پیپلزپارٹی نے 18اکتوبر کے جلسہ کیلئے رابطہ مہم کا آغاز کردیا

پیپلزپارٹی نے 18اکتوبر کے جلسہ کیلئے رابطہ مہم کا آغاز کردیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلزپارٹی نے 18اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے عوامی جلسے کی تیاریوں کے لیے صوبے بھر میں عوامی رابطہ مہم کا آغاز کردیا ہے۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر تمام صوبائی وزراء ،ارکان اسمبلی ،سینیٹرز اور پارٹی رہنما اپنے اپنے متعلقہ ضلع میں عوام سے رابطوں کے لیے کارنرز میٹنگز کا انعقاد کررہے ہیں ۔جبکہ تمام ضلعی صدور کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے ضلع سے کراچی میں جلسہ میں عوام اور کارکنوں کو لانے کے لیے ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کے لیے اقدامات کریں ۔ذرائع کے مطابق 18اکتوبر کو مزار قائد اعظم پر ہونے والے جلسہ عام کے لیے پولیس نے سیکورٹی پلان مرتب کرنا شروع کردیا ہے ۔جلسہ گاہ کے چاروں اطراف تمام ذیلی شاہراہوں کو کنیٹرز لگاکر بند کیا جائے گا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی پلان کے تحت شاہراہ فیصل سے نمائش تک ،سی بریز پلازہ سے نمائش ،گرومندر سے نمائش اور پیپلز چورنگی سے جلسہ گاہ تک تمام ذیلی راستوں کو 500سے زائد کنیٹرزلگاکر بند کیا جائے گا ۔

جلسہ گاہ کے اطراف اہم شاہراہوں پر واقع رہائشی عمارتوں کے مکینوں اور کمرشل مارکیٹوں کے مالکان کا ڈیٹا بھی پولیس نے مرتب کرنا شروع کردیا ہے اور اس حوالے سے پولیس کی جانب سے سروے کرکے معلومات حاصل کی جارہی ہیں ۔سروے کے دوران ان تمام افراد کے نام ،کب سے رہائش پذیر ہیں ،مکان یا دکان ذاتی ہے یا کرایے پر سمیت دیگر معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں اور تمام رہائشی عمارتوں کے مکینوں کو پابند کیا جارہا ہے کہ وہ کسی بھی غیر متعلقہ افراد پر کڑی نگاہ رکھیں اور ان کے گھر اگر کوئی مہمان آکر قیام پذیر ہوتا ہے تو اس کی اطلاع قریبی تھانے کو دی جائے ۔جلسے کی سیکورٹی کے لیے 20ہزار سے زائد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی نفری تعینات کی جائے گی ۔جبکہ تمام بلند عمارتوں پر شارپ شوٹرز بھی موجود ہوں گے اور جلسہ گاہ کی فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹرز بھی استعمال کیا جائے گا ۔جلسہ گاہ کے قریب پارکنگ کی خصوصی جگہ مختص کی جائے گی اور داخلی گذر گاہوں پر واک تھرو گیٹس نصب ہوں گے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی انتظامات کے تحت جلسہ گاہ کی سوئپنگ کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کی 6خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی ۔جلسہ گاہ میں اسٹیج کی تیاری کا کام 12اکتوبر کے بعد شروع کیا جائے گا اور سیکورٹی انتظامات کے تحت یہ تجویز دی گئی ہے کہ بلٹ پروف کیبن سے خطاب کریں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ کو ہموار کرنے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے ۔جلسہ گاہ کی سیکورٹی کی براہ راست نگرانی ایڈیشنل آئی جی کراچی خود کریں گے ۔جبکہ ان کی معاونت تینوں زونز کے ڈی آئی جیز کریں گے ۔جلسہ گاہ میں سیکورٹی کے لیے پاکستان رینجرز کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی سیکورٹی کے لیے 18اکتوبرکو پاکستان رینجرز کے کمانڈوز کی خدمات بھی طلب کی جاسکتی ہیں ۔جلسہ گاہ کے اطراف تمام سی سی ٹی وی کیمروں کو ٹھیک کرنے کے لیے بھی ہدایت جاری کردی گئی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ کے چاروں اطراف بھی خصوصی طور پر کلوز سرکٹ کیمرے نصب کیے جائیں گے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے جلسہ گاہ کی نگرانی کی جائے گی ۔جلسہ گاہ میں سیکورٹی انتظامات کے تحت پولیس کی موبائل مانیٹرنگ وین بھی استعمال کی جائے گی ۔جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے ایمبولینس کیمپ ،فائر بریگیڈ اور ریسکیو کا عملہ بھی تعینات رہے گا ۔بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر اہم رہنماؤں کی آمد کے لیے وی آئی پی روٹ پلان بھی تشکیل دیا جارہا ہے ۔پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات سیکورٹی خدشات کے سبب کیے جارہے ہیں ،جس کے لیے حکومت سندھ کو باقاعدہ درخواست کی گئی ہے ۔

مزید : علاقائی