ولادت سرورِکائنات اور جدید چیلنجز

ولادت سرورِکائنات اور جدید چیلنجز
 ولادت سرورِکائنات اور جدید چیلنجز

  



تحریر، اسوہ زینب

سرورِکائنات ،فخرموجودات،امام الانبیاء،خاتم النبیین حضرت محمدﷺکی ولادت و بعثت سے قبل کی تاریخ اور اس دنیا کا جو نقشہ مورخین نے بیان کیا ہے تاریخ کے وہ اوراق کسی تحریر اور بیان میں نہیں سمٹ سکتے۔

چھٹی صدی عیسوی میں انسانیت اگرچہ اپنے آپ کو ہلاک کرنے پر جنونی حد تک تُلی ہوئی تھی،لیکن خالق و مالک کو ان کی یہ حالت قبول و منظور نہیں تھی۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ان میں ایک ایسی ہستی بھیجی جائے جو جبلّی اور فطری طور پر ان تمام خامیوں اور خرابیوں سے پاک ہو اور ان ہی کے معاشرے میں رہ کر انہیں انسانی صفات سے بھرپور زندگی کی طرف لے کرآئے۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس عظیم ہستی کو چُنا، وہ انسانی طبقے کی سب سے بہتر، برتر، افضل، اکمل،اشرف تھی جس کا نام نامی و اسم گرامی محمد بن عبداللہﷺ ہے۔

فخر موجودات سرور کائنات حضرت محمدﷺ نے ایک بھرپور زندگی اپنے معاشرے میں اس طرح گزاری کہ کسی قسم کی بداخلاقی، بدگوئی، بدعملی کی طرف کوئی ایک واقعہ بھی بدترین مخالف اور دشمن نقل نہیں کرسکتا۔ اس وقت پورا معاشرہ برائیوں میں مبتلا تھا، صرف نبیﷺ کی ہی ذات پاک تھی کہ جو ان تمام عیوب سے پاک تھی۔

چالیس سال کی عمر مبارک ہونے پر آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا۔اس اعلان کے موقع پر آپﷺ نے اپنی چالیس سالہ حیات مبارکہ کو قوم کے سامنے پیش فرمایا، جسے قرآن مقدس نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان فرمایا ہے ’’میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں۔‘‘(سورۂ یونس) یہ ارشاد گرامی آپﷺ کے مخلص اور باکردار زندگی پر دلالت کرتا ہے۔اعلان نبوت کے بعد کی زاہدانہ زندگی کا ہردن اور رات اس بات کے گواہ ہیں۔ آپﷺ کی حیات مبارکہ اعلان نبوت کے بعد کی ایک ایسی زندگی ہے جو فکرمند تو نظر آتی ہے، لیکن اپنی ذات کے حوالے سے نہیں۔ اس عقدے کو اس خوب صورت انداز میں قرآن مقدس نے کھولا ہے کہ جس سے بہتر اور برتر تاقیامت کسی دانشور کے لیے بات کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ سورۂ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کی جو چار صفات بیان فرمائی ہیں انہیں قیامت تک جھٹلایا نہیں جاسکے گا۔

آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ اور پیغمبرانہ مشن کی تکمیل کے تاریخ ساز موقع پر آخرایک وقت وہ آیا کہ سرورِ کونین حضرت محمدﷺ کی نبوت ورسالت کا ماہِ تمام مشرق و مغرب کومنور کرگیا،اسلام کی سربلندی اور دینِ مبین کی عالمگیر ترویج و اشاعت کے مواقع میسر آئے۔اسلام کو غلبہ اور سربلندی نصیب ہوئی جو رسالتِ محمدیؐ کا اعجاز اور امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکی نبوت و رسالت کا کرشمہ ہے۔

