صدر سے سیاسی سرگرمیاں چھوڑنے کی توقع ظاہر نہیں کی، ڈیکلئیریشن جاری کیا: ہائیکورٹ

صدر سے سیاسی سرگرمیاں چھوڑنے کی توقع ظاہر نہیں کی، ڈیکلئیریشن جاری کیا: ...
صدر سے سیاسی سرگرمیاں چھوڑنے کی توقع ظاہر نہیں کی، ڈیکلئیریشن جاری کیا: ہائیکورٹ

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ صدر کے 2عہدوں کے کیس میں توہین عدالت کی کارروائی اہم معاملہ ہے، جلدبازی نہیں چاہتے ، پورا وقت دیا جائے گا۔ عدالت لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی فل بینچ کے روبرو توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت کے آغاز پر وفاق کے وکیل وسیم سجاد نے شکوہ کیا کہ انہوں نے گزشتہ سماعت پر التواءکی درخواست دی تھی مگر عدالت نے ان درخواستوں پر 40 منٹ سے زیادہ کارروائی کی، عدالت ایسا تاثر نہ دے کہ وہ جلدبازی کر رہی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ انہیں کوئی جلدبازی نہیں، ان کا تفصیلی موقف سنیں گے۔ وسیم سجاد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت وفاق پاکستان کو حکم نہیں دے سکتی کہ وہ صدر زرداری کو کہے کہ پی پی پی کے شریک سربراہ کا عہدہ چھوڑ دے، صدر سیاسی عمل کے ذریعے بنتا ہے، ملکی سیاست سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا، اس نے دوبارہ بھی الیکشن لڑنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری حکمران جماعت کے سربراہ نہیں، اس کے صدر امین فہیم اور سیکریٹری راجہ پرویز اشرف ہیں، آصف زرداری پی پی پی کے سربراہ ہیں جو نہ تو رجسٹر ہے، اور نہ اسے انتخابی نشان ملا اور نہ ہی اس نے الیکشن لڑا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس نے اپنے فیصلے میں صدر زرداری سے سیاسی سرگرمیاں چھوڑنے کی توقع نہیں کی تھی، ڈیکلیئریشن دیا تھا لہٰذا یہ غلط فہمی دور ہو جانی چاہئے اور صدر مملکت سے ہدایات لیکر آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

مزید : لاہور