

نبوت کے تیرہویں سال آنحضور نے تائید ایزدی سے ہجرت کے سفر کا ارادہ کیا کیونکہ کفار کے عزائم بہت مذموم تھے اور انہوں نے آپ کو ایذا پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے کے لئے بے شمار پروگرام بنا رکھے تھے۔آپ نے رات کی تاریکی میں مکہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور حضرتِ ابوبکر صدیقؓ نے آپ کے ہمراہ ہونا تھا جبکہ حضرت علیؓ نے آپ کے بسترِ مبارک پر استراحت کرنا تھی اور اگلے روز کفارِ مکہ کی بے شمار امانتیں لوٹا کر آنا تھا۔کفار نے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا لیکن آپ وہاں سے اللہ کے حکم سے نکل آئے اور غارِ ثور میں جا کر پناہ لی۔ یہاں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پورے غار کی اندر سے صفائی کیا ور تمام سوراخ بند کر دیئے لیکن ایک سوراخ رہ گیا جس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنا پاﺅں مبارک رکھ دیا۔ یہاں ایک سانپ پچھلے پانچ سو سال سے آپ کی آمد کا منتظر تھا اسے جب کوئی راستہ نہ ملا تو اس نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاﺅں کو ڈس لیا جس سے آپؓ شدید درد اور تکلیف میں تھے۔ آنحضور نے اپنا لعاب دہن اس پر لگایا تودرد دور ہو گیا۔ بعد میں سانپ نے آنحضور کی زیارت بھی کی اور اس نے کہا کہ الہامی کتابوں میں آپ کی آمد کا تذکرہ تھا میں پانچ سو سال سے آپ کی زیارت کا منتظر تھا۔

کفار مکہ نے آنحضور ﷺ یا حضرت ابوبکرؓ میں سے کسی ایک کے قتل پر ایک سو اونٹوں کا انعام رکھا تھا۔ کفار آپ کی تلاش میں غار ثور کے باہر تک پہنچے لیکن وہاں مکڑی نے جالا بن دیا تھا اور کبوتری نے انڈے دے رکھے تھے وہ یہ سمجھ کر چلے گئے کہ غار کے اندر کوئی نہیں ہو سکتا۔ حضرت ابوبکرؓ کو دشمنوں کی آمد پر تشویش ہوئی تو آپ نے فرمایا ”آپ غم نہ کریں بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“حضرت ابوبکر صدیقؓ کے صاحبزادے سارا دن مکہ معظمہ میں رہتے اور شام کو آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر تمام معاملات سے آگاہ کرتے۔ آنحضور کے لئے گھر سے بکری کے دودھ کا بھی اہتمام کیاکرتے۔ غارِ ثور میں آپ کا قیام تین راتوں تک رہا۔ اُدھر مدینہ منورہ میں آپ کا انتظار ہو رہا تھا۔ ہر مسلمان اور صحابی منتظر تھا کہ آپ تشریف لائیں اور اسی کے گھر قیام فرمائیں آپ نے فیصلہ کیا کہ آپ کی اونٹنی جس گھر کے سامنے رک جائے گی تو آپ وہیں قیام پذیر ہوں گے یہ سعادت حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے حصے میں آئی۔آپ کی تشریف آوری پر مدینہ کی بچیاں دف بجا کر یہ گیت گا رہی تھیں۔ ”طلع البدرُ علینا“....

مواخاتِ مدینہ

آنحضورﷺ نے اہل مدینہ کو تلقین فرمائی کہ مکہ سے آنے والے صحابہ ان کے بھائی ہیں اس لئے وہ اپنے تمام وسائل کو باہم تقسیم کرکے ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔اہلِ مدینہ نے آنحضور کے فرمان پر دل کی گہرائی سے عمل کیا اور مکہ سے آنے والے صحابہ کے لئے کسی مشکل کو قریب نہ آنے دیا۔

میثاقِ مدینہ

مدینہ میں پہلے سے قیام پذیر یہودیوں سے آنحضور نے پُرامن بقائے باہم کے لئے ایک معاہدہ کیا جسے میثاق مدینہ کہتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہودی اکثر و بیشتر اس معاہدے کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کرتے رہے لیکن یہ ان کی سرشت میں شامل تھا۔

