گوردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی کے سیلاب میں تباہ ہو گئی تھی لیکن موجودہ عمارت کس نے بنوائی اور بابا گرونانک نے کتنی عمر یہاں گزاری؟ تفصیلات منظرعام پر

گوردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی کے سیلاب میں تباہ ہو گئی تھی ...
گوردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی کے سیلاب میں تباہ ہو گئی تھی لیکن موجودہ عمارت کس نے بنوائی اور بابا گرونانک نے کتنی عمر یہاں گزاری؟ تفصیلات منظرعام پر

  



نارووال  (این این آئی) سکھ مذہب کے بانی باباگورونانک نے اپنی عمر کے آخری 18سال کرتار پور گزارے اور یہیں وفات پائی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں سکھوں کے 2 مقدس ترین مقامات ہیں، پہلا جنم استھان ننکانہ صاحب،جہاں سکھ مذہب کے بانی باباگورونانک دیو جی کی پیدائش ہوئی اور دوسرا گوردوارہ دربار صاحب کرتاپور ہے جہاں باباگورونانک نے اپنی عمر کے آخری 18سال گزارے اور یہیں وفات پائی، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبر بنائی گئی ہے۔

گوردوارہ دربارصاحب کرتارپور سکھ مت کے ماننے والوں کا دوسرامقدس ترین مقام لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر اورپاک بھارت سرحد سے صرف 4کلومیٹر کی دوری پر واقع یہ ہے، گوردوارہ دریائے راوی کے کناریچھوٹے سے گاو¿ں کوٹھے پنڈ میں آبادہے، یہ گائوں ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں آتاہے، سفید رنگ کا یہ خوبصورت گوردوارہ دور سے دیکھنے میں ایک پرندیکی مانند لگتاہے۔گوردوارہ دربار صاحب کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ سکھ مت کے بانی باباگورونانک دیو جی نے اپنی عمر کے آخری 18سال گائوں کوٹھے پنڈ میں گزاریاور 22 ستمبر 1539ءکو یہیں وفات پائی، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبربنائی گئی ہے۔

گوردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی کے سیلاب میں تباہ ہو گئی تھی، موجودہ عمارت 1920 ءسے 1929 ءکے درمیان پٹیالہ کے مہاراجا سردار بھوپندر سنگھ نے تعمیر کرائی، 1995ءمیں حکومت پاکستان نے اس کی دوبارہ مرمت کی، جولائی 2004ءمیں یہ گوردوارہ مکمل طور پر بحال کر دیا گیا،گوردوارے کے باغیچے میں باباگورونانک کے زیرِاستعمال رہنے والا کنواں بھی ہے جسے سکھ عقیدت میں سری کھوہ صاحب کہتے ہیں۔تقسیم ہند کے وقت یہ گوردوارہ پاکستان کے حصے میں آگیا، تقریباً 56 سال تک سکھ زائرین اس کی زیارت کے منتظر رہے، انہوں نے بھارتی سرحدپر دور درشن استھان بنا رکھے تھے جہاں سے وہ دوربین کی مدد سیاس کا دیدار کیا کرتے تھے۔

سکھ برادری کئی دہائیوں تک راہداری کی تعمیرکا مطالبہ کرتی رہی، دونوں ملکوں کی پچھلی حکومتوں نے 1998ء، 2004ءاور 2008ءمیں راہداری کی تعمیر کیلئے ابتدائی بات چیت بھی کی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں بھارتی کرکٹر سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو سے اس سلسلے میں بات چیت ہوئی جس میں اس منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اعلان کیا گیا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /نارووال


loading...