ملک کو نظر بد سے بچائیں

ملک کو نظر بد سے بچائیں
ملک کو نظر بد سے بچائیں

  


آپ سب کو یاد ہوگا جب سابق صدر بش نے پہلا اور آخری سفر دبئی کا کیا، شام کا وقت تھا،بش کا جہاز لینڈ کیا،بش نے جب جہاز سے اُترتے ہوئے سیڑھی پر پہلا قدم رکھا۔ جگمگاتی دبئی کی چمک دیکھ کر بش چونک گیا۔یہ وہ نظر تھی جو پتھر کو بھی پاش پاش کردیتی ہے۔اُس کو کہتے ہیں نظر بد، بش کو ویلکم کیا گیا۔ انگریز اکثر دبئی کو اپنا دل کہتے ہیں ،مگر بش نے دل میں کہا ،میں دبئی کو چکنا چُور کردوں گا۔یہ بات یا خیال بش نے اپنے ذہن میں بٹھا لی، جب بش اپنا پہلا اور آخری وزٹ کرکے دبئی سے واپس گیا تو چند دنوں کے بعد دبئی کے بینکوں سے تمام پیسہ نکلوالیا اور بڑی بڑی کمپنیاں برباد ہوگئیں،تمام بلڈرز انڈ ر گراﺅنڈ ہوگئے اور کچھ پیسہ لے کر دبئی سے فرار ہوگئے،دیکھتے ہی دیکھتے چھوٹا سا خوبصورت جگمگاتا ملک مقروض ہوگیا اور ابوظہبی نے اُسے سہارا دیا لیکن ابھی تک دبئی کی وہ رونقیں بحال نہیں ہوپائیں جو کہ سابق صدر امریکہ بش کی نظر نے برباد کیا۔پاکستان خوبصورت ترقی پذیر ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔اُس ملک میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اِس کی فوج اِس کو سنبھال کے رکھتی ہے۔فوج نے پاکستانیوں کو دشمنوں کی نظر سے اِس طرح بچایا ہوا ہے ،سنبھالا ہوا ہے جیسے مرغی اپنے پروں کے نیچے اپنے بچے کو سنبھالتی ہے۔ اگر کسی فوجی سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو وہ اُسے معاف نہیں کرتے،ایک دم نہیں اُس کو فائر کرنے میں 3سے4 ماہ لگا دیتے ہیں اور ظاہر بھی نہیں ہونے دیتے کہ ہم تمہیں جس جرم کی سز ا دے رہے ہیں،فوج نہ ہوتی تو یہ ملک کسی دشمن کے وار کا شکار ہوچکا ہوتا،بات کرتے ہیں ملک کے صدر زرداری کی ،کوئی کچھ بھی کہے ماننا تو پڑے گا کہ صدر زرداری بہت بڑے سیاست دان ہیں،صدر زرداری کی سیاست نے دھیرے دھیرے بہت پرانے اور بہت سارے کرپٹ سیاست دانوں کے چہروں کو مٹا دیا، صدر زرداری شیشے کے گھر میں بیٹھ کر سونے کی کانوں کو لوٹنے والوں اور غربت میں تڑپنے والوں کے نظارے کرتے رہتے ہیں۔صدر زرداری کی سیاسی تربیت میں کچھ اُصول فوج کے بھی لگتے ہیں۔زرداری صاحب فوج سے کچھ سیکھ رہے ہیں اور 4سال سے حکومت کررہے ہیں۔ایک دن ایسا ہوا کہ سابق وزیراعظم گیلانی نے زرداری صاحب کو ملتان میں دعوت دی جو کہ قبول کرلی گئی۔ملتان شیشے کی پچی کاری کے حوالے سے تو ویسے ہی مشہور ہے صدرزرداری کا جہاز جب ملتان میں لینڈ کیا تو اُس شیشے کی چمک کے ساتھ ہیرے نما موتیوں بھرا ایک محل نظر آیا،پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا سے نرالا یہ محل سابق وزیراعظم گیلانی صاحب کا گیلانی ہاﺅس تھا۔ صدر زرداری صاحب نے دل میں ٹھان لی کہ میں گیلانی صاحب کو ضرور فارغ کردوں گا،لہٰذا اُنہوں نے محب وطن فوجیو ں کا ایک اُصول اپنالیا کہ بندے کو تین سے6ماہ کے اندر ہٹا دینا ہے،دھیرے دھیرے زرداری صاحب نے پروف اکٹھے کئے ہوں گے اور اُنہوں نے گیلانی صاحب کو اُن کے دور کے آخری مہینے میں اُنہیں خوب دل پذیرائی دی۔ایسا لگ رہا تھا کہ آنے والے برسوں میں ملک کے ہیرو بن جائیں گے لیکن عقل مند ی زرداری صاحب کی یہ دیکھیں کہ اُنہیں بڑی صفائی سے وزیراعظم کی سیٹ سے ہٹادیا گیا۔سیٹ سے ہٹانے کے بعد اُنہوں نے اِس ہیر وکو اپنا مہمان بھی بنائے رکھا ۔ یہ صدارتی مہمان صدر صاحب کے لئے رحمت کی بجائے زحمت بن گیا اور پھر اُنہیں اِس گھر سے بھی نکال دیا گیا،کسی کو آباد کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے اور برباد کرنے کے لئے چند گھنٹے یا چند مہینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ صدر زرداری بہت بڑے سیاست دان ہیں،آسرا بھی دیتے ہیں اور سیڑھی بھی کھینچ لیتے ہیں،آپ نے دیکھا ہوگا کہ ماضی میں جتنے سیاسی برج گرائے یا زمین دوز کئے، اُن میں کوئی نہ کوئی خامی ضرور تھی،اُنہیں پیار بھی کرتے تھے،سیاست کا بڑا بھائی بھی کہتے تھے اور سیاست کا بزرگ بھی سمجھتے تھے مگر اُن کی رسوائی بھی کرجاتے تھے۔اِس ملک کا بوجھ جب ایک صدر پر پڑتا ہے تو یہ بوجھ صدر کو اکیلے ہی نہیں اُن کے ساتھ عوا م کو بھی اُٹھانا پڑتا ہے۔عوام کا بوجھ تو صدر اُٹھا ہی لیتا ہے مگر دشمن ممالک کا بوجھ اُٹھانا بڑا مشکل ہے۔ ہمارے ملک کو بھی بش کی نہیں بلکہ کرپشن کرنے والے سیاست دانوں کی نظر کھا رہی ہے جس کو ہم سب نے مل کر بچانا ہوگا اور عوامی حکومت کو ہی چناﺅ میں لانا ہوگا تاکہ دبئی کی طرح برباد نہ ہوں بلکہ ملائیشیا کی طرح آباد رہیں۔      ٭

مزید : کالم