جنگیں اور غزوات

رسولِ اکرم کی مدینہ آمد سے کفار مکہ سخت پریشان ہوئے، انہیں یہ ڈر تھا کہ اب دین اسلام کی روشنی پھیلتی چلی جائے گی چنانچہ انہوں نے غزوہ بدر، غزوئہ احد اور غزوہ خندق کے ذریعے مسلمانوں سے نبردآزما ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن رسول اکرم کی ان غزوات میں شرکت اور مسلمانوں کی شجاعت، بہادری اور تائید ایزدی سے آنحضورﷺ کو برتری اور کامیابی حاصل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اور دین اسلام کو سرخرو کیا۔

صلح حدیبیہ

مسلمانوں کو کفار مکہ سے اکثر شکایات رہتی تھیں اور دونوں طرف سے سرد جنگ بھی رہتی تھی۔ مسائل پر قابو پانے کے لئے صلح حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا جس میں نظر بظاہر کفار مکہ کے لئے زیادہ سہولت تھی لیکن یہ معاہدہ ایک فتح مبین تھا جس سے بعدازاں فتح مکہ کا راستہ ہموار ہوا۔

فتح مکہ

چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ آنحضورﷺ جن کے لئے مکہ معظمہ میں بہت سی مشکلات پیدا کی گئی تھیں وہاں حضور اکرم ہزاروں مسلمانوں کے ہمراہ تشریف لائے اور مکہ فتح ہو گیا۔ اس موقع پر آپ نے دشمنوں کے لئے عام معافی کا اعلان فرمایا اور اس کے کچھ قواعد و ضوابط مقرر کر دیئے۔ آپ کے اسوئہ حسنہ اور حسنِ سلوک کے پیش نظر کفار مکہ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔

نبوت کے منصب پر فائز ہونے 

کے بعد خفیہ تبلیغ

آنحضور نے منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد تین سال تک خفیہ طور پر تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران حضرت ابوبکر صدیقؓ جو مکہ کے ایک بڑے تاجر اور نیک نام شخصیت تھے۔ آپ کی کوششوں سے حضرت عثمان غنیؓ ذوالنورین جیسی بلند مرتبہ ہستی نے اسلام قبول کیا۔ اس دوران حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرتِ طلحہؓ نے بھی اسلام قبول کیا۔

اعلانیہ تبلیغ کا آغاز

تین سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد آنحضور نے اپنے قبیلہ قریش کے 45افراد کو کھانے کی دعوت پر بلایا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہونے اور منصب رسالت پر فائز ہونے کی اطلاع دی اور پوچھا کہ اہلِ خاندان میں سے کون کون سے لوگ ان کا ساتھ دیں گے۔ اس موقع پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ، جن کی عمر صرف دس سال تھی، نے اعلان کیا کہ اگرچہ وہ جسمانی طور پر زیادہ مضبوط نہیں ہیں لیکن وہ رسول اکرم کا ساتھ دیں گے۔ حضرت ابی طالب نے بھی آپ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور اسے نباہ کر دکھایا۔

