صحرائی گوشے کے بڑے صحافی: امجد قریشی

صحرائی گوشے کے بڑے صحافی: امجد قریشی

  

امجد قریشی ہم میں نہیں رہے، ان کی تحریریں موجود رہیں گی،ان کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ انہوں نے بچپن میں ہی صحافت کے میدان میں قدم رکھ لیا۔ بہاولپور میں ان چندافراد میں ان کا نام شامل ہے جو صحافت کے پہلے قافلے کے راہی تھے۔وہ پڑھتے بھی رہے لکھتے بھی رہے انہوں نے زندگی بھراپنے آپ کو صحافت سے جوڑے رکھا۔انہوں نے صحافت اس وقت بھی کی، جب جسم کے بعض اعضاء جواب دے گئے، لیکن سوچ و بچار ، فہم و فراست کو جوانی والا مقام حاصل رہا، وہ اپنی سوچ و بچار کو مضامین کا حصہ بناتے رہے۔ امجد قریشی کا صحافت کی دنیا میں نام ملکی سطح پر جانا پہچانا جاتا تھا۔ یہ الگ بحث ہے کہ اب ان کو جاننے والے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔ انہوں نے صحافتی تنظیم میں بھرپور کردار ادا کیا،صحافتی تنظیم میں اصولی اختلاف ہوا تو دستور گروپ کے ہراول دستہ میں ان کا نام شامل تھا۔ وہ دستور گروپ کے صدر بھی بنے ،اسی گروپ سے آخری دم تک جڑے رہے۔ ۔امجد اگر بہاولپور چھوڑ کر لاہور ، اسلام آباد وغیرہ میں ڈیرے ڈال لیتے تو یقیناًان کا نام صحافت کی دنیا میں قومی سطح پر جانا پہچانا جاتا۔ وہ انتہائی ذمہ دار تجزیہ نگار تھے ،یہ بدقسمتی رہی یا ان کا صحرا کی دھرتی سے لگاؤ تھا کہ ہمارے خطے کے بڑے صحافی ملکی دھارے میں اپنا نام شامل نہ کرواسکے ،اگرچہ ان کے کالم پاکستان ،مشرق،دن اور مقامی اخبارات کی زینت بنتے رہے۔

یہ بھی بدقسمتی رہی ہے کہ ہمارے خطے کے بڑے سے بڑے دانشور بھی صحراکی وادیوں میں گم ہوکر رہ گئے۔ امجد تو خود صحرائی تھے والد محترم عبدالحمید نے اپنے نام کے ساتھ صحرائی لگالیاتھا۔ قریشی صاحب اپنی کتاب کالموں کا مجموعہ ’’گوشہ صحرا‘‘میں ذکر کرتے ہیں’’میں ایک دینی اور سیاسی سفید پوش گھرانے میں پیدا ہوا،ایک ایسے گھرانے میں جو سیاست کو دین کا حصہ سمجھتااور اس پر یقین رکھتا۔ میرا بچپن دیہات میں گزرا ،بلکہ یوں کہا جائے کہ بے آب و گیاہ صحرائے چولستان میں گزرا۔ڈیرہ نواب صاحب کے ایک چک میں پیدا ہوا، فورٹ عباس میں ہوش سنبھالا۔ جب سکول جانے کے قابل ہوا تو رصافہ میں رہتا تھا ،رصافہ ایک قصبہ کا نام ہے جو چولستان میں واقع ہے گوکبھی وہ ریلوے اسٹیشن تھا،لیکن میں نے جب پانچویں سال میں قدم رکھا تو یہ ریلوے لائن اکھڑ چکی تھی۔ ہم ایک کچے وسیع و عریض گھر میں رہتے تھے،زیر زمین پانی چونکہ کڑوا تھا ،اس لئے نہر کا پانی گھڑوں میں بھر کر پھٹکڑی ڈال کر صاف کیا جاتا تھا۔ رصافہ سے تقریباً 8میل کے فاصلے پر القریش کا ایک قصبہ تھا جہاں پرائمری سکول تھا، میں اپنے برادر بزرگ مولانا محمد اشرف کے ساتھ روزانہ اونٹ پر سکول جاتا تھا۔ روزانہ 8میل اونٹ پر سفر کرتے۔اب اس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ابھی تیسری جماعت پاس کی تھی کہ والد صاحب کا تبادلہ بہاولپور حمائیتاں ہوگیا۔ اور رہائش کے لئے وہ مکان ملا جس میں اب فوجی دفتر ہے۔ یہ مکان بغداد الجدید ریلوے اسٹیشن کے بالمقابل واقع ہے۔ یہاں آکر عباسیہ مڈل سکول بہاولپور میں داخلہ لیا، ہمارے گھر سے یہ سکول بھی تین چار میل کے فاصلے پر تھا،کبھی پیدل اور کبھی تانگہ پر سکول جاتے آتے، 1944 میں بہاولپور شہر منتقل ہوئے تو والد صاحب نے طویل رخصت لی اور اپنی خدمات مسلم لیگ کے سپرد کردیں۔

