آئی ایس آئی ایس کے مظالم کی روداد

آئی ایس آئی ایس کے مظالم کی روداد
آئی ایس آئی ایس کے مظالم کی روداد

  

پاکستانی قوم اس وقت بہت سے مسائل سے دوچارہے جن میں دہشت گردی کے مسئلے کو میں سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہوں کیونکہ اسلام کے نام پر چند ناعاقبت اندیش افراد نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم امہ کو عالمی برادری کے سامنے سر ا ٹھاکر چلنے کے قابل نہیں چھوڑا،ہم بطور مسلمان پوری دنیا میں بدنام ہو کر رہ گئے ہیںحالانکہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں جو کچھ کھویا ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے اور اب بھی پاکستانی فوج آپریشن ضرب عضب میں دہشت گردوںکے خلاف نبردآزما ہے اور اس آپریشن میں ہمارا جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے حال ہی میں میں نے ایک آرٹیکل پڑھاجس میںشمالی عراق میں بسنے والے یزیدی قبیلے کی دو لڑکیاں جو حال ہی میںISISکی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی ہیں اپنی قید کی خوفناک داستان بتاتی ہیں۔ انہوں نے دوران قید اپنی المناک کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر تشدد کے پہاڑ توڑے گئے اور انہیں ایسی ویڈیوز دیکھنے پر مجبور کیا جاتا رہا جس میں ان کی کمیونٹی کے مردوں پر تشدد کرتے اور ان کے سر قلم کرتے دکھایا گیا تھا یہاں تک کہ دوران قید ان میں سے چند نے ظلم و بربریت سے تنگ آ کر خود کشی کی کوششیں بھی کیں جس کی پاداش میںISIS کے جنگجوﺅں کی طرف سے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔

15سالہ یزیدی لڑکی سارا نے کہا ہے کہ جب سے اسےISIS کی طرف سے اغوا کیا گیا ہے اس نے کئی مرتبہ خود کشی کی کوشش کی ہے۔ اس کی اس مصیبت کا آغاز3اگست کو تل آزر کے ایک گاﺅں سنجر سے ہوا جبISIS کے جنگجوﺅں نے ان پر چڑھائی کی۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنی ماں ، بھائی اور اس کی حاملہ بیوی کے ہمراہ پہاڑوں میں پناہ لینے کی کوشش کی، لیکن انہیں پکڑ کر ایک دور افتادہ فارم ہاﺅس میں قید کر دیا گیا۔ بعد ازاں عورتوں کو مردوں سے الگ کمرے میں قید کیا گیا، سارا کو ایک ٹرک میں دیگر عورتوں کے ساتھ لاد کر موصل لے جایا گیا جہاں سینکڑوں عورتوں کا سودا کیا جاتا تھا۔ سارا نے گلوبل پوسٹ ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہم نے خود کو بدصورت بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی، بعض عورتوں نے چیخنے چلانے اور لڑنے جھگڑنے کی کوشش بھی کی، لیکن اس سے کوئی فرق نہ آیا۔ ایک عورت نے خود کو پھانسی لگا لی جبکہ ایک نے اس کی کوشش کی لیکنISIS نے اسے روک لیا اور مارا پیٹا، اس کے بعد کسی لڑکی نے اس طرح کی کوشش نہ کی۔ سارا نے بتایا کہISIS کے جنگجوﺅں نے اسے ایک غلیظ اور بدبودار بوڑھے اور ایک موٹے شخص کے ہاتھ بیچ دیا۔ اس نے بتایا کہ انہوں نے اسے ایک ویڈیو دکھائی جس میںISIS کے جنگجو اس کے پڑوسیوںکے گلے کاٹ رہے تھے۔ سارا نے بتایا کہ کچھ ویڈیوز میں دکھایا گیا کہISIS کے جنگجو انسانوں کے سروں کو کھانا پکانے کے برتنوں میں رکھ رہے تھے اور بعض اوقات وہ ان پر کھڑے ہو جاتے وہاں انسانی سروں کی بہتات تھی وہ لوگ ہمیں وہ ویڈیوز دکھاتے اور کٹے سروں کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے کہ تم جانتی ہو کہ یہ شخص کون ہے؟ اور پھر قہقہے لگا کر ہنستے۔ سارا نے بتایا کہ بعض اوقات سرنج سے اس کے بازو سے خون نکالا جاتا اور اسے نکاہت کے احساس کے ساتھ چھوڑ دیا جاتا۔

