اپنے اپنے حصے کا عمل

اپنے اپنے حصے کا عمل
اپنے اپنے حصے کا عمل

  

اپریل 2002 ء کا ایک دن تھا مجھے ملتان سے لاہور آنا تھا لیکن جونہی میں ملتان بس اسٹیند پہنچا تو کوئی بس موجود نہ تھی وجہ معلوم کی تو پتہ چلا اگلے دن پرویز مشرف کا ریفرنڈم  ہے جس کے لئے پولیس گاڑیاں پکڑ رہی ہے اس لئے ٹرانسپورٹروں نے اپنی گاڑیاں چھپا دی ہیں اور کوئی گاڑی نہیں جارہی۔میں نے سوچا کہ ریلوے اسٹیشن جاتا ہوں پھر دل میں خیال آیا کہ اگر بسیں نہیں چل رہیں تو ٹرین میں تو پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں ہوگی اسی مخمصے میں واپسی کے لئے سوچ ہی رہا تھا کہ ایک شخص میرے قریب آیا اور اس نے کہا اگر لاہور جانا ہے تو میرے ساتھ آئیں وہ پیچھے ورکشاپ میں چھپا کر بس لگائی ہوئی ہے۔میں اس کے پیچھے  پیچھے چل پڑا اور ورکشاپ پہنچ گیا وہاں واقعی بس لگی ہوئی تھی جو آدھی سے زیادہ بھر چکی تھی اور اس کے فرنٹ پر ایک پولیس انسپکٹر اور ایک اسٹنٹ سب انسپکٹر بیٹھے تھے جن کے بارے میں لوگوں نے بتایا کہ یہ بس ان دونوں بھائیوں کی ہے اور یہ لاہور پولیس میں ملازم ہیں اس لئے یہ خود آگے بیٹھ کر بس لاہور لے جائیں گے اور کل ریفرنڈم کے بعد یہی بس شام کو لاہور سے ملتان  نارمل روٹین کا پھیرا لگائے گی۔بس بھر کر چل پڑی اب راستے میں ناکے پر جہاں بھی پولیس والے ہوتے وہ فرنٹ سیٹ پر دونوں پولیس والوں کو دیکھ کر جانے دیتے۔ملتان سے لاہور تک ہر بس سٹاپ پرسواریوں کا رش تھا جبکہ بس کے اندر ہر سیٹ پر لاہور کی سواریاں موجود تھیں صرف کھڑے ہونے کی جگہ تھی۔کنڈیکٹر ہر سٹاپ سے سواریاں چڑھانے اتارنے لگا۔بس چیچہ وطنی پہنچی تو وہاں سے ایک نوجوان لڑکی بس میں سوار ہوئی اتفاق سے وہ میری سیٹ کے قریب ہی کھڑی تھی معلوم کرنے پر اس نے بتایا کہ ساہیوال جانا ہے جو وہاں سے پینتالیس منٹ کا رستہ تھا میں نے اس کو اپنی سیٹ پر بٹھا دیا اور خود کھڑا ہوگیا۔

لڑکی بیٹھتے ہی موبائل پر سانپ والی گیم کھیلنے لگی۔چیچہ وطنی سے بس ہڑپہ پہنچی تو ایک ساٹھ پینسٹھ سالہ مرد اور عورت بس میں سوار ہوئے۔عورت بیمار تھی اس نے ہاتھ میں پیشاب کی تھیلی پکڑی ہوئی تھی اور بڑی تکلیف میں کھڑی تھی۔انہوں نے بھی ساہیوال جانا تھا جو بمشکل بیس منٹ کا سفر تھا۔عورت درد سے کراہ رہی تھی۔مجھے اس اماں جی کی حالت پر بڑا ترس آیا میں نے اپنی سیٹ پر بیٹھی لڑکی کو کہا کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے سیٹ اماں جی کو دے دیں بے چاری بڑی مشکل سے کھڑی ہیں۔ لڑکی نے اماں جی پر نظر ڈالی ان کے ہاتھ میں پیشاب والی تھیلی پر نظر پڑتے ہی اس کے چہرے پر ناگورای کے تاثرات ابھرے اور اس نے فوراً منہ پھیر کر اپنی نظریں موبائل پر جما لیں اور بے فکر ہو کر گیم کھیلنے میں مشغول ہوگئی جیسے سیٹ ہی اس کی ملکیت نہ ہو بس بھی اس کی ہو۔مجھے اس کے روئیے پر شدید غصہ آیا۔میں دل میں سوچ ہی رہا تھا کہ اسے کہتا ہوں میری سیٹ خالی کرے تو مجھے پیچھلی نشست پر بیٹھے ایک بڑے میاں جو یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے نے ہاتھ لگاتے ہوئے کہا ”بیٹا اس بیمار خاتون کو میری نشست پر بٹھا دو، میں ساہیوال تک میں کھڑا ہوجاتا ہوں“ اور کھڑے ہوگئے  میں نے ان کی نشست پر اماں جی کو بٹھا دیاجو دعائیں دینے لگی۔مجھے اپنی نشست پر بیٹھی لڑکی پر ابھی تک شدید غصہ تھا میں نے ان بزرگ کو کہا  دیکھیں میں نے ا س لڑکی کو سیٹ دے کر اس سے نیکی کی لیکن اس نے بیمار اماں جی کے لئے نشست خالی نہیں کی۔بزرگ نے بڑے تحمل سے مجھے انتہائی قیمتی الفاظ کہے ”بیٹا دنیا میں ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا،آپ دوسروں کی دیکھنے کی بجائے اپنے حصے کا  اچھا عمل کرو اور اس سے بدلے میں اچھا کرنے کی توقع رکھنے کی بجائے اسے بھول جاؤ اور یہ یقین کرلو کہ میں اپنے رب کو راضی کر رہا ہوں۔“

