ہائیکورٹ نے پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں پر سیشن جج سے انکوائری رپورٹ طلب کرلی

ہائیکورٹ نے پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں پر سیشن جج سے انکوائری رپورٹ طلب کرلی
ہائیکورٹ نے پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں پر سیشن جج سے انکوائری رپورٹ طلب کرلی

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ہائیکورٹ نے ایک ہی روز میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں نو افراد کی ہلاکت سے متعلق مجسٹریٹ کو انکوائری سے روکتے ہوئے سیشن جج کو سات روز میں انکوائری کرکے رپورٹ جمع کروانے کاحکم دیدیا۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے مبینہ پولیس مقابلوں میں ہونیوالی ہلاکتوں کیخلاف کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیاکہ 18 ستمبر کو پولیس نے لاہور میں چوہنگ کے علاقہ میں تین،بوریوالہ میں تین اور رحیم یار خان میں بھی تین افراد کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیااور پنجاب پولیس نے قتل کو پولیس مقابلہ کا نام دیدیا حالانکہ قتل ہونیوالوں میں دوافراد ایسے ہیں جن کیخلاف پنجاب میں کہیں بھی مقدمہ درج نہیں۔ ہوم سیکرٹری نے عدالت کوبتایاکہ واقع کی جوڈیشل انکوائری متعلقہ مجسٹریٹ کررہے ہیں جس پرعدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو انکوائری سے روکتے ہوئے سیشن جج لاہور کو واقع کی سات روز میں جوڈیشل انکوائری کرکے رپورٹ جمع کروانے کاحکم دیدیا جبکہ ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سے انکوائری رپورٹ پانچ روز میں طلب کر تے ہوئے مزید سماعت 17اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ آئی جی پنجاب،ہوم سیکرٹری،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب،ایس پی سی آئی اور ایس ایس پی آپریشن پیش ہوئے ۔

مزید : انسانی حقوق