کرتارپورراہداری کاافتتاح،ناموربھارتی پروفیسرکے خوبصورت تبصرے پرڈی جی آئی ایس پی آر بھی چپ نہ رہ سکے

کرتارپورراہداری کاافتتاح،ناموربھارتی پروفیسرکے خوبصورت تبصرے پرڈی جی آئی ...
کرتارپورراہداری کاافتتاح،ناموربھارتی پروفیسرکے خوبصورت تبصرے پرڈی جی آئی ایس پی آر بھی چپ نہ رہ سکے

  



راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)کرتارپور راہداری کھلنے پر جہاں دنیابھرمیں مقیم سکھ کمیونٹی خوشی سے نہال ہے وہاں مذہبی رواداری کی عظیم مثال قائم کئے جانے پر دنیا بھرمیں مقیم امن پسند طبقہ حکومت پاکستان کے اس اقدام کو سراہ رہا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی ایک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ بھارتی نژاد پروفیسر اشوک سوائن نے بھی کرتار پور راہداری کھولنے کے اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم از کم دنیا میں ایک ایسا ملک ضرور ہے جو اپنے بانی کے فرمودات پر عمل کرنے کی کوشش کررہاہے۔

اپنی ٹویٹ کے ساتھ انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کا فرمان بھی پوسٹ کیاجس میں قائد فرماتے ہیں کہ ریاست پاکستان میں تم سب اپنی مسجدوں اور دیگر عبادت گاہوں میں جانے کیلئے آزاد ہو۔آپ کا تعلق خواہ کسی بھی مذہب اور ذات سے ہے اس سے ریاست کا کچھ لینا دینانہیں ہے۔

اشوک سوائن کے ٹویٹ پر جہاں ہزاروں افراد نے ردعمل ظاہر کیا وہیں ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور بھی خاموش نہ رہ سکے۔۔ان کا کہنا تھا کہ”جی ہمیں فخر ہے۔سمجھدار بھارتی شہری بھی اگر ان کے فرمودات عمل کریں تواس میں کوئی نقصان نہیں ہے۔اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے“۔

اشوک سوائن کے ٹویٹ پر لوگوں کی بڑی تعداد نے ردعمل دیا۔جویریا نامی ایک صارف لکھتی ہیں کہ”اس خوبصورت ٹویٹ پر شکریہ،قابل احترام!“

ایک اور صارف رخسانہ نے لکھا قائد اعظم محمد علی جناح ایک عظیم رہنما تھے۔

قاسم لکھتے ہیں کہ ہمیں بانی پاکستان پر فخرہے، کم ازکم بھارت میں موجود اقلیتیں آج قائد کے نظریہ کو ضرور سمجھ گئی ہوں گی،اور ا ب وہ قائد اعظم کی مخالفت کرنے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ مودی فائیڈ بھارت اب سیکولر ازم کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے۔

جہاں پاکستانی شہری مثبت طرزعمل اپنانے پراشوک سوائن کاشکریہ اداکررہے تھے وہاں متعدد بھارتی انہیں تنقید کا نشانہ بناتے نظرآئے۔

پرنس انکروش کے نام سے ایک صارف کوکچھ نہ سوجھی تو انہوں نے لکھا اگر کچھ پتہ نہ ہو تو بولانہیں کرتے۔سیمی آہوجا نامی ایک صارف (جو پتہ نہیں پاکستان آئی بھی ہیں یا نہیں)کہتی ہیں کہ وہاں جائیں تو آپ کو پتہ لگے گا،انہوں نے میں نہ مانوں کے مصداق یہ بھی لکھا کہ کچھ کام اچھے ہیں لیکن اتنے نہیں کہ پاکستان کو اچھا سمجھا جائے۔

واضح رہے کہ اشوک سوائن نے قائد کا جوفرمان پوسٹ کیا ہے حکومت پاکستان کی جانب سے اس قول کوفریم کرواکرگردوارے کے داخلی دروازے پر لگایاگیاتھا۔

گزشتہ روز محمد علی جناح کے برسوں قبل کہے ہوئے قول پرعمل کرکے پاکستان نے دنیا بھر کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ یہ قائد کا پاکستان ہے، جہاں امن، یکسانیت، برابری اور اقلیتوں کو ان کے حقوق دیئے جاتے ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...