سپریم کورٹ نے خط کے معاملے میں لچک دکھائی : اعتزازاحسن

سپریم کورٹ نے خط کے معاملے میں لچک دکھائی : اعتزازاحسن
سپریم کورٹ نے خط کے معاملے میں لچک دکھائی : اعتزازاحسن

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بیرسٹراعتزازاحسن نے کہاہے کہ این آر او عمل درآمد کیس میں سپریم کورٹ نے لچک دکھائی ہے جو خوش آئندبات ہے اور وہ ہمیشہ مطالبہ کرتے اور اِسی پر دلائل دیتے رہے ہیں ۔سوئس حکام کو لکھے جانیوالے خط کی منظوری کے بعد اپنا ردعمل دیتے ہوئے اعتزازاحسن نے کہاکہ گیلانی کیس میں اُن کی طرف سے کی گئی بحث کو بالآخر عدالت نے راجہ پرویز اشرف کے کیس میں تسلیم کرلیاہے ۔فاروق ایچ نائیک کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے اُنہوںنے کہاکہ عدالت نے حکومت کے تمام تحفظات کو درج کرنے کی منظوری دیدی ہے یعنی خط سے ٹرائل ہوگا اور نہ ہی کوئی تحفظ مجروح ہوگا۔اعتزاز احسن نے کہاکہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے اوراِس پر چیمبر میں بھی گفتگوہوتی رہی ، کامیابی کی وجہ سپریم کورٹ کا لچک دکھاناہے تاہم گیلانی کیس میں ایسا نہیں کیاجارہاتھا۔ایک سوال کے جواب میں اُن کاکہناتھاکہ پہلے ججوں کارویہ سخت تھا، وہ کہتے رہے ہیں کہ عدالتی رویے میں تبدیلی لانی پڑے گی ، سات ججوں کے سامنے اُنہوں نے تفصیلی بحث کی تھی جسے تسلیم نہیں کیاگیا ،عدالت استثنیٰ کی بات نہیں کرتی تھی ، درخواست دائر کرنے کامشورہ اور ساتھ ہی کہاجاتاتھاکہ کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ۔ فاروق ایچ نائیک نے عدالت کے باہر واضح طورپر کہاکہ کوئی ٹرائل نہیں ہوگا، اب استثنیٰ تسلیم ہوگیا جس کا خط میں بھی ذکر ہے ۔

مزید : اسلام آباد