آزادی مارچ سے ہماری جماعت کے نظریاتی اہداف کوتحفظ مل گیاہے، مولانا فضل الرحمان

آزادی مارچ سے ہماری جماعت کے نظریاتی اہداف کوتحفظ مل گیاہے، مولانا فضل ...
آزادی مارچ سے ہماری جماعت کے نظریاتی اہداف کوتحفظ مل گیاہے، مولانا فضل الرحمان

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مولانافضل الرحمان نے کہاہے کہ عدم اعتماد کا آپشن اصولی طور پر تو ہوسکتاہے لیکن سینیٹ الیکشن دیکھنے کے بعد ہم کیا قومی اسمبلی میں ایک نیا اصطبل لگانا چاہتے ہیں؟ آزادی مارچ سے ہماری جماعت کے نظریاتی اہداف کوتحفظ مل گیاہے۔

جیونیوز کے پروگرام ”جرگہ“میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں اپنے مقاصد کیلئے ملک گیر حمایت حاصل ہے ، تمام جمہوری قوتیں اس بات پر متفق ہیں کہ اس ملک کو آئین کے مطابق چلناچاہئے ، دھاندلی کے نتیجے میں بننے والی حکومت کوحق نہیں ہے کہ اس کوحق حکمرانی دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم آج سے میدان میں نہیں ہیں بلکہ ہم نوماہ سے 15ملین مارچ کرچکے ہیں۔ انفرادی طورپر مختلف حلقوں میں لوگوں نے عذر داریاں بھی داخل کی ہیں اوران پر فیصلے بھی آئے ہیں اور یہ عذر داریاں ثابت کررہی ہیں کہ بہت بڑی دھاندلی ہوئی لیکن جب اتنی بڑی تعداد میں فارم45پر دستخط نہ ہوں تو پھر عوام براہ راست نکلتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی پارٹی کواپنے طریقہ کار کاپابند نہیں بنا سکتے ، موقف جب ایک ہے تو پھر عوام تک پہنچا جاسکتا ہے ۔ شہبازشریف اور بلاول ہمارے مکمل ساتھ ہیں اور ہمارے موقف کوسپورٹ کررہے ہیں،اپوزیشن اب پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کو اس لئے تیار نہیں کہ لو گ کیا کہیں گے کہ آپ تو استعفیٰ لینے آئے تھے لیکن آپ نے خود استعفیٰ دیدیا ہے ۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کارکن قربانی دیا کرتاہے ، کارکنوںنے اپنے آپ کوخطرے میں نہیں ڈالابلکہ اس حکومت کوخطرے میں ڈالاہے ، میں خود اپنے کارکنوں کے ساتھ ہوں۔میرے کارکن جب سردی کی شکایت نہیں کررہے تو کوئی کیوں کررہاہے؟ میرے کارکن جس حالت میں ہیں اور میں جس حالت میں ہوں ، ہم راضی بازی ہیں توکسی اور کو کیا مسئلہ ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر گرفتاریاں ہوئیں تو پہلے میری ہوگی ، حکومت مجھ کو ایک سال سے گرفتار کررہی ہے ۔اگر میں فیصلہ کروں تو کارکن واپس چلا جائے لیکن ہم یہاں ایک مقصد لیکر آئے ہیں اور اگر میں واپس جانے کا کہہ دوں تو لوگوں کے جذبات کا بھی احساس کرناہے ، وہ جہاد کیلئے نکلے ہیں اور ایک غیر آئینی حکومت کو ہٹانے کیلئے نکلے ہیں۔ میر ا مقصد اسلام آباد نہیں بلکہ اسلام ہے ، اسلام آباد میرا اس لئے ہدف ہے کہ یہ میرا دارلحکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کا آپشن اصولی طور پر تو ہوسکتاہے لیکن سینیٹ الیکشن دیکھنے کے بعد ہم کیا قومی اسمبلی میں ایک نیا اصطبل لگانا چاہتے ہیں، تحریک جب چل پڑتی ہے تو پھر چلتی رہتی ہے ۔1977میں بھی دوتین ماہ تحریک چلی تھی اور اس کے بعد حکومت مذاکرات کی طرف آئی تھی ۔انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ سے ہماری جماعت کے نظریاتی اہداف کوتحفظ مل گیاہے۔

مزید : قومی


loading...