کفار مکہ کی طرف سے صلح حدیبیہ 

کی خلاف ورزی

کفار مکہ سے صلح حدیبیہ کا جو معاہدہ طے پایا تھا نہ صرف انہوں نے اس کی صریح خلاف ورزی کی بلکہ جب مصالحتی وفد کے ساتھ کفار کے جرائم کے سلسلے میں مختلف شرائط رکھی گئیں تو انہوں نے صلح حدیبیہ کو ختم کر دینے پر اصرار کیا جس پر بعد میں انہیں سخت پچھتاوا ہوا اور انہوں نے صلح حدیبیہ کو بحال رکھنے کے لئے بھی وفد بھیجا لیکن آنحضور اپنے صحابہ کے ساتھ مشاورت کر چکے تھے کہ اب مکہ کی طرف پیش قدمی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ آنحضور دس ہزارصحابہ کے لشکر کے ہمراہ مکہ معظمہ میں وارد ہوئے اور حرم کعبہ میں پہنچے جہاں تمام 360 بتوں کو گرایا اور بعدازاں حرم کعبہ کو ان بتوں سے پاک کرکے بت پرستی کا خاتمہ کر دیا، اگرچہ کفار مکہ نے ایک مقام پر لشکر اسلام سے مقابلے کی کوشش کی لیکن انہیں تیرہ سے زیادہ لاشیں چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ آنحضور سے قریش مکہ کا مکالمہ ہوا تو قریش نے آپ کی شرافت اور خاندانی نجابت کی تعریف کی جس پر آپ نے فرمایا کہ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔ قریش مکہ کی جان بخشی کے لئے مختلف قواعد کا اعلان فرمایا اور یہ اتنی بڑی فتح انتہائی پُر سکون طریقے سے مکمل ہو گئی۔ حق آ گیا اور باطل ختم ہوا۔یقینا باطل ختم ہو جانے والا ہے۔

حجتہ الوداع

فتح مکہ کے بعد سورئہ نصر نازل ہوئی جس میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت آئی اور لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اب آپ اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں،وہ یقینا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اس سورہ¿ سے یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا تھا کہ اب آپ کا مشن مکمل ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔ فتح مکہ کے بعد اعلان کیا گیاکہ آنحضور ﷺ اس سال حج کا فریضہ سرانجام دیں گے اس لئے جتنے بھی مسلمان ان کے ساتھ فریضہ ءحج ادا کرنا چاہیں وہ اس کی تیاری مکمل کرلیں۔ آپ نے 8ذی الحجہ کو منیٰ میں پہنچ کر قیام فرمایا اور 9ذی الحجہ کو عرفات تشریف لا کر اپنا تاریخی خطبہ ءحجتہ الوداع ارشاد فرمایا جو بین الاقوامی طور پر حقوق انسانی کا سب سے بڑا چارٹر ہے۔آپ نے فرمایا کہ گورے کو کالے پر عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور فضیلت کا معیار صرف تقویٰ اور پرہیز گاری ہے۔ آپ نے اس خطبے میں مسلمانوں کو ایک مکمل ضابطہ¿ حیات سے آگاہ کیا اور ان کے لئے احکامات و ضوابط جاری فرمائے۔

وصال

جب دین مکمل ہو گیا اور آنحضور کو اس امر کا انتظار تھا کہ کب اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس بلاتے ہیں تو صفر کے مہینے سے آپ کی طبیعت ناساز ہونا شروع ہوئی۔درمیان میں کہیں کچھ آرام آ جاتا تھا۔بالآخر ایک روز آپ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اپنی جگہ نماز کی امامت کے لئے کہا۔ آپ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے حجرے میں قیام پذیر تھے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کی کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لئے یہ کیسے ممکن ہو گا کہ وہ آپ کی حیاتِ مبارکہ میں آپ کی جگہ امامت کے فرائض سرانجام دیں لیکن آپ نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ امامت کروائیں۔ آپؓ نے تین روز تک امامت کے فرائض سرانجام دیئے۔12ربیع الاول کو آنحضورﷺ کا وصال ہوا تو تمام مسلمان اور صحابہ کرامؓ کو اس کا یقین نہیں آتا تھا اور اضطراب کی کیفیت طاری تھی۔ اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے اپنی تلوار نکالی اور اعلان کیا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ آپ وصال فرما گئے ہیں۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ آنحضور بشریت کے مقام پر فائز تھے اور آپ کا وصال ہونا ہی تھا۔ یہ مناظر دکھ اور پریشانی کے تھے لیکن امت کے ساتھ آپ کا رشتہ ابد تک جاری و ساری رہے گا۔ آپ تو تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں اور سرورِ کائنات ہیں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔

