ڈیرہ،سرائیکستان قومی  موومنٹ کا احتجاجی مظاہرہ

ڈیرہ،سرائیکستان قومی  موومنٹ کا احتجاجی مظاہرہ

  



ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ) واسرائے ہند لارڈ کرزن کے پیروکاروں کا سرائیکی قوم کے ساتھ ظلم کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی موومنٹ کے مرکزی چیف آرگنائزر رئیس اسد نے اڈا صدیق آباد بوسن روڈ ملتان پر احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی اور مظاہرین سے خطاب میں کیا مظاہرے میں عبدالمطلب باروی،ثنا اللہ ملک، ایم حسیب،حاکم علی، حاجی شعیب،ذیشان علی،ابرار اجمل، صائم احمد،مدنی مٹھل،روشن علی، دلاور حسین کاشف بھٹی،عبداللہ گوندل، حسیب لودھرا، منیر احمد، رانا عاصم،عرفان قادری، شوکت حسین لودھرا، سلیم عباس، خاور عباس، رانا اقبال،رانا بہزاد ملک سمیع اللہ،حبیب اللہ نے شرکت کی اس موقع پر سرائیکستان قومی موومنٹ کے مرکزی چیف آرگنائزر رئیس اسد کا کہنا تھا کہ 9نومبر 1901 واسرا ہند لارڈکرزن نے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کہ ملتان سے کاٹ کر اس وقت کے صوبہ سرحد میں شامل کیا جو آج صوبہ پختوانخوا ہے اس جبری تقسیم کے خلاف تخت پشاور اور موجودہ حکمرانوں کے خلاف سخت نعرہ بازی کی گئی ریئس اسد نے کہا کہ تخت لاہور اور مرکز پرست بھی سرائیکی قوم کے ساتھ قبضہ گیری ظلم اور تقسیم درتقسیم کے گھناؤنے عمل میں پیش پیش ہیں جیسا کہ ماضی میں پنجابیوں،پشتونوں اور بلوچوں کو سامرا جیوں نے تقسیم کیا اوریہی عمل 118سال سے سرائیکی قوم کے ساتھ جاری ہے سرائیکستان قومی موومنٹ طبقاتی جدوجہد سے قبضہ گیری کے خاتمہ اور 23اضلاع پر مشتمل صوبہ سرائیکستان کے قیام کیلئے سڑکوں پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...