ہندوستان کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں سے باز آ ئے :امجد حسین مغل

ہندوستان کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں سے باز آ ئے :امجد حسین مغل
ہندوستان کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں سے باز آ ئے :امجد حسین مغل

  

لندن (بیورورپورٹ)جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت یورپ کے وائس چیئرمین امجد حسین مغل نے بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن کی بار بار خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں بے گناہ افراد کی شہادت اور ان کے زخمی ہونے کے واقعات پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی طاقتیں بھارت کی طرف سے پے در پے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کا نوٹس لیں ورنہ انکی عدم دلچسپی پر یورپ سمیت برطانیہ میں پاکستانی اور کشمیری سراپا احتجاج بن جائیں گے انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی عالمی طاقتیں کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کیوں نہیں کر سکتیں جبکہ اس سلسلہ میں اقوام متحدہ پہلے ہی قرار داد منظور کر چکی ہے اور اس پر عمل درآمد کرانا اقوام متحدہ کا فرض ہے وہ گزشتہ روز اخبار نویسیوں سے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مقیم کشمیریوں کی نمائندہ تنظیم اپنی استطاعت سے بڑھ کر اس مسئلہ کے حل کے لیے کوشاں ہے اور اس سلسلہ میں تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ظلم اور جبر کب تک برداشت کیا جا سکتا ہے کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کشمیری آباد ہیں اور انکی آپس میں رشتہ داریاں ہیں اگر اس طرف کوئی نعش گرتی ہے تو اسکا دکھ کنٹرول لائن کے دوسری طرف واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے اور اگر اس طرف کوئی کشمیری شہید ہوتا ہے تو اسکا دکھ بھی پورے پاکستان اور کشمیر میں محسوس کیا جا سکتا ہے عید کے روز اور عید کے بعد کنٹرول لائن پر ہونے والی خلاف ورزیوں نے عید قربان منانے والوں کو سوگ منانے پر مجبور کر دیا ہے انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے پر میاں نواز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اس مسئلے کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا تھا اب کشمیریوں کے حق کی آوازبلند کرنے پر وہ میاں نواز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی رہنماﺅں کی طرف سے اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقاریر صرف اقوام متحدہ کا ریکارڈ بن کر نہ رہ جائیں بلکہ اس پر اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے مطابق عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی جن پر امریکہ داخلے پر پابندی عائد تھی کے ساتھ امریکی صدر اوباما ضیافتیں اڑاتے رہے اور پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات نہ کی گئی جس سے نا انصافی پر مبنی امریکی پالیسی کھل کر عیاں ہو گئی ہے مگر کب تک آخر اپنے حقوق کی آزادی کے لیے قربانیاں دینے والوں کا خون ضرور رنگ لائے گا ۔

مزید : عالمی منظر