2005 کے زلزلہ زدہ علاقوںوعوام کا چشم دید احوال

2005 کے زلزلہ زدہ علاقوںوعوام کا چشم دید احوال
2005 کے زلزلہ زدہ علاقوںوعوام کا چشم دید احوال

  

8اکتوبر 2005ءپاکستان ہی نہیںبلکہ دنیا کی تاریخ کے لئے ایک المناک دن تھا،جب ہولناک زلزلے نے لگ بھگ ایک لاکھ پاکستانیوں سے زندگی چھین لی اور لاکھوںافراد کو زخمی و معذور کر دیا۔اس المناک سانحہ کو بیتے۷سال مکمل ہو چکے ہیں لیکن اس کے اذیت ناک زخم آج بھی تازہ ہیں۔زلزلہ میں متاثر ہونے والے علاقوں میں اسلام آباد کے بعد پہلا بڑا شہر ایبٹ آباد تھا، جہاں کئی بڑی عمارتیںگر گئی تھیں۔ اسلام آبادمیں تو صرف مارگلہ ٹاور گراتھا جس کو تھوڑے عرصے میں اٹھا دیا گیا ۔ ایبٹ آباد میںتقریباً سبھی عمارتوں کا ملبہ اٹھا کر نئی تعمیر کر دی گئی لیکن ایبٹ آباد ہائیکورٹ کی اس وقت کی عالیشان عمارت آج بھی نشان عبرت بنی پڑی ہے۔ ایبٹ آباد سے آگے بڑھیں تو ضلع مانسہرہ شروع ہو جاتا ہے۔ زلزلہ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ضلع مانسہرہ کا سیاحتی مقام3لاکھ آبادی کا شہر بالاکوٹ تھا جو صفحہ ہستی سے ہی مٹ گیا تھا۔بالا کوٹ میں داخل ہوں تو سب سے پہلے فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کا ہسپتال اور اس کی ایمبولینس استقبال کرتی ہے۔ زلزلہ زدگان کے لئے ملک بھر سے آنیوالے امدادی اداروں میں یہ واحد ادارہ یہاں رہ گیا ہے جوزلزلہ زدگان کو مفت طبی سہولیات مہیا کر رہا ہے۔ فلاح انسانیت ہسپتال سے روزانہ بیسیوں لوگ دوائی لیتے نظرآتے ہیں۔ اس سے آگے بڑھیں تو عارضی لیکن بڑی عمارت میں قائم گورنمنٹ ہائی سکول بھی سامنے آ جاتا ہے جس کے صحن میں 100کے لگ بھگ شہید بچوں کی قبریں یہاں آنے والوں کوآج بھی رلا دیتی ہیں۔ یہاںایک منزلہ چند سرکاری عمارتیں بھی اچھی طرز پر بنی ہیں لیکن باقی سارا شہر عارضی ہی نظر آتا ہے۔ یہاں اب پہلے کی طرح کوئی بلندعمارت تو کیا ایک منزلہ نئی پختہ عمارت بھی نہیں ہے کیونکہ اس پر پابندی عائد ہے۔ ۷سال بعد بھی یہاں ٹوٹے ہوئے گھر ، عمارتیں اور ملبہ وغیرہ دیکھا جا سکتاہے۔ اس وقت بالاکوٹ پہلے سے بھی بڑا تجارتی مرکز بن چکا ہے ۔ یہاںدن بھر گہما گہمی عروج پر ہوتی ہے کیونکہ کاغان اور ناران تک کے وہ لوگ جن کی زمینیں اور علاقے زلزلے میں ملیامیٹ ہو گئے تھے، آکر یہیں بس گئے ہیں ۔تھوڑی بلندی پر جا کر بالاکوٹ شہر پر نظر دوڑائیں تو ہر طرف پہاڑوں پر اور ان کے دامن میں سفید اور نیلے رنگ کے ایک جیسے ہزاروں عارضی گھروں کی ایک وسیع بستی نظر آئیگی۔ یہ تمام گھر سعودی عرب اور کچھ ترکی کی جانب سے لوگوں کو بنا کر دیئے گئے ہیں اور یہاں کے بیشتر لوگ اب انہی عارضی گھروں میں رہ رہے ہیں۔ دو چھوٹے چھوٹے کمروں، ایک چھوٹے سے کچن اور ایک باتھ روم پر مشتمل یہ گھر آج بالاکوٹ کی پہچان ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ شہر کی منتقلی کے چکر میں تا حال یہاں کوئی جدید ہسپتال اورمضبوط طرز پرکوئی تعلیمی ادارہ بھی نہیں بنایا جا سکا ۔حکومت نے زلزلے کے فوری بعدبالا کوٹ میں دوبارہ پختہ تعمیر پر پابندی عائد کر دی تھی اور اعلان کیا تھاکہ موجودہ شہر سے 23کلومیٹر دور ”بکریال“ کے مقام پر ”نیو بالاکوٹ سٹی“ تعمیر کیا جائے گا اورمتاثرین کو وہاں بسایا جائے گا۔ اعلان تو یہ تھا کہ حکومت نیا شہر جدیدخطوط پر خود تعمیر کرے گیاا ور متاثرین کو صر ف وہاں رہنے کیلئے بلایا جائے گا۔ اس کے لئے زمین بھی خریدی گئی،اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے افتتاح بھی کیا ،کام بھی شروع ہوا لیکن۷سال گزرے ”نیو بالاکوٹ سٹی“ کیا تعمیر ہوتا؟ اس کی طرف جانے والی چندکلو میٹر سڑک بھی نہ بن سکی اوراب یہ منصوبہ مکمل طور پر کھٹائی میں جا چکااور بند ہو چکا ہے۔ دوسری طرف لوگ حکومت کی دیکھ دیکھ کر جب تھک ہار گئے تو انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت جہاں جگہ ملی، گھر بنانے شروع کر دیئے۔