ڈرگ مافیا کیخلاف گرینڈ آپریشن ٹھپ

ڈرگ مافیا کیخلاف گرینڈ آپریشن ٹھپ

                                 لاہور(جاوید اقبال )صوبائی دارلحکومت یعنی شہر لاہور کو جعلی اور غیر معیاری ادویات سے پاک کرنے کے لئے ڈرگ مافیا کے خلاف شروع کیا گیا گرینڈ آپریشن ٹھپ ہوگیا ہے جس سے جعلی ،غیر معیاری اور سمگل شدہ ادویات کی خریدو فروخت میں ملورث مافیا ایک دفعہ پھر قانون کی گرفت میں آنے سے بچ گیا ہے اور اس صورتحال کے باعث شہر لاہور میں یہ مکروہ دھندہ جاری و ساری ہے صرف لوہاری میڈیسن مارکیٹ میں 60فیصد سے زائد سمگل شدہ ،غیر رجسٹرڈ ،غیر معیاری ادویات اور سرجیکل ڈسپوزیبل فر وخت ہورہی ہیں یہاں تک کہ انڈیا چائنا ،ملائیشیاء،تھائی لینڈ ،ترکی سمیت دیگر ممالک سے سمگل ہوکر آنے والی ادویات ،سوچرز ،کنولا ،آئی وی سیٹ ،اینجی سیڈ ٹیوب ،سرنجیں ،بینڈیج اوردیگر سازوسامان کھل عام فروخت ہورہا ہے یہ سامان بڑی مقدار میں دوکانداروں نے اپنے گوداموں میں چھپا رکھا ہے اور ضرورت کے مطابق خفیہ خانوں سے سامنے لاکر فروخت کرتے ہیں ۔سرنج کو ڈرگ ایکٹ میں میڈیسن قرار دیا گیا ہے اور اس روح سے کسی بھی کمپنی کی سرنج رجسٹریشن کے بغیر فروخت نہیں ہوسکتی مگر لوہاری میڈیسن مارکیٹ سمیت پورے لاہور میں سمگل شدہ غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری قسم کی سرنجیں پورے لاہور میں فروخت ہورہی ہیں یہ دھندہ لاہور کے ڈرگ انسپکٹرز کی نظر میں ہیں مگر انہوں نے پراسرار طورپر خاموشی اختیارکرکھی ہے اسی طرح شہر لاہور میں سینکڑوں کی تعداد میں غیر ممنوع اور پابندی شدہ قوت باءاور طاقت کے نام کھل عام ادویات فروخت ہورہی ہیں کوئی ایسا سٹور نہیں جہاں یہ ادویات موجود نہ ہوں ۔باآسانی ادویات مل جانے سے نوجوان نسل ان ادویات کو استعمال کرکے اپنے گردے تباہ کررہی ہے ۔بتایا گیا ہے کہ لاہور کو جعلی ادویات کے ناسور سے پاک کرنے کے لئے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور تین ڈرگ انسپکٹرز کی نگرانی میں کمیٹیاں تشکیل دی گئیں یہ ٹیمیں شہر کے 5فیصد علاقوں میں بھی آپریشن مکمل نہیں کرسکیں ۔خانہ پری کے لئے ان ٹیموں نے پسماندہ علاقوں میں غریب غربا ءمیڈیکل سٹوروں کو بند کرنے تک کارروائی محدود رکھی ۔جس کے باعث مگرمچھ زیر زمین چلے گئے اور اب یہ آپریشن ماضی کے آپریشن کی طرح دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے اور اس کے مطلوبہ نتائج برآمد ہوتے دکھائی نہیں دے رہے اس حوالے سے سیکرٹری صحت جواد رفیق ملک سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ آپریشن جاری ہے اور اس کا ٹاسک ای ڈی او ہیلتھ اور ضلعی انتظامیہ کے پاس ہے کارکردگی کی رپورٹ طلب کریں گے اور ای ڈی او ہیلتھ کو ہدایت کی جائے گی کہ آپریشن میں تیزی لائی جائے اور لاہور کو جعلی ادویات سے پا ک رکھنے تک آپریشن جاری رہے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1