گو نواز گو۔۔۔ گو عمران گو

گو نواز گو۔۔۔ گو عمران گو
 گو نواز گو۔۔۔ گو عمران گو

  



لیڈر کون ہو تا ہے ۔۔۔ وہ جس کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہو تا ہے اور وہ عوامی رائے کے احترام میں اپنی پالیسی بنائے۔۔۔یا وہ جس کے پیچھے عوام ہوں۔۔۔ اور وہ عوام کو اپنے پیچھے چلنے پر مجبور کر دے۔

ملک میں سیاسی درجہ حرارت روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے گو نواز گو کو اتنا انتہا تک پہنچا دیا ہے کہ ن لیگ کی قیادت کے لئے سیاسی طور پر زندہ رہنا مشکل ہو چکا ہے۔ ایسا محسوس ہو نے لگا ہے کہ ن لیگ والے جہاں بھی جائیں گے گو نواز گو کا نعرہ ان کا سامنا کرے گا۔ حمزہ شہبازشریف کی تقریب میں جو ہوا تھا اس میں منتظمین کا قصور تھا، کیا ضرورت تھی کہ طلبا کو چھ گھنٹے انتظار کروایا جاتا۔ لیکن جو ایئر پورٹ پر پرویز رشید کے ساتھ ہوا وہ سیاسی بد اخلاقی تھی۔ جو خواجہ سلمان رفیق کی تقریب میں ہوا وہ بھی درست نہیں تھا ۔ لیکن یہ گیم تو عمران خان اور ان کے مشیران نے خود شروع کی تھی ۔ ان کو اس میں مزہ آرہا تھا ۔

حکومت دفاعی پوزیشن میں تھی، کچھ سانحہ ماڈل ٹاؤن نے حکمران جماعت کی سیاسی اخلاقی پوزیشن کو کمزور کر دیا تھا۔ اس کے بعد گلوبٹ نے نا قابل تلافی نقصان پہنچا یا۔ پھر پومی بٹ اور بلو بٹ کے واقعات نے حکومت کو مزید ڈپریشن میں مبتلا کر دیا۔ حکومت کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ،کیسے اپنی پوزیشن کو بحال کرے۔ کیسے اپنے اوپر ہونیوالی یلغار کو روکے۔ اپنے ارد گرد گھیرا تنگ ہونے سے روکے۔ ایک آزاد سیاسی ماحول میں کیسے سانس لے۔

ایک ماحول بن رہا تھا۔۔۔ جیسے ہر طرف گو نواز گو کا نعرہ لگ رہا تھا۔ لیکن بات دیکھنے کی یہ بھی تو تھی کہ یہ گو نواز گو کا نعرہ لگانے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔۔۔لیکن اب ان کا شور بہت زیادہ ہے۔ اس شور نے حکومت کی سوچنے اور سمجھنے کی صلا حیت کو متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے حکومت کی کاکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ حکومت کو صبر سے کام لینا چاہے۔ یہ حکومتوں کا کام نہیں ہے کہ وہ رد عمل کا اظہار کریں، حکومت کا کام ہے صرف عوام کی خدمت ۔۔۔ ا سلئے حکومت کو صبر کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ صبر و تحمل۔۔۔ بس ۔۔۔

مرحوم اشفاق احمد کہتے تھے کہ میں نے ایک آدمی سے صبر کی تعریف پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ جب بہت زیادہ ٹریفک ہو ، ٹریفک پھنس جائے اور ایک قدم بھی آگے نہ چل سکے ، آپ بے بس گاڑی میں بیٹھے ہوں اور آپ ہارن نہ بجائیں، بے چینی سے گاڑی کے سٹیرنگ پر اپنی انگلیاں نہ بجائیں تو اسے صبر کہا جا تا ہے۔ لیکن شاید نواز لیگ خود اس قدر بے بس پوزیشن میں ہے کہ اسے سمجھ ر نہیں آرہی۔

ایسے میں ن لیگ کے پاس کیا آپشن تھے ۔۔۔ وہ کیاکرتی ،آخر اسے بھی تو اپنے کارکنوں کو متحرک کرنا تھا۔۔۔ گو نواز گو کے بعد گو عمران گو کو بھی تو میدان میں آنا تھا۔ اور ن لیگ کے کارکن گو عمران گو کے نعرہ کے ساتھ میدان میں آہی گئے۔ اب مقابلہ زبردست ہو گا۔

ملتان میں جاوید ہاشمی کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخاب کا زور ہے۔ عمران خان بھی جاوید ہاشمی کو جیتتا نہیں دیکھنا چاہتے اسی لئے آج ملتان میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہیں۔ نواز لیگ جاوید ہاشمی کی جیت کی خواہاں ہے۔۔۔ اس لئے ملتان کی سیاست اس وقت شدید گرم ہے۔ ماحول یکطرفہ تو گرم نہیں ہو سکتا۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ حکمران جماعت نواز لیگ اگر اس وقت گو نواز گو کا جواب نہیں دے گی تو ملتان میں جاوید ہاشمی کی ضمانت ضبط ہو جائے گی جو صرف جاوہد ہاشمی کی ہار نہیں ہو گی۔

اس لئے ملتان میں ن لیگ کے کارکنوں کی جانب سے شیخ رشید کا گھیراؤ ایک حکمت عملی سے زیادہ ایک فطری رد عمل تھا۔ ن لیگ بند گلی میں پہنچ چکی ہے، اس لئے اس کے پاس اب اس کے سوا کوئی آپشن نہیں کہ مقابلہ کرے۔۔۔ ورنہ اس کے کارکن بد دل ہو کر اس کا ساتھ چھوڑ جائینگے۔ یہ اب ن لیگ کے لئے زندگی اور موت سے کم نہیں ہے۔

اس لئے اب ن لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان ہر شہر میں ٹکراؤ ہو گا ۔ صرف اسی طرح ن لیگ اپنے کارکن کا مورال دوبارہ بلند کر سکے گی۔ وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے ن لیگ کے کارکنوں کی جانب سے شیخ رشید جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اس پر گندے انڈوں کی بارش کا نوٹس لیا اور اپیل کی کہ ن لیگ کے کارکن تحمل کا مظاہرہ کریں لیکن انہوں نے کسی کارکن کی گرفتاری کاحکم نہیں دیا جس سے پالیسی میں تبدیلی واضح ہے ورنہ اس سے پہلے تو وزیر اعلیٰ پومی بٹ ، گلو بٹ اور بلو بٹ کی گرفتاری کا حکم دے چکے تھے۔ اس بار کوئی گرفتاری کا حکم نہیں ۔۔۔ اپیل تو ایک رسمی کارروائی ہے۔۔۔

اس لئے اب جس شہر میں گو نواز گو ہو گا وہاں گو عمران گو بھی ہو گا۔ یہ فیصلہ اب عمران خان اور میاں نواز شریف کو کرنا ہے کہ کیا وہ شہر شہر ، گلی گلی تصادم چاہتے ہیں؟۔۔۔ اگر ہاں تو اب میدان تیار ہے لیکن اگر ملکی مفاد کا خیال رکھا جائے تو ماحول کا ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہاں تو سیاسی ضرورت کا زیادہ خیال ہے۔ اس لئے اب تو جس مقصد کے لئے میدان تیار ہوا ہے وہی ہو گا۔

مزید : کالم