عباسیہ مڈل سکول سے مڈل کے امتحان کے بعد جامعہ عباسیہ میں داخلہ لیا ،درس نظامی پڑھنا شروع کیا ،علامہ کی ڈگری لی، اس دوران شعبہ صحافت میں داخل ہوگیا،کیونکہ والد صاحب نے ہفت روزہ ’’بے باک‘‘ کے نام سے اخبار جاری کیا اور مدیر معاون کی حیثیت سے میرا نام اخبار کی پیشانی پر شائع ہوا ،تو لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اس ادارے کے زیر اہتمام پندرہ روزہ عزم ، پندرہ روزہ نوائے بہاولپور ، ماہنامہ خاتون ،ماہنامہ تبلیغ اور ہفت روزہ دفاع شائع ہوتے رہے‘‘۔۔امجد قریشی صاحب نے روزنامہ ’’کوہستان ‘‘میں تین سال ، روزنامہ ’’مشرق‘‘میں 14سال بطور نمائندہ خصوصی اور ڈسٹرکٹ نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا ۔’’ گوشہ صحرا‘‘ اور ’’روہی رنگ‘‘ کے نام سے کالم نگاری کرتے رہے۔روزنامہ دن اور روزنامہ پاکستان میں کئی سال کالم لکھتے رہے ۔انہی کالموں کا مجموعہ گوشہ صحرا کتاب کی شکل میں موجود ہے۔ معروف پارلیمنٹرین و ستارہ امتیاز سید تابش الور ی ان کو اس طرح خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ’’امجد قریشی ایک ایسے کہنہ مشق صحافی اور حقیقت نگار کالم نویس ہیں، جن کا اوڑھنا بچھونا، اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا،بلکہ جینا مرنا بھی صحافت سے وابستہ رہا۔ وہ ایسے گنے چنے لوگوں میں سے تھے جو مال مست نہیں کھال مست تھے، وہ صحافت، سیاست اور حکومت کی راہ داری کی حیران کن چمک دمک سے بے نیازانہ گزرے اور ناجائز مفادات اور خواہشات کی ریل پیل سے بچ بچ کر نکلے۔ ’’وصول ‘‘ کی جگہ ’’اصول ‘‘ ان کا عمومی وتیرہ رہا ۔فنکارانہ ،انا، خودی اور بے نیازی ان کے مزاج کے اربع عناصر تھے‘‘۔ ۔

امجد قریشی کے آخری سال اگرچہ تنگ دستی میں گزرے ،لیکن خودی کا دامن نہ چھوڑا یہ اعزاز اپنی جگہ، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں اب بھی حلقوں کی نظر ان پر نہ پڑی ،حکومت کی نظر تو کیا پڑنا تھی۔ ان کے اعزاز میں اسلامیہ یونیورسٹی کے گھوٹوی ھال میں مختار سٹڈی سرکل کے زیر اہتمام تقریب پذیرائی رکھی تھی جہاں پر راقم کو بھی اظہار خیال کا موقع ملا، تب بھی راقم نے کہا تھا کہ امجد قریشی کا جرم یہ ہے کہ وہ بہاولپور ی ہیں اور بہاولپور میں رہتے ہیں۔ اس لئے کسی ادارے کی ان پر نظر نہ پڑی، کیونکہ ان کی نظریں اسلام آباد ،لاہور اور دیگر بڑے شہروں سے باہر نہیں نکلتیں،تقریب کے مہمان خصوصی وزیر مملکت تعلیم وداخلہ انجینئر بلیغ الرحمن تھے، لیکن پھر بھی گھوٹوی ھال میں اٹھنے والی صدا لاہور اسلام آباد میں نہ پہنچی ،اب تو امجد قریشی اس دنیامیں رہے نہیں ، اب آس امید کیا لگانا۔

مزید :

کالم -