سعودی فرمانرواکی دعوت پرفربہ فلسطینی خاتون کا ایمبولینس کے ذریعے حج

سعودی فرمانرواکی دعوت پرفربہ فلسطینی خاتون کا ایمبولینس کے ذریعے حج

ریاض(این این آئی)حج کے موقع پر جہاں دنیا بھر سے مختلف رنگوں، نسلوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے مختلف قد و قامت کے عازمین بیت اللہ میں جمع ہوتے ہیں وہیں اس اختلاف رنگ ونسل کے درمیان کچھ ایسے افراد بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو اپنی انفرادیت کی وجہ سے عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا بھی مرکز بن جاتے ہیں۔حالیہ حج کے موقع پر خادم الحرمین الشریفین کی خصوصی دعوت پر فلسطینی شہداکے 500 لواحقین کو سرکاری خرچ پر حج کرایا گیا۔ فلسطین سے آنے والی ایک خاتون عازمہ ان چند حجاج کرام میں شامل رہیں جو عالمی توجہ خاص مرکز رہے۔محترمہ نعمہ مرھون کی عمر55 برس ہے اور وہ خود بیوہ ہیں۔ یہ ان کی پہچان نہیں بلکہ پہچان یہ ہے انہیں پہلی غیرمعمولی موٹی خاتون حاجیہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے تمام مناسک حج ریسکیو ٹیم کی مدد سے ادا کیے ہیں نعمہ کا وزن 300 کلو گرام ہے۔خادم الحرمین کی دعوت پر حال ہی میں فربہ فلسطینی خاتون نے غزہ کی پٹی کے علاقے خان یونس سے مصر اور وہاں سے حجاز مقدس پہنچی تھیں۔

فربہ حاجیہ نے عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا شوہر 14 سال قبل اسرائیلی بمباری میں شہید ہو گیا تھا۔ اس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ حال ہی میں جب اسے پتا چلا کہ سعودی حکومت کی جانب سے فلسطینی شہدا کے لواحقین کے لیے سرکاری خرچ پر حج کا انتظام کیا گیا ہے تو میں نے بھی حجاز مقدس کے قصد کا ارادہ کیا۔ حج کے دیگر لوازمات مکمل کرنے میں میری ہمیشرہ نے تعاون کیا اور حج بھی وہ میرے ساتھ رہی ہے۔نعمہ نے بتایا کہ بھاری بھرکم وزن کے باعث اسے ایمبولینس پر حج کرایا گیا۔ حج کے دوران عام استعمال کی چھ وہیل چیئر اس کے وزن کی وجہ سے ٹوٹ گئیں جس کے بعد اسے الیکٹرک کرسی پر سوار کیا گیا۔

مزید : عالمی منظر