19سالہ لیلیٰ کی کہانی بھی اس سے کم خوفناک نہیں، جس کے مطابق اس کے شوہر کوISIS کی طرف سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔اس واقعہ میں اس کے گاﺅں کے دیگر لوگ اور ایک14سالہ لڑکا بھی شامل تھا، جنہیں سنجر گاﺅں سے فرار ہونے کی کوشش میں مار دیا گیا۔ لیلیٰ بتاتی ہے کہ اس نے بہت لاشیں دیکھی ہیں جن میں بچوں کی لاشیں بھی شامل تھیں۔ لیلیٰ نے بتایا کہ وہ فروخت کئے جانے سے پہلے ہیISIS کے جنگجوﺅں کو سوتا چھوڑ کر فرار ہو گئی۔ کچھ مہربان مقامی لوگوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر انہیں ان کے رشتہ داروں تک پہنچایا،۔ اب سارا اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اربل اور لیلیٰ ڈہوک میں رہائش پذیر ہے۔

یزیدی فریٹرنل آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ 12000اب بھی لاپتہ ہیں جن میں 5000 عورتیں اور7000مرد شامل ہیں جن میں 49 افراد ISIS کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں ان میں سے بہت سی عورتوں کی عصمت دری کی گئی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حال ہی میں دنیا بھر کے120اسلامی علماءجن میں سے بہت سے اپنے ملکوں کی نمائندہ ہیں۔ ایک اوپن لیٹر جاری کیا ہے جس میں انہوں نےISIS کے جنگجوﺅں کی مذمت کی ہے اور ان کے ظلم و تشدد کے خلاف اپنے طریقے سے دلائل دیئے ہیں۔ مسلم رہنماﺅں کے ایک گروہ نے عوامی سطح پر اس اسلامی تحریک کو مسترد کر دیا ہے جنہوں نے موسم گرما میں شام اور عراق کے علاقوں میں اپنی ظالمانہ حکمرانی عائد کی ہے اس کے علاوہ پانچ مسلم ممالک بھی اس کے خلاف امریکی فوجی مہم میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔

اس سلسلے میں 22صفحات پر مشتمل ایک خط شائع کیا گیا ہے جس میں ایسے ظلم و تشدد کے خلاف قرآن اور دیگر اسلامی ذرائع سے لئے گئے حوالے پیش کئے گئے جن سے صاف ظاہر ہے کہ جو لوگ اسلام کا نام لے کر ظلم و تشدد، اغواءاور قتل ایسے سنگین جرائم کا بازار گرم کر رہے ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ ایسے نام نہاد جہاد کی جنہوں نے اسلام کو خوف و دہشت ظلم و بربریت اور قتل انسانیت کا مذہب بنا کر پیش کیا۔ بذاتِ خود اسلام بلکہ پوری مسلم اُمہ کے مجرم ہیں۔ اس خط میں جو عربی زبان میں لکھا گیا ہے اسلامی علماءکی طرف سے نہ صرف امریکی صحافیوں کے قتل کی مذمت کی ہے بلکہ اسے اسلامی احکام کی خلاف ورزی بھی قرار دیا ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ حضرت محمد نے جنگی قیدیوں کے قتل کی مذمت کی ہے اور منع فرمایا ہے۔

ا ن حقائق کی روشنی میں عالمی برادری کے سر کردو افراد سے صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے یہ لوگ مسلمان نہیں ہو سکتے اور ویسے بھی دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں امریکہ کا جتنا ساتھ پاکستان نے دیا ہے اور کسی نے نہیں دیااس کے باوجود کچھ مخصوص لابیاں پاکستان اور اسلام کے خلاف مسلسل کام کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں آئے دن پروپیگنڈا ہمارے خلاف ہوتا ہی رہتا ہے اور آئے دن ہمارے پیارے نبیﷺ کی شان میںکوئی نہ کوئی ایسی گستاخی دیکھنے میں آ ہی جاتی ہے جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔

مزید :

کالم -