اس جہاں سے بہتر جہاں ۔۔ ناممکن ہے

اس جہاں سے بہتر جہاں ۔۔ ناممکن ہے
اس جہاں سے بہتر جہاں ۔۔ ناممکن ہے

  

 وہ میرا ایک خاصا پڑھا لکھا دوست ہے مگر میں سمجھتا اور اس کے منہ پر بھی برملا کہتا ہوں کہ اس نے پڑھ لکھ کے گنوایا ہی ہے ، وہ کہتا تو نہیں مگر بہت سارے دوسرے لوگوں کی طرح نماز کو وقت، زکوٰة کو پیسے اور حج کو وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع سمجھتا ہے ۔ ہم میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو زبان سے چاہے نہ کہیں مگر عملی طور پر سمجھتے ہیں کہ اگر وہ دن میں پانچ وقت نماز کے لئے جائیں گے تو اس سے وہ اپنی کام کی روٹین کو خراب کر لیں گے اور یہی وجہ ہے کہ جب اذان ہو رہی ہوتی ہے تو وہ حی علی الصلوٰة اور حی علی الفلاح کی دعوت کو نظرانداز کر کے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ خیر میرے انہی دوست کا انڈیا اور پھر سری لنکا سے میچ ہارنے پر تبصرہ تھا کہ اگر دعاو¿ں سے ہار جیت کے فیصلے ہونے ہوتے تولاکھوں لوگوں کی دعائیں رد کیوںہوتیں۔ یہ ایک عجیب و غریب نقطہ نظر ہے جو کبھی کبھی نجی محفلوں میں پیش کیاجاتا ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم مسلمان ہیں تو لازمی طور پر ہماری مدد کے لئے فرشتے نازل ہونے چاہئیں، ہمیں دعاو¿ں کے ذریعے ہی کامیابیاں مل جانی چاہئیں، آج دنیا میں امریکہ کی بجائے کسی اسلامی ملک کو سپر پاور ہونا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ قادر و عادل کا جہاںہے تو یہاں غریب پرظلم کیوںہوتا ہے ، ہاری ساری زندگی جاگیردار کے گودام غلے سے بھرنے میں کیوں صرف کر دیتاہے، غریب کی بچی کی عزت لٹے تو اسے انصاف کیوں نہیںملتا،کہیں قحط اور کہیں بیماریوں کے حملے کیوں ہوتے ہیں، مارکیٹ اکانومی کی بجائے سوشلزم کیوں نہیں، دنیا کے تمام وسائل دنیا کے تمام لوگوں میں یکساں تقسیم کیوں نہیں ہیں، رب العالمین کرپٹ اور گندے کردار کے مالکوں کو حکمران کیوں بنا دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زمانہ خراب ہے اور جب ان کے سامنے یہ حدیث قدسی پیش کی جاتی ہے کہ زمانہ تو میری ( یعنی میرے رب) ذات ہے ، زمانے کوبرا نہ کہو تو انہیں سطحی علم اورنظر رکھتے ہوئے اس کی سمجھ نہیں آتی۔ وہ حیران پریشان سوچتے ہیں کہ اگر زمانہ رب کی ذات کا نام ہے تو کیا ناانصافی بھی رب العالمین کی طرف سے ہے۔  یہاں مایوسی اور ناشکرے پن کا گھن چکر شروع ہوتا ہے ، انسان مایوس ہو کے ایسی باتیں سوچتا اور ایسی باتیں سوچ کے مایوس ہوتا ہے ۔ اسی لئے نسخہ کیمیا میں درج ہے کہ انسان کو اپنے رب سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔جب اس ایشو پر بات ہوئی تو میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو جو لوگ نمازپڑھتے، زکوٰة ادا کرتے اور سنت رسول پر عمل کرتے ہوئے داڑھی رکھ لیتے ہیںتو دنیا کو ان کے سامنے سرنڈر کرجانا چاہئے۔ ان کی زندگیوں اور کاروباروںکو فوری طور پر عروج پر پہنچ جانا چاہئے، ایسے نیک لوگوں کو ہی وعدے کے مطابق دنیا میں حکومتیں ملنی چاہئےں۔ میری اس اعتراض کے خلاف دلیل تھی کہ اگر سو فی صد نہ سہی، نیک اعمال کا پچاس فیصد معاوضہ ہی دنیا وی کامیابیوں کی صورت میں یقینی بنا دیا جائے تو ہم لوگ اسے ایمان سے زیادہ کاروبار بنا لیں گے۔ ہم عبادتوں کی جمع تفریق دنیاوی کامیابیوں کے ساتھ کریں گے اور جب گھاٹا ہونے لگے گا تو عین کاروبار کی طرح ہی اس سودے کو کینسل کر دیں گے جبکہ ایمان تو حضرت رابعہ بصری کے اس فعل کی طرح ہونا چاہئے جب وہ ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے میں پانی لے کر دوڑیں ،استفسار پر فرمانے لگیں کہ اگر عبادت دنیا ایک طرف جنت کے لالچ میں بھی ہے تو ایسی جنت کو آگ لگا دینا چاہتی ہوںاور اگر یہ دوزخ کے خوف سے ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اس پر پانی بہا کے بجھا دوں اور یہی اصل ایمان ہے ۔ ہمیں اپنے ایمان ،عبادتوں اور دعاو¿ں کو ایک دو کرکٹ میچوں میں کامیابی کے پلڑے میں ڈال کر نہیں تولنا چاہئے۔ میں نے اس سے کہا کہ ہم میں سے بہت لوگ اپنے زمانے کو برا اور اپنے سے پہلے زمانے کو بہت اچھا سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس دور کے نوجوانوں میں سے بزرگوں کے لئے احترام اور آپس میں شرم وحیا ختم ہوتی چلی جا رہی ہے ، بے ایمانی اور دھوکے بازی ہمارا وتیرہ ہو چکا ہے مگر میرا کہنا یہ ہے کہ یہ شکایت تو ہر دور کے بزرگوں کو رہی ہے ، میں نے انہیں مثال دی کہ حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا ظریفانہ کلام پڑھ کے دیکھیں ، اکبر الہ آبادی کی شاعری کو دیکھیں وہ اس زمانے میں تھے جسے اب ہم مثالی سمجھتے ہیں مگر انہیں اس بہترین دور میں بھی نئی تہذیب کے انڈے گندے نظر آتے تھے، وہ شکوہ کنا ں تھے کہ شاگرد اساتذہ کا احترام نہیں کرتے، دل پیش کرنے کی بجائے بل طلب کرتے ہیں، وہ تب بھی کہتے تھے کہ ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں، جنہیں پڑھ کے بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں۔ اب اگر برائی کو ہی دیکھنا ہے تو ہابیل اور قابیل کے دور میں کون سا انٹرنیٹ اور کون سی کیبل تھی مگر اس دور میں بھی شیطان نے جس کو بہکانا تھا بہکا دیالہذا میں سمجھتا ہوں کہ زمانہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا اورایسا ہی رہے گا۔ مگر اس پرسوال یہ ہے کہ اگر یہ دنیا ایسی ہے تو ایسی کیوں ہے تواس کا جواب یہ ہے کہ یہ دنیا تو دارالامتحان ہے ۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو پورا سلیبس دے دیا جائے، سوالوں کے درست جواب بتاتے ہوئے غلطیوں کی نشاندہی بھی کر دی جائے لیکن ا گر آپ اس کے باوجود غلط جواب دیتے اوراس پر اصرار کرتے ہیں تواس غلطی کا پتا تو آپ کو نتیجے والے دن ہی چلے گا۔ دوسرے میں اس چیز کا پوری طرح قائل ہوں کہ میرے رب نے اس دنیا کو بہترین طور پربنایا ہے اور اگرہم اسے امتحان گاہ کہتے ہیں تو اس سے بہتر امتحان گاہ کوئی ہو ہی نہیں سکتی، ہاں یہاں پر نیک اور ایماندار لوگوں کی جگہ کرپٹ، نااہل اور بدکردار لوگ حکمران ہیں، ہاں یہاں غریبوں پر ظلم ہوتا ہے ، ہاں یہاں وسائل کی تقسیم منصفانہ نہیں ہے ، ہاں تم انڈیا کے مقابلے میں دعائیں کرنے کے باوجود ہمیشہ میچ ہار جاتے ہو تو کیا پھر بھی تم اپنے رب پر ایمان لاو¿ گے، یہی تو اصل امتحان ہے ، اگر یہ دنیا ایسی نہ ہوتی تو ہم سب کا امتحان کیسے ہوتا؟ ہاں کچھ اصول ضرور ہیں جن پر عمل کر کے آپ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور وہ اصول بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ اگر پاکستان اپنی کسی حد تک کارکردگی پر او رکسی حد تک بائی چانس سیمی فائنل میں پہنچ گیا مگر کیادوسرے سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز کی تباہ کن کارکردگی دیکھنے کے بعد یہ کہا جا سکتا تھا کہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی کا فائنل جیت جائے گا۔ ہم لوگ اگر آج دنیا میں رسوا ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے عبادات اور معاملات دونوں میں ہی ڈنڈی مارنی شروع کر دی ہے ۔ جب ہم عبادت کرتے ہیں تو ہر چیز دعا پر چھوڑ دیتے ہیں، دوا نہیں کرتے ، یہ بھی ایک قسم کی انتہا پسندی ہے ، ہمارے نصاب میں لکھا ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے اور اتنا ہی ملتا ہے جتنی وہ کوشش کرتا ہے ۔دوسری طرف کئی دوا پر یقین رکھتے اور دعا کو بے فائدہ سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ کافرو ں کو دنیا بھر کی نعمتیں کیوں مل گئیں تو ہمیں علامہ اقبال کی شکوہ اور جواب شکوہ دونوں ہی پڑھ لینی چاہئیں۔ ہمیں جان لینا چاہئے کہ اگر رب چاہتا تووہ اپنی اس دنیا کو مومنین سے بھر دیتا مگر کیا اس طرز پر پہلے فرشتے موجود نہیں تھے اور اس نے اپنی دنیا کو فرشتوں نہیں انسانوں سے آباد کرنا تھا۔ہمیں یہ بھی جان لینا چاہئے کہ وہ رب العالمین ہے ، درست کہتے ہیں کہ علمائے کرام کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے رب المسلمین کا لقب کہیں بھی اختیار نہیں کیا۔ ہاں اس نے اس دنیا میں آباد انسانوں کو دنیاوی اور اخروی دونوں کامیابیوں کا سلیبس ضرور عطا کر دیا ہے ، جو اس کے جس باب کو جتنا پڑھتا، سمجھتا اور عمل کرتا ہے ، اسی کے مطابق اتنی ہی کامیابی سے ہم کنار کر دیا جاتا ہے ۔مجھے یہاں گجرات کے ایک عالم دین کی کتاب میں دی ہوئی دلیل یاد آ رہی ہے انہوں نے فرمایا کہ انہیں اس دنیا کے معاملات چلانے کے حوالے سے ہزاروں شکائتیں ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ یہاں انصاف اور مساوات کا بول بالا ہونا چاہئے مگر اچانک ہی ان کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ اگر وہ ایک ایسی ہی دنیا تشکیل دیتے جو ان کے بندوں کے لئے دارالامتحان ہوتی تو وہ کیا اس سے بہتر امتحان گاہ اور اسلام سے بہترین نصاب دے سکتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے بہت سوچا، پوری دنیا کے وسائل پوری دنیا کے لوگوں میں یکساں تقسیم کر کے، صرف اہل ایمان کو دنیاوی کامیابیوں سے نوازنے تک اب تک سامنے آنے والا ہر فارمولہ لاگو کر کے دیکھاتو جانا کہ رب کے اس جہاں سے بہتر جہاں بنایا ہی نہیں جا سکتا، رب کی اس تقسیم سے بہتر تقسیم کی ہی نہیں جا سکتی۔

مزید : کالم