امتِ مسلمہ کی عقیدت اور شعراءو ادبا کا خراج تحسین

نہ صرف پوری امت مسلمہ آنحضور سے انتہائی عقیدت ومحبت رکھتی ہے بلکہ ہر مسلمان کے دل کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے روضہ ءرسول پر حاضری کا شرف حاصل ہو۔ جن مسلمانوں کو یہ سعادت حاصل ہو جاتی ہے،ساری زندگی اس پر ناز اور فخر ہوتا ہے کہ وہ آقاﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضری کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ راقم الحروف نے مدینہ منورہ میں دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں کی عقیدت کا حال ملاحظہ کیا اور یہ سیاہ کار بھی اپنے آنسوﺅں اور ندامت و شرمندگی کے گہرے احساس کے ساتھ آقا حضور سے اپنی سابقہ کوتاہیوں اور غفلت کے لئے معافی کا خواستگار تھا۔

گنبد خضریٰ اور ریاض الجنہ میں پوری امت مسلمہ کے لئے رحمت اور خصوصی کرم کی درخواست کی۔ 

دنیا بھر کے شعراءو ادباءنے نظم و نثر میں آنحضور کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت پیش کئے ہیں۔ عربی، فارسی، اردو، پنجابی اور دنیا بھر کی زبانوں کے شاعر آنحضور کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مولانا روم، شیخ سعدیؒ، امیر خسرو، جامی، قدسی، غالب، علامہ اقبالؒ، بہادر شاہ ظفر، الطاف حسین حالی،فیض، جوش، آغا شاعرقزلباش دہلوی، ابوالکلام آزاد ،احسان دانش، احمد ندیم قاسمی، پرنم الہ آبادی، نجم نعمانی سبزواری، حفیظ تائب، امیر مینائی ادا جعفری، پروین شاکر، انور مسعود،بشیر حسین ناظم، بہادر یار جنگ ،جگر مراد آبادی، جگن ناتھ آزاد، اصغر سودائی، صوفی تبسم، جعفر قاسمی، ڈاکٹر آفتاب نقوی الغرض ایسے سینکڑوں ہزاروں عاشقانِ رسول ہیں جنہوں نے آنحضور کی مدحت میں گلہائے عقیدت پیش کئے۔ آیئے کچھ نعتیہ کلام کا ایک مختصر سا انتخاب پیش کریں اور خود بھی بارگاہ نبوی میں حاضری کے لئے دعا کریں۔

