بھارتی فوج کی گولہ باری ،3شہید ،جوابی کارروائی میں دشمن کی متعدد چوکیاں تباہ

بھارتی فوج کی گولہ باری ،3شہید ،جوابی کارروائی میں دشمن کی متعدد چوکیاں تباہ ...

 سیالکوٹ، نارووال، شکر گڑھ،بڈیانہ، ہیڈمرالہ (بیورو رپورٹ+ نامہ نگاران+ ایجنسیاں) سیالکوٹ ورکنگ باﺅنڈری کے متعدد سیکٹروں میں بھارتی فوج نے گزشتہ روز بھی گولہ باری اور فائرنگ جاری رکھی جس سے مزید 3 افراد شہید ہوگئے ہیں، متعدد مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کئی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ نارووال سے نامہ نگار کے مطابق ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ اور تحصیل ظفروال کی ورکنگ باونڈری پر عید سے ایک روز قبل شروع ہونے والی بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے پاکستانی رینجر نے دشمن کا منہ توڑ جواب دیا اور اس کی گنیں خاموش کرادیںآج صبح بھارت کی جانب سرحدی علاقوں میں دوبارہ فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں ایک خاتون سمیت دوافراد شہید ہوگئے شکرگڑھ کے موضع سکمال میں25سالہ طاہرہ بی بی جس کی شادی تقربیا ایک سال قبل ہوئی تھی بھارتی جارحیت کی بھینٹ چڑھ گئی اور تحصیل ظفروال کے موضع لہری کلاں کا 35سالہ شاھد بھی بھارت کی جانب سے کی گئی فائرنگ سے شہید ہوگیا جبکہ 16کے قریب افراد فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں، ڈی سی او نارووال سید نجف اقبال بخاری نے میڈیا کو بتایا کہ تحصیل شکرگڑھ کے14اور تحصیل ظفروال کے17دیہات کا خالی کروایا گیا انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو ہونے والی فائرنگ سے متعدد مویشی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں انہوں بتایا کہ رینجر کے ساتھ انکا مکمل رابطہ ہے اور اگرضرورت پڑھی تو ریلیف کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔شکر گڑھ سے نامہ نگار کے مطابق شکر گڑھ سیکٹر میں بھورے چک ،سرگالہ،بھٹلی، ابےال ڈوگر، سکمال، جگوال، چک بیکا،ٹھاکر پور،ننگل، ،کرول،سانبلی،ڈےرہ کنگراں،تارا پور ،چک ٹلا،کے علاقوں پر فائرنگ اور گولہ باری کی گئی جس سے درجنوں مویشی ہلاک اور متعدد گھر تباہ ہو گئے ، کل سرحدی دےہات کے چالیس سے زائد سکول بھی بند رہے، دیہاتی محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرتے رہے نقل مکانی کرنے والے متاثرین حکومتی امدا کے منتظر رہے کوئی حکومتی نمائندہ سر حدی علاقوں تک نہ پہنچا۔ اے این این کے مطابق سیالکوٹ ورکنگ باو¿نڈری پر بھارت کی غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے اور گزشتہ روز فائرنگ سے خاتون سمیت3افراد شہیداورمتعدد زخمی ہوئے ہیں،جناب رینجرز کی جوابی کارروائی میں بھارت کی متعدد چوکیاں تباہ ہوگئیں۔سرحدی علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے اور انہوں نے سرکاری سکولوں اور عمارتوں میں پناہ لینا شروع کر دی،سرحدی کشیدگی کے باعث تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک بند کر دئیے گئے۔سیالکوٹ کے ہڑپال سیکٹر میں بھارتی فوج کی جانب سے ایک بار پھر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت3افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں،اس سیکٹر کے گاو¿ں رڑکی میں 150سے زائد گولے داغے گئے ہیں۔تازہ ہلاکتوں کے بعد شہید ہونے والے افراد کی تعداد13تک پہنچ گئی ہے۔ تحصیل پسرور میں ورکنگ باونڈری سے ملحقہ متعدد تعلیمی اداروں کو بھارتی جارحیت کے بعد بند کردیاگیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں بھارتی گولہ باری کے باعث لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے اور سینکڑوں دیہات کے متاثرین نے تعلیمی اداروں اور سرکاری عمارتوں میں پناہ لینا شروع کر دی ہے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے ایک مرتبہ پھر سیالکوٹ کے قریب ورکنگ بانڈری پر وقفے وقفے سے بلا اشتعال فائرنگ جاری ہے جس کا بھرپورانداز میں جواب دیا جارہا ہے۔سیالکوٹ ورکنگ بانڈری پر تعینات رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل طاہر جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھارتی فائرنگ سے مزید تین شہری شہید ہوئے۔ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔میجر جنرل طاہر جاوید کا کہنا ہے کہ ورکنگ بانڈی پر فائرنگ سے 30 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔بھارتی فوج کی فائرنگ کا چناب رینجر نے بھر پور جواب دیا اور دشمن کی کئی سرحدی چوکیاں تباہ کر دیں۔

فائرنگ جاری

مزید : صفحہ اول