بالاکوٹ کے لوگ آج بھی سب سے زیادہ اسی بات پر شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ انہیں حکومت نے نہ ادھر کا چھوڑاہے نہ ادھر کا .... نہ یہاں نئی تعمیرات کرنے دیتے ہیں اور نہ نئی جگہ کا کچھ انتظام کیا گیا۔ اب جائیں تو کہاں جائیں....؟ اس کے ساتھ ساتھ زلزلے سے تباہ ہونے والے 5ہزار سے زائد سکولوں میں سے اب تک بمشکل چند سو ہی تعمیر ہو سکے ہیں ،ان میں سے تو اکثر بیرونی دنیا نے بنائے ہیں جن میں ترکی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سب سے نمایاں ہیں۔یہی ممالک سارے متاثرہ علاقوں میں صحت عامہ کے اور تعلیمی ادارے بنا رہے ہیں۔بالاکوٹ سے گڑھی حبیب اللہ پہنچیں تو یہاں صورتحال نسبتاً بہتر ہے۔ یہاں بہت سے لوگوں نے اپنے گھر خود ہی بنائے ہیں اور کچھ ادارے بھی بن گئے ہیں ۔ گڑھی حبیب اللہ سے مظفر آباد تک سڑک کی تعمیر نو کا کام آج کل جاری ہے جو کہ اہل علاقہ کے لئے سب سے بڑی خوشخبری ہے۔آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد زلزلے میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والے علاقوں میں سے ایک تھا۔ یہاں اموات بھی بہت زیادہ ہوئی تھیں۔ گزشتہ ۷سالوں میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام یہیںہوئے ہیں۔ ترکی نے حکومتی سیکریٹریٹ اور ایک عالیشان مسجد تعمیر کی ہے۔ سعودی عرب نے یونیورسٹی اوربڑا ہسپتال بنایا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی جدید ہسپتال بنایا گیا ہے ۔ سکولوں اور کالجوں کی تعمیر نو بھی انہی ممالک کی جانب سے کی جاری ہے۔ اکثر لوگوں نے جیسے تیسے گھردوبارہ تعمیر کر لئے ہیں لیکن بہت سے متاثرین ابھی تک خیموںاور فائبر گلاس کے عارضی گھروں میں رہ رہے ہیں۔یہا ں بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے عطیہ کردہ ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے عارضی گھر ہر طرف نظر آتے ہیں۔شہر کی صفائی کی صورتحال انتہائی ناقص ہے۔ بیشتر سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ دریائے نیلم کے پل پر پہنچیں تو سیدھاسامنے ۵سال پہلے جلنے والے جماعة الدعوة کے بڑے ہسپتال کا ڈھانچہ آج بھی موجود ہے اس سے 7کروڑ کا نقصان ہواتھا اورزلزلہ زدہ اہل کشمیر علاج معالجے کی ایک جدید ترین سہولت سے محروم ہو گئے۔یہاں زلزلہ متاثرین کے لیے لائی گی 70لاکھ کی سی آرم مشین بھی جل گئی تھی جس کی خریداری کے لئے دس لاکھ روپے میاں نواز شریف نے بھی دیئے تھے۔ حکومتی وعدوں کے باوجود یہ ہسپتال دوبارہ نہیں بنا۔ یہ بات بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی دینی اور مذہبی جماعتیںزلزلہ زدگان کے لئے امدادی کام میں پیش پیش تھیں ۔ایدھی فاﺅنڈیشن، الخدمت فاﺅنڈیشن ،صفہ ویلفیئر، المصطفےٰ ٹرسٹ، اسلامی دعوت، الرحمت ٹرسٹ ، منہا ج ٹرسٹ، الاحسان ویلفیئر فاﺅنڈیشن اور دیگر اےسے ہی بے شمار اداروں کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی پارٹیوں کے لوگ بھی متحرک رہے تھے لیکن موثر اور تیز رفتار امدادی کام کے حوالے سے جماعة الدعوة کی گواہی آج بھی دنیا دیتی ہے۔ جس کے لگ بھگ40ہزار کارکنان نے کئی ماہ تک دن رات خدمات انجام دیں اور اربوں روپے کا سامان اور نقد امداد تقسیم کی ۔اس وقت مظفرآباد میں ایک بڑا پل تعمیر کیا جا رہا ہے جس سے ٹریفک کی روانی میں کافی سہولت پیدا ہوگی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں بھی تعمیر نو کے تقریباًسبھی کام دوست مسلم ممالک نے کئے ہیں۔ حکومت کا پہلا کام تو سڑکوں کی تعمیر نو تھاجوابھی ویسے کا ویسا ہی ہے۔ سڑکوں کی تکلیف دہ اور دردناک صورتحال دوردراز کے دیہات اور آبادیوںتک بلکہ سارے آزاد کشمیرمیں ایک جیسی ہی ہے۔     ٭

مزید :

کالم -