نعتیہ کلام کی روایت کا تسلسل

نعتیہ کلام کی روایت جو آنحضورﷺ کے عہد مبارک سے شروع ہوئی، گزشتہ چودہ پندرہ صدیوں سے اس کا تسلسل موجود ہے۔ حضرت ابو طالب بن عبدالمطلبؓ، حضرت عبداللہ رواہہؓ، حضرت فاطمتہ الزہرؓا،حضرت کعب بن زہیرؓ،حضرت حسان بن ثابتؓ، الشیخ شرف الدین ابی عبداللہ محمد البوصیری نے عربی زبان میں آنحضور کے لئے گلہائے عقیدت پیش کئے تو مولانا روم، سعدی شیرازی، امیر خسرو،مولانا جامی نے فارسی زبان میں حضور اکرم کے فضائل و مناقب بیان کئے۔ اردو زبان کے جن شعرا نے روایت کے اس تسلسل کو برقرار رکھا ان میں خدائے سخن میر تقی میر، مومن خان مومن، ولی دکنی، نظیر اکبر آبادی، نوح ناروی، نصیر الدین نصیر، نعیم صدیقی، ماہر القادری، نصیر احمد ناصر، ناصر کاظمی،حسین ثاقب، قدیر ہاشمی، تحسین فراقی، جعفر بلوچ، منیر قصوری، ڈاکٹر طارق عزیز، ایوب ندیم، ڈاکٹر شہزاد قیصر، ظہیر احمد صدیقی نوشی گیلانی، واصف علی واصف، لطیف ساحل ، طارق زیدی، یوسف ظفر، صوفی تبسم، سعادت سعید، اظہر غوری، انعام الحق جاوید، سیف اللہ خالد، خضر تمہمی، منصور آفاق، انتصار احمد ظہیر، ناصر رانا ،نجیب احمد، وحیدہ نسیم، احمد فراز، منیر نیازی، اجمل نیازی، مظفر وارثی، پُرنم الہ آبادی ، محمود شام، مظفر محمد علی ، سعید آسی، انجم رومانی، شہرت بخاری ،عقیل عباس جعفری ، امجد اسلام امجد، احمد حماد، علی اصغر عباس، رحمن فارس، شکیل جاذب ،اخلاق احمد ڈوگر، محمد بشیر قمر، غافر شہزاد،سیف اللہ خالد، عباس نجمی، اعجاز احمد ارشد، محسن احسان، ڈاکٹر محمد اقبال شاہد، عقیل روبی، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف،غلام حسین ساجد، فرمان فتح پوری، فیصل عجمی ، کرامت بخاری، کرم حیدری ، محسن نقوی، محسن کاکوروی ، کوثر نیازی، صابر ظفر، محشر بدایونی، مرزا محمد رفیع سودا،مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان، جسٹس محمد الیاس، محمد سعید انصاری، محمد علی ظہوری، بشیرحسین ناظم، جمشید دستی، ابوالامتیاز ع۔ س۔ مسلم، صہبا اختر، ظفر اقبال، عابد بریلوی، ڈاکٹر آغا یٰسین، محی الدین خلوت ، سید اکرم شاہ اکرام، ڈاکٹر وحید قریشی، احمد علیم، شعیب بن عزیز، ندیم الحسن گیلانی، عبدالعزیز خالد، عطاءالحق قاسمی، عاصی کرنالی، منیرصمدانی، فیض احمد فیض، یزدانی جالندھری، طفیل ہوشیارپوری،مشکور حسین یاد، ناصر زیدی، عباس تابش، عرفان صدیقی (پاکستان) عرفان صدیقی (بھارت) انیس اکرام فطرت، داغ دہلوی، رئیس امروہوی، ساغر صدیقی، سعد اللہ شاہ، شکیل بدایونی، سید سلمان ندوی، سید نفیس الحسینی، سیماب اکبر آبادی، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال، شورش کاشمیری، شہزاد احمد، خورشید رضوی، ڈاکٹر حامد خان حامد، ریاض مجید، راغب مراد آبادی، رانابھگوان داس، حسرت موہانی، حفیظ جالندھری، حفیظ ہوشیارپوری، حمایت علی شاعر خاطر غزنوی،خالد احمد، پروفیسرناصر بشیر، خالد شریف، خلیق قریشی، صغریٰ صدف، خمار بارہ بنکوی، اکرام ہوشیارپوری کے علاوہ ہزاروں لاکھوں شعرائے کرام نے ہر دور میں بارگاہ رسالت کے لئے شعروں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔

عصر حاضر کے نعت گو شعرائ

عصر حاضر میں نعت گو شعراءنہ صرف نعت کے شعبے میں بلکہ درس و تدریس ، کالم نویسی، غزل و نظم میں بھی معروف ہوئے ہیں۔ جواں سال شاعر پروفیسر ناصر بشیر نے درس و تدریس، کالم نگاری، ادارت اور سفر نامہ نگاری سمیت نعت کے شعبے میں بھی گرانقدر کاوشیں کی ہیں۔ حالات حاضرہ پر ان کی شاعری نے پذیرائی پائی ہے، انہوں نے نعتیہ شاعری میں بھی بہت نام بنایا ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری میں رسول اکرم سے ان کی گہری عقیدت کا رنگ جھلکتا ہے۔

