پیپلزپارٹی کے نئے احتساب بل کا مقدر بھی پرانے بل والا ہو گا؟

پیپلزپارٹی کے نئے احتساب بل کا مقدر بھی پرانے بل والا ہو گا؟
پیپلزپارٹی کے نئے احتساب بل کا مقدر بھی پرانے بل والا ہو گا؟

  


پاکستان پیپلزپارٹی نے بالآخر اپنی مرضی کا احتساب بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا ،اس پر حزب اختلاف مسلم لیگ (ن) نے تو اعتراض کیا خود حکومت کی اتحادی جماعت اے این پی نے بھی احتجاج کیا ہے اور موقف اختیار کیا کہ اہم امور پر اے این پی کے ساتھ مشاورت نہیں کی جاتی ۔یہ مسودہ قانون پہلے سے زیر التواءاحتساب بل کی جگہ لایا گیا ہے جس پر اتفاق رائے نہیں ہو پا رہا۔ وفاقی وزیر قانون کے مطابق پہلا بل واپس لے لیا گیا ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے جو اس وقت صدارت کررہے تھے، قواعد کے مطابق غور کے لئے یہ مسودہ قانون مجلس قائمہ برائے قانون و پارلیمانی امور کو بھیج دیا ہے، اب باقی بحث اسی فورم پر ہو گی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ حزب اختلاف کی طرف سے سابقہ احتساب بل پر مجلس قائمہ کی رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور موقف اختیار کیا کہ پہلے احتساب بل پر بحث مکمل ہو چکی تھی اور رپورٹ پیش ہونا تھی حالانکہ نہ صرف وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ بلکہ خود قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے بھی کہا تھا کہ مسودہ قانون پر اختلاف موجود ہے اور زیادہ دو شقوں پر ہے۔ ایک احتساب کی مدت اور دوسرے چیئرمین کے تقرر پر ، لیکن اب کہا گیا کہ اتفاق رائے ہو گیا۔ گزشتہ دنوں قمر زمان کائرہ نے کہا تھا کہ پرانا بل سادہ اکثریت سے منظور کرایا جاسکتا ہے لیکن حکومت اتفاق رائے چاہتی ہے۔ اب جو مسودہ پیش کیا گیا ہے اس پر تو اتفاق رائے مشکل ہے۔ پیپلزپارٹی کو یہ اپنے اتحادیوں کو منا کر ہی منظور کرانا ہو گا۔ نئے مسودہ قانون میں زیادہ تبدیلی نظر نہیں آتی تاہم اس میں ایک شق ضرور شامل کی گئی ہے کہ 2002ءسے مقدمات میں استثنیٰ ہو گا۔ حزب اختلاف کو یہ شق منظور نہیں ہو گی اس لئے اس بل کا مقصد بھی پرانے بل والا ہی نظر آتا ہے کہ مجلس قائمہ میں مخالفت بائیکاٹ اور واک آﺅٹ ہو گا اور پھر اگر منظور بھی ہوا تو معمولی اکثریت سے ہو سکے گا۔ بادی النظر میں لگتا ہے کہ اس مسودہ قانون کو بڑی ہنر مندی سے تیار کیا گیا اور کوشش کی گئی ہے کہ عدالت عظمیٰ کی طر ف سے لئے گئے نوٹس کو قانونی طریقے سے بے اثر کردیا جائے ۔اس سلسلے میں اطلاعات یہ ہیں کہ اگر یہ بل منظور ہو بھی گیا تو ”عدالتی فعالیت“ والے حضرات اسے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیں گے۔ جہاں تک عدالت عظمیٰ کا تعلق ہے تو صورتحال بہت واضح ہے، ابھی گزشتہ روز ہی گمشدہ افراد کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے سخت ریمارکس دیئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آسمان گرے یا پہاڑ ٹوٹے عدلیہ آئین کے تحت چلے گی۔ گمشدہ افراد اور بلوچستان کے حالات اور ٹارگٹ کلنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے صوبائی حکومت کو خبر دار کیا کہ وہ اپنے فرائض ادا کرے کہیں ایسا نہ ہو کہ عدلیہ کو کوئی ایسا حکم دینا پڑ جائے جس سے ن ہ صرف صوبائی حکومت جائے بلکہ اس کے ساتھ دوسری حکومت بھی جا سکتی ہے۔ غالباً یہ اشارہ وفاقی حکومت ہی کی طرف ہے اور صوبائی حکومت کو انتباہ آئین ہی کے حوالے سے کیا گیا کہ آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔انہی حالات میں گزشتہ روز سینٹ میں بہت احتجاج ہوا۔ حکومت اور حکومت کے اتحادی سینیٹروں نے سینٹ کے قائد ایوان جہانگیر بدر کی اسلام آباد رہائش (پنجاب ہاﺅس کا کمرہ) پر چھاپہ مارنے پر سخت احتجاج کیا۔ بتایا گیا کہ ایف آئی اے ،پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس کی مشترکہ ٹیم نے یہ چھاپہ مارا اور جہانگیر بدر کے کمرے کی تلاشی لی۔ یہ کارروائی اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق کی گرفتاری کے لئے کی گئی جو جہانگیر بدر کے برادر نسبتی ہیں۔ جہانگیر بدر کا موقف واضح ہے کہ ان کا تعلق کسی بھی مجرم یا ملزم سے نہیں ہے۔ اگر کسی کی گرفتاری مقصود ہے تو اسے گرفتار کیا جائے ،مگر بلا اجازت پنجاب ہاﺅس میں داخل ہو کر ان کے کمرے پر چھاپہ مار کر ان کا استحقاق مجروح کیا گیا ہے۔ توقیر صادق کا مسئلہ الجھتا جا رہا ہے۔ ان کی گرفتاری کے لئے پہلے ہی گورنر پنجاب اور صوبائی وزیر قانون کے د رمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہو چکا ہے اور اب تو یہ الزام بھی لگا دیا گیا کہ توقیر صادق گورنر ہاﺅس ہی میں تھے، ان کو فرار کرا دیا گیا ۔اس سلسلے میں جہانگیر بدر کے بڑے صاحبزادے علی بدر کا نام بھی لیا گیا اور کہا گیا ہے کہ نیب ان سے بھی پوچھ گچھ کرے گی۔ یہ صورتحال کسی بھی طرح خوش کن نہیں، ایک طرف حکومت اور دوسری طرف مختلف اداروں کا رویہ ہے۔ تو قیر صادق کی گرفتاری کا حکم چیف جسٹس نے دیا، اس سے پہلے جہانگیر بدر کا نام نہیں لیا گیا تھا حالانکہ توقیر صادق کا ان کے ساتھ رشتہ ڈھکا چھپا تو نہیں۔ جہانگیر بدر کا موقف واضح ہے کہ ان کا ملزم کے کسی فعل سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ وہ کسی صورت اس کی گرفتاری میں مزاحم ہیں۔ یہ تو متعلقہ اداروں ہی کا کام ہے کہ وہ ان کو پکڑیں، یہ لوگ ا پنی نااہلی چھپانے کے لئے منتخب ایوانوں کو بدنام کررہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سینٹ میں بات کا رخ تبدیل ہوا اور عدلیہ کا رویہ بھی زیر بحث آیا اور کہا گیا کہ منتخب ایوانوں کی بے توقیری کی جا رہی ہے۔ اس سے ایک مرتبہ پھر محاذ آرائی کا تاثر ملا لیکن یہ اب صرف پیپلز پارٹی کا مسئلہ نہیں۔ دہری شہریت کے باعث تمام اتحادیوں کا ہے اور دوسرے اراکین بھی در پردہ باتیں کررہے ہیں۔ یوں پھر حکومت مخالف صحافی کی بات میں وزن آ جاتا ہے جو حکومت کو گرانے کے لئے عدلیہ کے کردار کی بات کرتے ہیں اور پھر پچھلے دنوں جب یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ملک میں پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں، فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں اور ملک میں بنگلہ دیش ماڈل آ چکا ہے۔ متعلقہ صحافی نے اس کی تشریح یہ کی کہ یوسف رضا گیلانی کی مراد یہ ہے کہ عدلیہ اور مسلح افواج مل کر سب کچھ کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال بہتر نہیں۔ اب پھر بال منتخب نمائندوں کی کورٹ میں ہے، انہیں چاہیے کہ وہ مل بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کریں ۔ محاذ آرائی ختم کرکے جمہوریت اور اداروں کو مضبوط کریں۔ 

مزید : تجزیہ