جلسہ گاہ بدنظمی: 7 افراد جاں بحق اور 45 زخمی، تحریک انصاف نے ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر ڈال دی, وزیر داخلہ کا تحقیقات کا حکم

جلسہ گاہ بدنظمی: 7 افراد جاں بحق اور 45 زخمی، تحریک انصاف نے ذمہ داری ضلعی ...
جلسہ گاہ بدنظمی: 7 افراد جاں بحق اور 45 زخمی، تحریک انصاف نے ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر ڈال دی, وزیر داخلہ کا تحقیقات کا حکم

  

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک)قاسم باغ میں تحریک انصاف کے جلسے کےبعد داخلی اور خارجی راستوں پر بد انتظامی کے نتیجے میں بھگدڑ مچنے اورشدید گرمی کی وجہ سے 45 افراد زخمی جبکہ 7 افراد  دم گھٹنےسے جاں بحق ہو گئے ، تمام زخمی  افراد کو ریسکیو 1122نے نشتر ہسپتال منتقل کر دیا . بدترین بدنظمی  کی ابتداءسٹیج پر چڑھنے کے لئے سیڑھی کی بجائے کھمبے کے استعمال سے ہوئی تاہم مرکزی قیادت ناگواری کے اظہار کے باوجود اسی راستے سٹیج پر پہنچی۔ اسٹیج پر حسب روایت کارکنوں اور قائدین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جس کی وجہ سے دھکم پیل کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 5افراد بے ہوش ہو گئے ۔دوسری طرف  پاکستان تحریک انصاف نے ملتان سانحہ کی ذمہ داری انتظامیہ پر ڈال دی۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی  چئیرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ انتظامیہ کے عدم تعاون کی وجہ سے پیش آیا۔جلسے سے ایک رات قبل ہی سٹیڈیم کی بجلی منقطع کر دی گئی تھی جبکہ جلسہ ختم ہوتے ہی تمام لائٹس بند کر دی گئیں۔سانحے پر افسوس کرتے ہوئے شاہ محمود کا کہنا تھا کہ کل سے سیکورٹی کے لیے شور مچا رہا تھا لیکن میری ایک نہ سنی گئی۔سٹیڈیم میں لوگوں کی تعداد توقع سے زیادہ تھی۔اگر گیٹ کو تالا لگا دیا جائے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔جہاں تک ہو سکا سانحے کے متاثرین کی مدد کریں گے۔تحریک انصاف کے دیگر  رہنماؤں شفقت محمود ، شیریں مزاری اور عمران اسماعیل نے بھی سانحے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور واقعے کا ذمہ دار انتظامیہ کو ٹھہرا دیا جبکہ ڈی سی او ملتان نے اس الزام کو مسترد کوتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کا کوئی بھی ذمہ دار نہیں ہے بھگدڑ مچنا محض اتفاق تھا، دوسری جانب قائد متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین ، امیر جماعت اسلامی سراج الحق ، وزیر اعظم نواز شریف اور  وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے اس حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر شدید غم اور غصے کا اظہار کیا ہےاور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں