بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے امریکی سرمایہ کاری

بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے امریکی سرمایہ کاری


ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کی جانب سے خاطر خواہ سہارا نہ ملنے کی بنا پر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا معاملہ کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا تھا، ایسے میں امریکہ نے پاکستان کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس ڈیم کی تعمیر کو پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لئے ناگزیر قرار دیا اور سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر توانائی کے اس اہم منصوبے میں سرمایہ کاری اور مالی امداد فراہم کرنے پر رضامندی کا اظہارکر دیا۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے پاکستان اور افغانستان ڈینےئل فیلڈمین نے امریکہ میں ہونے والی ایک روزہ بھاشا ڈیم کانفرنس کے دوران120 امریکی سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کی جانب سے پاکستان کے معاشی اور توانائی کے مسائل حل کرنے میں بھرپور ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے امریکی حکام اور سرمایہ کاروں کو بتایا کہ پاکستانی حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی خواہش مند ہے اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے فضا بہت ساز گار ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو تمام تر سہولیات فراہم کرنے کا عہد بھی کیا۔وزیر خزانہ نے کانفرنس کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لئے حتی الوسع مقامی وسائل استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، اِسی لئے بھاشا ڈیم کے لئے فراہم کی جانے والی اراضی کی قیمت کی ادائیگی حکومت پاکستان نے خود کی ہے لیکن اس منصوبے کی تکمیل بیرونی سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ وفاقی وزیرپانی وبجلی خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کا تحفظ تب تک ممکن نہیں، جب تک پاکستان توانائی میں خودکفیل نہ ہو جائے۔ پاکستان میں پن بجلی کے وسیع مواقع موجود ہیں،غیرملکی سرمایہ کاروں کو اس سے بھرپور فائد ہ اٹھانا چاہئے ۔کانفرنس میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر امریکہ پہنچے والے پاکستان میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہاکہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بہت سے مواقع ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم بہت بڑا منصوبہ ہے۔امریکی سرمایہ کار اس سے بھرپور فائد ہ اٹھائیں، امریکی تاجروں کے لیے بھی پاکستان میں پُرکشش مواقع ہیں۔

امریکہ کا بھاشا ڈیم کو مکمل کرنے کے لئے سرمایہ کاری پر رضامندی کا اظہار کرنا یقیناًخوش آئند بات ہے،پاکستان کی کمزور معیشت بھاشا ڈیم کی تعمیرپر اٹھنے والے اخراجات اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی اور سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پراجیکٹ تعطل کا شکار تھا۔دوسری طرف پاکستان میں توانائی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اورحکومت نے مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق 486 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ کی منظوری تو دے دی، لیکن اس بات کا احساس بھی موجود تھا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے بغیر پانی کی کمی، سیلاب سے بچاؤاور توانائی بحران جیسے مسائل پر قابو پاناممکن نہیں ہو گا۔اِسی سلسلے میں امریکہ میں بھاشا کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا تھاتاکہ امریکہ کے تعاون سے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ امریکہ اس منصوبے کی ڈیزائننگ اور سروے کے کام کے لئے پہلے ہی دو کروڑ ڈالر کی گرانٹ دے چکا ہے، جبکہ پاکستان اس پراجیکٹ پر اب تک 40کروڑڈالرخرچ کر چکا ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم کنکریٹ سے تعمیر کیا جانے والا ڈیم ہے جسے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں بھاشا کے قریب دریائے سندھ کے کنارے بنایا جانامقصود ہے۔اس منصوبے کی تکمیل سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہونے کی توقع ہے اورپاکستان میں اس وقت10ہزار میگاواٹ کے اضافے کی ضرورت ہے، یعنی موجودہ ضرورت کا تقریباً 50فیصدبھاشا ڈیم پورا کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔اس ڈیم کی لاگت کا ابتدائی تخمینہ ساڑھے آٹھ ارب ڈالر لگایا گیا تھاجو اب بڑھ کر 14 ارب ڈالرہو چکاہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف آٹھ سال کے قلیل عرصے میں اس کی لاگت پوری ہو جائے گی اور اس سے سالانہ دو بلین ڈالر مالیت کی بجلی پیدا کی جاسکے گی ۔ اس ڈیم کی تکمیل سے پاکستان میں بجلی کی کمی تو پوری ہو گی ہی، ساتھ ہی ساتھ پانی کی فراہمی بھی ہو گی، ڈیم میں 64 لاکھ مکعب فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا اور اس سے سیلاب جیسی قدرتی آفات سے بھی نمٹنے میں مدد ملے گی۔بھاشا ڈیم کے بننے سے تقر یباً چار ملین ایکڑ زرعی رقبے پر آبپاشی کی جا سکے گی، یعنی پاکستان کی زراعت کو بھی خاطر خواہ سہارا ملے گا۔پانی پہلے بھاشا ڈیم میں جمع ہو نے اور ضرورت کے مطابق چھوڑے جانے سے تربیلا ڈیم میں جمع ہو جانے والی مٹی اور اس سے پیدا ہونے والے دباؤ میں بھی خاصی کمی آئے گی، جس کی وجہ سے تربیلا ڈیم کی عمر میں مزید35سال کا اضافہ متوقع ہے۔بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد یوسف رضا گیلانی نے 18اکتوبر 2011ء کو رکھا تھا، یہ مکمل ہونے پر رولڈکنکریٹ سے بنا ہوا دنیا کا بلند ترین ڈیم ہو گا۔ ابتدائی طور پر اس ڈیم کو 2020ء میں مکمل ہونا تھا، لیکن سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بروقت تعمیر ممکن نہیں ہو سکے گی۔ ورلڈ بنک نے اس سلسلے میں بھارت سے این او سی لینے کی شرط عائد کی تھی تاہم اب امریکی سرمایہ کاری کی صورت ایسے معاملات درپیش نہ ہوں گے۔

افسوس صد افسوس کہ پاکستان میں پچھلے40 سال سے توانائی کا کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکا، ایسے میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے،بھاشا ڈیم کے لئے سرمایہ کاری میسر آنے کی خبر گویا بجھتے چراغ میں تیل ڈالنے کی مانند ہے۔ اس سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کی ڈوبتی امید کی کرن کو زندگی ملنے کے آثارتو پیدا ہوئے ہی ہیں لیکن ساتھ ساتھ اس سے بالواسطہ اور بلا واسطہ ہزاروں بیروزگاروں کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے،ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ دوسرے شعبوں میں بھی بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملے تاکہ پاکستان خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو اور بالآخر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں جاکھڑا ہو۔

مزید : اداریہ