ربیع الاول پاکستانی قوم سمیت ملت اسلامیہ کے لئے خوشی وانبساط کی وہ خاص کیفیت لےکر آتا ہے جوخالق کائنات کی طرف سے ’’باعث تخلیق کائنات‘‘ قرار دی گئی ہستی کی دنیا میں آمد کے تصور سے وابستہ ہے۔ اس ماہ مبارک کی پرنور ساعتیں اس امر پر غوروخوض کا موقع فراہم کرتی ہیں کہ پروردگار عالم نے اپنے محبوب بندے اور آخری نبیﷺ کی پہچان کرانے کے لئے کیسے کیسے انتظامات فرمائے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اسلام کے غلبے اور دین کی عالمگیر ترویج و اشاعت کے لیے امت اپنا کردار ادا کرے۔یہی شانِ رسالتؐ کا تقاضا اور آپﷺ پر ایمان کا بنیادی محرک ہے۔

آپ نبیﷺ کی مکی زندگی دیکھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ مصائب کی انتہا میں بھی مشن کی تکمیل کیلئے کیسے ثابت قدم رہا جاسکتا ہے۔ مدنی زندگی دیکھئے تو فلاحی مملکت کا خواب دیکھنے والے حکمراں ہوں یا اپنے اپنے میدانوں میں کامیابی حاصل کرنے کے متمنی دوسرے افراد، سب کی رہنمائی کا سامان نظر آتا ہے۔ ریاست مدینہ کو دیکھئے تو مہاجرین کی آبادکاری اور روزگار کی فراہمی کا مسئلہ ہو یا صدیوں سے برسرپیکار قبیلوں کو صلح کے راستے پر لانے کا مرحلہ، قبائل کو وفاق کی لڑی میں پرونے کا میثاق ہو یا اردگرد کے قبائل سے معاہدوں کے ذریعے حفاظتی حصار بنانے کی ضرورت۔ جنگ اور امن کے قوانین ہوں یا حقوق انسانی کا میدان۔ سب ہی معاملات میں رہنمائی ملتی ہے۔ امور مملکت چلانے کے انداز نشاندہی کررہے ہیں کہ مسلم حکمرانوں کا طرز زندگی قیصریت اور کسرائیت پر مبنی نہیں، انتہائے سادہ ہونا چاہئے۔زندگی کے ہر لمحے میں مسلم حکمرانوں، اکابرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو خطبہ حجۃ الوداع کو مشعل راہ بناتے ہوئے یہ الفاظ بطور خاص یاد رکھنے چاہئیں کہ ’’تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اس پر تم قائم رہے تو کبھی گمراہ نہ ہوسکو گے، اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت‘‘۔

آج امت مسلمہ کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ اپنی تمام تر سنگینی کے باوجود اس چیلنج کی گرد کو بھی نہیں پہنچتے جو ابتدائے اسلام میں درپیش تھا۔ تو کیوں نہ کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے مسلم اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لیں۔ اپنے باہمی اختلافات، داخلی شورش اور علاقائی تنازعات کے خاتمے کیلئے ثالثی، مصالحت اور باہمی رابطوں کا وہ راستہ اختیار کریں جس کے بعض اشارے مل بھی رہے ہیں۔ تنظیم اسلامی کانفرنس (او آئی سی) سمیت اپنی تنظیموں کو موثر بنائیں۔ مختلف میدانوں میں تعاون بڑھائیں ۔

اسلام ایسا مذہب اور ایسا دین ہے کہ اس کے علاوہ کوئی دین اللہ کے نزدیک مقبول نہیں۔ اسلام اس طریقہ اور دستور العمل کا نام ہے۔ جو ہمیں خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰؐ کی وساطت سے ملا ہے۔ ہم اس پر عمل پیرا ہو کر اپنے آپ کو خالص مسلمان بنائیں اللہ سے ڈریں اور رسول اکرمؐ کی پیروی کریں۔

