سانحہ ماڈل ٹاﺅن رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے3 رکنی کمیٹی سفارشات مکمل نہ کرسکی

سانحہ ماڈل ٹاﺅن رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے3 رکنی کمیٹی سفارشات مکمل نہ کرسکی

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سانحہ ماڈل ٹاﺅن جوڈیشل ٹربیونل کی رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے سپریم کورٹ کے سابق جج خلیل الرحمن خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی کمیٹی 6ہفتے گزرنے کے باوجود اپنی سفارشات مکمل نہیں کرسکی ۔جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن خان اکیلے ہی اس رپورٹ پر جائزہ لینے میں مصروف ہیں ،کمیٹی کے دیگر ارکان کو جوڈیشل ٹربیونل کی رپورٹ کی نقل تک فراہم نہیں کی گئی ۔ہوم سیکرٹری پنجاب نے 22اگست کو سپریم کورٹ کے سابق جج خلیل الرحمن خان، سیکرٹری محکمہ قانون اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تحقیقات کرنے والے لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل جوڈیشل ٹربیونل کی رپورٹ کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرنی تھیں تاہم ذرائع کے مطابق چھ ہفتے گزرنے کے باوجود اس جائزہ کمیٹی کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہو سکا ، جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن خان اکیلے ہی کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں اور چھے ہفتوں کے دوران ٹیلی فون پر یا براہ راست ایک مرتبہ بھی کمیٹی کے دیگر ممبران سے مشاورت نہیں کی گئی جس کے باعث جوڈیشل ٹربیونل کی رپورٹ پر عمل درآمد تاخیر ہورہی ہے ۔ذرائع کے مطابق جسٹس ریٹائر خلیل الرحمن خان وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے براہ راست رابطے میں ہیں اور ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ شہباز شریف کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کرتے رہتے ہیں ۔

سفارشات

مزید : صفحہ آخر