ملالہ اور ساتھی طالبات پر حملے کے خلاف سینیٹ و قومی اسمبلی میں مذمتی قراردادیں، علماءسے فتویٰ جاری کرنے کا مطالبہ

ملالہ اور ساتھی طالبات پر حملے کے خلاف سینیٹ و قومی اسمبلی میں مذمتی ...
ملالہ اور ساتھی طالبات پر حملے کے خلاف سینیٹ و قومی اسمبلی میں مذمتی قراردادیں، علماءسے فتویٰ جاری کرنے کا مطالبہ

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ و قومی اسمبلی نے سوات کی طالبہ ملالہ یوسف زئی اور دو ساتھی بچیوں پر حملے کی شدید مذمت، اور جلد صحت یابی کی دعا کی گئی۔ دونوں ایوانوں میں اس حملے کے خلاف الگ الگ قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ ان قراردادوں میں علماءسے اس واقعے کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ارکان پارلیمینٹ نے اس حملے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ قومی اسمبلی میں ملالہ یوسف زئی اور دیگر زخمی بچیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی گئی اور معمول کی کارروائی معطل کر کے واقعے پر بحث کی۔ ایم کیوایم کے وسیم اختر نے کہاکہ پولیس نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں اور رینجرز والے رشوت میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بیرکوں سے باہر نکلیں اور دہشت گردوں سے لڑیں، آرمی چیف نے عوام کے تحفظ کا حلف لے رکھا ہے، وہ دہشت گردوں کیخلاف موثر کارروائی کریں۔ پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہاکہ بچیوں کا مستقبل محفوظ بنانے کی خاطر دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ ملالہ کا ذکر کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کی بشری رحمن آبدیدہ ہوگئیں، ایوان کا ماحول رنجیدہ ہوگیا، خواتین ارکان کی بھی آنکھیں بھر آئیں۔ بشریٰ رحمن کا کہنا تھا کہ حکومت نے کچھ نہ کیا تو خواتین ارکان خود ان علاقوں میں جائیں گی۔ ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت نے کہاکہ مذہبی جماعتیں واقعہ کی مذمت کریں اور علماءفتویٰ دیں، قانون نافذ کرنے والے چوڑیاں اتار دیں۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ اپنی قیادتوں کے سامنے بات کرنا ہوگی کہ عوام کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ جے یو آئی ف کے مولانا عطاءالرحمن نے کہا کہ ملالہ پر حملہ کرنے اور اسے قبول کرنے والے تمام قابل مذمت ہیں۔ وزیر خارجہ حناربانی کھر کا کہنا تھا کہ ملالہ پر حملے کو آج بھی ایک مخصوص ذہنیت جائز قرار دے رہی ہے، یہ ذہنیت تبدیل نہ ہوئی تو پھر کوئی امید نہیں رہے گی۔ بعد میں ایوان نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ منظور کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زخمی بچیوں کا سرکاری خرچ پر علاج کیا جائے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ایوان بالا سینیٹ میں بھی ملالہ یوسفزئی پر حملے کے خلاف سینیٹر زاہد خان کی جانب سے پیش کی جانے والی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی جس میں اس حملے کو بزدلانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ حملہ کرنے والے انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں۔

مزید : اسلام آباد