تو اگر ہم آپؐ کے نقش قدم پر چلیں اور رحمت الہیٰ ہماری دست گیری کرے دنیا میں عزت آزادی، سرفرازی اور آخرت میں نجات پائیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج مسلمان سیرت طیبہؐ کی روشنی میں صحیح تعلیم اور صحیح روح سے واقف ہو جائیں ، غلامی کی زندگی کو گناہ سمجھنے لگ جائیں، اپنی آزادی کیلئے بے چین ہو جائیں اور غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر حریت و استقلال حاصل کرنے کی فکر میں بے قرار ہو جائیں ۔ خلافت الہٰی اور حکومت ربانی کا قیام ہی اس کی زندگی کا مقصد اولین ہے اور خدا کے بتائے ہوئے قانون پر اور سیرت طیبہؐ کی روشنی پر تمام دنیا کو چلانا انکا منشا حیات ہے۔ آج مسلمانوں کو جتنا خطرہ اپنی مذہبی جہالت سے ہے ، اتنا خطرہ کسی اور طاقت سے نہیں ہے۔ آج مسلمان اپنے مذہب کی صحیح قدرو منزلت قدرو قیمت سیرت طیبہؐ کی روشنی میں جانتا اور مانتا  تو وہ نبی اکرمؐ کی شریعت کو اپنے اصول کو اپنے قانون کو اپنی تہذیب کو اپنے تمدن کو اور اپنی ہر چیز کو جان سے عزیز سمجھتا۔

آج مسلمانوں کی اخلاقی زندگی زبوں حالی کا شکار ہے ، کوئی ایسا عیب نہیں جو ان میں سرایت نہ کر چکا ہو، کوئی ایسی برائی نہیں جس میں وہ مبتلا نہ ہوں اور ایسی اخلاقی خرابی نہیں جو ان کی قومی بنیادوں کو کمزور نہ کر رہی ہو۔ زعماء اور رہنمایاں وقت خود ان کمزوریوں میں مبتلا ہیں کون ایسا رہبر ہے۔ جو ان کی عادات قبیحہ کے خوفناک نتائج سے واقف کرے۔

جو قوت وہ آج آپس کے لڑائی جھگڑوں اور خانہ جنگیوں میں صرف کر رہے ہیں کاش اس قوت و طاقت کو اپنی اصلاح و ہدایت میں لگاتے۔ اس اخلاقی تنزل کا نتیجہ ہے کہ مسلم قوم دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے،

پس ہمیں سیاسی ترقی کیلئے سب سے پہلے اپنی جہالت کو دور کرنا چائیے تاکہ اخلاقی جرأت پیدا ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں میں زیادہ سے زیادہ سیاسی بیداری پیدا کی جائے۔

مذاہب عالم میں صرف اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ سیرت طیبہؐ کی روشنی میں دین و دنیا روح و مادہ اور اخلاق و سیاسیات کو ایک ساتھ انتہائی بلندیوں تک پہنچنے کا موقع دیتا ہے۔ انسانوں کے بگڑے معاملات کی اصلاح صرف اس وقت ممکن ہے جبکہ مذہب کو سیاسی برتری بھی حاصل ہو اور حق و صداقت کو جاری کر کے اور باقی رکھنے کیلئے قوت انتظام بھی اس کے ہاتھ میں ہو تاکہ انصاف کے ساتھ حکومت کا قیام ہو۔دین اور سلطنت دونوں ایک دوسرے کو مضبوطی دیں لہٰذا آپ کی سیرت طیبہؐ جو اہمیت رکھی ہے۔ وہ کسی تفصیل کی محتاج نہیں۔

عصر جدید کے مسائل مشکلات مسلمانوں کے ایجاد کردہ سازو سامان میں پوشیدہ ہیں جن کی لپیٹ میں معاشرہ ملک و قوم الجھے ہوئے ہیں۔ وہ نظریات ہی در حقیقت مسلمانوں کے مسائل و مصائب ہیں۔ان کے مسائل میں بے بہار خود مختاری ہے جو انہیں باہمی تصادم سے دوچار کرتی ہے۔ ان کے مسائل میں مقصد زندگی سے نا آشنا ہونا ہے۔ ایک مسئلہ معیار اخلاق اور ضابطہ اخلاق سے بے خبری بھی ہے، حضور اکرمؐ نے امت مسلمہ کی وہ پائیدار علمی اور فکری اقدار دی ہیں جن کی مدد سے مسلمان اپنے مسائل سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔ وہ تمام اقدار قرآن و سنت کی تعلیمات پر نبی اکرمؐ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں اپنی پیروی میں مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...