پنجاب کی سستی روٹی کو مہنگا ”ٹیکہ“ لگا، حکومت نے ”درد“ چھپا لیا

پنجاب کی سستی روٹی کو مہنگا ”ٹیکہ“ لگا، حکومت نے ”درد“ چھپا لیا
پنجاب کی سستی روٹی کو مہنگا ”ٹیکہ“ لگا، حکومت نے ”درد“ چھپا لیا

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب حکومت کی سستی روٹی سکیم میں 35 کروڑ روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ دنیا نیوز کے مطابق آڈیٹر جنرل پاکستان کی طرف سے سستی روٹی سکیم کے بارے میں رپورٹ جولائی 2010ءمیں تیار کی گئی تھی جس میں لگائے گئے الزامات کا جواب دینے کے لئے سکیم کا پالیسی ساز محکمہ صنعت، سبسڈی رقوم کی ادائیگیوں کے ذمے دار محکمہ خوراک اور عمل درآمد کرنے پر مامور ضلعی حکومتوں میں سے کسی نے جواب نہیں دیا۔ آڈیٹر جنرل دفتر کی فائلوں میں دفن رپورٹ کے مسودے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سال 2008ءسے 2010ءتک کے 7 ارب 76 کروڑ روپے کے نمونے کے آڈٹ میں 35 کروڑ 60 لاکھ کی قابل اعتراض اور غیر قانونی ادائیگیاں سامنے آئی ہیں۔ مالی بے قاعدگیوں میں سے 19 کروڑ 90 لاکھ روپے کے آٹے کا مناسب ریکارڈ موجود نہیں ہے جبکہ فلور ملوں کو کی گئی ادائیگیوں میں ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسروں اور محکمہ خوراک کے ریکارڈ میں 8 کروڑ 75 لاکھ روپے کا بڑا فرق ہے۔ ملتان میں 346 کے علاوہ لاہور اور فیصل آباد میں گھوسٹ تندور پکڑے گئے لیکن ان کو حکمران سیاسی جماعت کے کارکنوں کی سفارش پر آٹا پھر بھی ملتا رہا۔ لاہور، فیصل آباد اور مظفر گڑھ کے پوش علاقوں کے کڑاہی تکہ اور فاسٹ فوڈ ریستوران بھی سوا دو کروڑ روپے کا سستا آٹا لے گئے اور تو اور عاشورہ محرم کی چھٹیوں اور ہڑتالوں کے دوران بھی آٹے کی کاغذی سپلائی جاری رہی۔ لاہور میں بیالیس فیصد تندور کم وزن روٹی کی فروخت سے دھوکہ دہی کے مرتکب ہوئے۔ سکیم پر دی گئی مجموعی سبسڈی کا 45 فیصد صرف لاہور میں خرچ کیا گیا۔ رپورٹ میں کرپشن کی نشاندہی کے ساتھ صوبائی حکومت کے حوالے سے پنجاب کے شہری علاقوں میں غربت کی شرح بیالیس اعشاریہ آٹھ فیصد ہونے کا حیران کن اعتراف بھی کیا گیا ہے۔ اپنے پیچھے شکوک و شبہات کی کئی کہانیاں چھوڑ کر سکیم ختم ہوگئی لیکن 25 ملازمین پر مشتمل سستی روٹی اتھارٹی اب بھی قائم ہے۔

مزید : بزنس