سیاسی جرگے کادھرنے والوں‘ حکومت کے مذاکرات بحال کروانےکا فیصلہ‘ بھارتی جارحیت کی مذمت

سیاسی جرگے کادھرنے والوں‘ حکومت کے مذاکرات بحال کروانےکا فیصلہ‘ بھارتی ...

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)اپوزیشن کے قائم کردہ سیاسی جرگے کے سربراہ سراج الحق نے کہا ہے کہ خوشی کی بات ہے کہ ایک بار پھر سے سیاسی ماحول میں تناو کم کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ایک بار پھر تینوں قریقین بات چیت پر تیار ہوگئے ہیں، سیاسی جرگہ عمران خان اور طاہر القادری سے ملاقات کر کے ان کا موقف حاصل کرے گا تاکہ بامقصد مذاکرات ہو سکیں تاہم ہمیں یقین ہے کہ اس معاملے کے پر امن حل میں کامیاب ہو جائیں گے۔ سیاسی جرگے کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اپنے حقوق اور مطالبات منوانے کے لئے احتجاج کرنا سب کاآئینی اور قانونی حق ہے اور موجودہ نظام میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کروانے کے لئے آئینی جدوجہد جاری رہنی چاہئے، ہماری کوششوں سے ملک میں مارشل لاءکا خطرہ ٹل گیا ہے اور ملک ایک بڑی تباہی سے بچا ہے۔ اس موقع پر سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ عوامی تحریک اور تحریک انصاف نے مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارے دیئے ہیں اب حکومت کی طرف سے بھی باقاعدہ اشارے کی ضرورت ہے، 12 اکتوبر کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار ملک واپس آ رہے ہیں ، ان کی واپسی کے بعد باضابطہ ملاقاتوں کا آغاز کریں گے تا کہ ملک اس سیاسی بحران سے نکل سکے۔ دونوں رہنماوں نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک مسائل میںضرور گھرا ہوا ہے مگر بھارت کے خلاف پوری قوم ایک ہے، بھارت اپنا دفاع ضرور کرے مگر ہماری سرزمین پر حملے بند کرے تا کہ خطے کا امن قائم رہ سکے کیونکہ پاکستان نے صبر کا دامن چھوڑ دیا تو نہ خطہ رہے گا اور نہ کوئی سرزمین، اس لئے بھارت فوری طور پر اپنے رویے پر نظر ثانی کرے۔ اس سے قبل ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لئے قائم کردہ اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی جرگے کا اجلاس سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق، رحمان ملک، جی جی جمال ، کلثوم پروین اور میر حاصل بزنجو شریک تھے۔ اجلاس کے دوران ارکان نے عوامی تحریک، تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر غور کیا اور فیصلہ ہوا کہ سیاسی جرگہ تینوں فریقین کو بھیجنے کے لئے نئی تجاویز تیار کرے گا جن کو پہلے وزیر اعظم نواز شریف اور اس کے بعد عمران خان اور علامہ طاہر القادری کو بھی پیش کیا جائے گا۔سیاسی جرگے کا کہنا ہے کہ اس بار بات چیت صرف اعلیٰ قیادت سے ہی ہو گی کسی بے اختیار کمیٹی سے کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔

سیاسی جرگہ اجلاس

مزید : صفحہ اول