معروف شعراءکے نعتیہ کلام سے انتخاب

شیخ سعدیؒ

بلغ العلےٰ بکمالہ کشف الدجےٰ بجمالہ

حسنت جمیع خصالہ صلو علیہ و آلہ

امیر خسروؒ

خدا خودمیر مجلس بود اندر لامکاں خسرو

محمد شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم

مولانا جامیؒ

نسیما جانب بطحا گزر کن

زا احوالم محمد را خبر کن

توئی سلطانِ عالم یا محمد

ز روئے لطف سوئے من نظر کُن

قدسی

مرحبا سید مکی مدنی العربی

دل و جان باد فدایت چہ عجب خوش لقبی

علامہ اقبالؒ

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب

گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

یہ مصطفی       برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

اگر باﺅ نہ رسیدی تمام بولہبت

الطاف حسین حالی

اے خاصہ ءخاصانِ رسل وقت دعا ہے

امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

امیرمینائی

جب مدینے کا مسافر کوئی پا جاتا ہوں

حسرت آتی ہے یہ پہنچا میں رہا جاتا ہوں

اسد اللہ غالب

غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم

کاں ذات پاک مرتبہ دانِ محمد است

آغا شاعر قزلباش دہلوی

ارادہ جب کروں اے ہم نشیں مدحِ پیغمبر کا

قلم لے آﺅں پہلے عرش سے جبریلؑ کے پر کا

مولانا احمد رضا خان بریلویؒ

مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

احمد ندیم قاسمی

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

اس کی دولت ہے فقط نقش کفِ پا تیرا

پورے قدسے میں ہوں تو یہ تیرا ہے کرم

مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا

ولی دکنی اردو کے اولین شاعر

یا محمد دو جہاں کی عید ہے تجھ ذات سوں

خلق کو لازم ہے جی کوں تجھ پہ قربانی کرے

میر تقی میر

جلوہ نہیں ہے نظم میں حسنِ قبول کا

دیوان میں شعر گر نہیں نعتِ رسول کا

مولانا ظفر علی خان

دل جِس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیں تو ہو

ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

صوفی تبسم

آیا ہے تیرا اسم مبارک میرے لب پر

گرچہ یہ زباں اس کی سزاوار نہیں ہے

سید نصیر الدین نصیر (گولڈہ شریف)

ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے

نور ہی نور تھا دیکھتے رہ گئے

پروفیسرناصر بشیر

یہ بندگی کا راز ہے خدا ہی کارساز ہے

وہ ذات لاشریک ہے یہ آپ نے بتا دیا

ساغر صدیقی

بزم کونین سجانے کی لئے آپ آئے

شمعِ توحید جلانے کے لئے آپ آئے

سلیمان ندوی

عشقِ نبوی دردِ معاصی کی دعا ہے

ظلمت کدئہ دہر میں وہ شمعِ ہُدیٰ ہے

نفیس الحسینی

اے رسولِ امین خاتم المرسلین تجھ سا کوئی نہیں تجھ سا کوئی نہیں

ہے عقیدہ یہ اپنابہ صدق و یقیں تجھ سا کوئی نہیں تجھ سا کوئی نہیں

سیماب اکبر آبادی

پیام لائی ہے بادِ صبا مدینے سے

کہ رحمتوں کی اٹھی ہے گھٹا مدینے سے

مظفر وارثی

الہام جامہ ہے تیرا قرآں عمامہ ہے تیرا

منبر ترا عرشِ بریں اے رحمة للعالمین

منیر نیازی

حوصلہ مجھ میں نہ تھا تو بات کہتا کِس طرح

یہ میرا منصب نہ تھا تو نعت کہتا کِس طرح

عطاءالحق قاسمی

ہے میرا چارہ گر مدینے میں

منزل و راہبر مدینے میں

شکیل بدایونی

نہ کلیم کا تصور نہ خیال طُورِ سینا

میری آرزو محمد، میری جستجو مدینہ

میں گدائے مصطفی ہوں میری عظمتیں نہ پوچھو

مجھے دیکھ کر جہنم کو بھی آ گیا پسینہ

شورش کاشمیری

شورش یہ فیض خواجہ ءکونین دیکھ لوں

جی چاہتا ہے کوچہ و بازار مصطفےٰ

ناصر کاظمی

زمیں کو عرشِ معلی ہے تیرا گنبدِ سبز

تیری گلی میں فرشتے قیام کرتے ہیں

عابد بریلوی

جشن آمدِ رسُول اللہ ہی اللہ

بی بی آمنہ کے پھول اللہ ہی اللہ

صہبا اختر

دل میں جب اسمِ محمد سے برستا ہے سرور

تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کیا ہوں گے حضور

عباس تابش

یہ کنارا ہے بہت میرے سفینے کے لئے

میں مدینے سے گیا بھی تو مدینے کے لئے

صابر ظفر

وجود کیسے نہ ہو منزل آشنا میرا

جمال اسمِ محمد ہے پیشوا میرا

مزید : ایڈیشن 1


loading...