ان بزرگ کے ان الفاظ نے یکسر میرا سارا غصہ ٹھنڈا کردیا۔میں نے ان کے یہ سنہری الفاظ اپنی زندگی کا اصول بنا لئے جن کا مجھے ہمیشہ بہت فائدہ ہوا۔جب ہم کسی سے اچھا کرنے کے بعد بدلے میں اس کی امید لگا لیتے ہیں تو اکثر ہمیں مایوسی ہوتی ہے جس سے انسان مایوس ہو کر دوسروں سے بھلائی کرنے میں پہل نہیں کرتا۔ ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا۔ہر انسان کا ظرف الگ ہوتا ہے۔ اس لئے ہر انسان سے اچھائی کی امید نہیں لگانی چاہئے بس  انسان کو اپنے اپنے حصے کا عمل کرتے رہنا چاہئے۔انسان اگر بے لوث ہوکر دوسروں سے نیکی و بھلائی کرنے لگے تو اس سے اسے روحانی سکون بھی ملتا ہے اور رب بھی خوش ہوتا اور اگر وہ دوسروں سے اس کے بدلے ایسے عمل کی امید لگا لے اور انہیں آزمانے لگے تو پھر مایوس ہو کر اس کے اندر کا جذبہ بھی دھیرے دھیرے ماند پڑنے لگتا ہے اور ایک مفاد کا کھیل شروع ہوجاتا ہے۔  اس طرح انسان ہر عمل سے پہلے اس کا بدلہ سوچنے لگتا ہے اور اس طرح  ایک خود غرض معاشرہ بنتا جاتا ہے جس میں انسانیت سے محروم لوگ ایک دوسرے سے تعلق بناتے وقت اخلاص کو دیکھنے کی بجائے مفاد کو دیکھنے لگتے ہیں۔انسانیت کے جذبے پر خود غرضی کا جذبہ غلبہ پا لیتا ہے اور انسانی قدریں کمزور ہونے سے معاشرے اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یاد رکھیں بحیثیت فرد یہ سلسلہ تب ہی قائم رہ سکتا ہے اور آگے چل سکتا  ہے جب ہم اپنی اپنی ذات کی حد تک بغیر کسی مفاد اور بدلے کے اچھائی کے عمل میں پہل کرنے لگیں اور اپنے اپنے حصے کا عمل کرتے جائیں اور دوسروں سے ایسے عمل کی توقع رکھنے کی بجائے یہ یقین رکھیں کہ اللہ پاک ہمارا عمل دیکھ رہا ہے اور ہماری نےٗت سے بھی خوب واقف ہے اور اس سے بہتر بدلہ دینے والا کوئی نہیں۔ایک دوسرے کو دیکھنے کی بجائے جہاں اور جب موقعہ ملے انسانیت کی بھلائی کا اپنے حصے کا نیک عمل کرجائیں۔دوسروں کے کردار جانچنے کی بجائے اپنے کردار کی عمارت تعمیر کرتے جائیں اور اس میں نیک نیتی کی بنیاد،ایمانداری کی اینٹیں،خلوص کا پلستر،محبت کے دروازے اور اللہ کی رضا کی چھت ڈالتے جائیں یقین جانئے  کل کو آپ دفن تو دو گز زمین میں ہوں گے لیکن آپ کے کردار کی عمارت ایفل ٹاور بن کر ہمیشہ کھڑی رہے گی۔دنیا صحرا ہے اس صحرا کو اپنے اپنے حصے کے بہتر عمل کے پھولوں سے گلستان میں بدلنے کا اختیار ہمارے پاس ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -