مضبوط پاکستان ہی ہندوستان کی بقا کا ضامن ہے

مضبوط پاکستان ہی ہندوستان کی بقا کا ضامن ہے
مضبوط پاکستان ہی ہندوستان کی بقا کا ضامن ہے

  

بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے ملحق ہندوستانی سرحدی علاقوں میں خوف کا ماحول ہے۔سرحدی دیہات سے حکومتی اعلانات کے بعد لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے ۔اٹاری، رانیا، فیروز پوراور گورداس پور سکیٹر کے کئی دیہات خالی کرالئے گئے ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں دوہرے نقصان کا سامنا ہے۔انہیں اپنی کھڑی فصلیں بھی چھوڑنی پڑ رہی ہیں اور گھر بھی چھوڑنا پڑ رہا ہے۔بی بی سی کو پنجاب کے سرحدی گاؤں کے ایک نوجوان نے بتایا : ’’گوردوارے کے سپیکر سے حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ دو اڑھائی گھنٹے کے اندر اندر گاؤں خالی کردیا جائے۔غریب لوگ اپنے بچوں اور تھوڑا بہت سامان لے کرگاؤں سے چلے گئے۔بچوں کے سکول بھی بند کر دئیے گئے ہیں، کوئی کیمپ بھی نہیں ہے، جہاں پناہ لی جائے‘‘۔ایک بوڑھے شخص کا کہنا تھا ’’خطرہ اس بات کا ہے کہ کہیں دونوں ممالک کے درمیان جنگ نہ ہو جائے۔ عوام کافی پریشان ہیں،خاص طور پر میڈیا نے جو ڈر کا ماحول پیدا کیا ہے، اس سے لوگ بہت خوف زدہ ہیں۔لوگ بکھر جاتے ہیں،ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے ہم یہ چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہو‘‘۔۔۔ ایک اور معمر شخص کا کہنا تھا:’’آپ کہتے ہیں کہ سیز فائر ختم کردیں گے، کسی کو پتہ نہیں ہے کہ گولہ کہاں گرے گا، بنکر میں گرے گا یا ہمارے اوپر گرے گا‘‘۔ہندوستانی سرحدی علاقوں کے برعکس پاکستانی سرحدی علاقوں میں ایسی ہیجانی کیفیت نہیں ہے،البتہ شکر گڑھ سیکٹر اور سیالکوٹ کے بجوا ت سرحدی علاقوں سے اپنی مدد آپ کے تحت کچھ گھرانوں نے نقل مکانی ضرور کی ہے۔

انڈیاکی گورونانک دیو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسرجگروپ سنگھ شیخوں اسے پنجاب اور دیگر ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے ’’انتخابات کے پیش نظرایک طرح کا جنگی جنون پیدا کیا جارہا ہے۔ ایک طرح کا جارحانہ قوم پرستی کا ماحول بنایا جارہا ہے۔ حکومت پر عوام کا اعتماد ختم ہوچکا ہے، ان کے پاس عوام کے پاس جانے کے لئے مدعا نہیں ہے، اس لئے وہ ایک نیا مسئلہ کھڑا کر رہے ہیں‘‘،انڈین پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کا بھی کم و بیش یہی کہنا ہے: حقیقت بھی یہی ہے کہ مودی نے پہلے بھی نفرت اور تعصب ہی کو بڑھاوا دے کرمتعصب اور جنونی ہندو ووٹ کے بل پر اقتدار تو حاصل کر لیا، لیکن عوام کوکچھ دینے کے لئے ا ن کا دامن خالی ہے ،اسی لئے وہ پھر نفرت اور تعصب والا پرانا فارمولا استعمال کررہے ہیں،لیکن انڈیا کے غیر جانب دارمبصرین یہی کہہ رہے ہیں کہ جنگ کا ماحول نہیں ، اگر ہوئی تو زیادہ نقصان انڈیا ہی کا ہوگا۔ پاکستان کے تجزیہ کار بھی یہی کہہ رہے ہیں۔انڈیا میں پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط کا کہنا ہے: ’’پاک بھارت میں جنگ کا ماحول نہیں، بات چیت کرنا ہوگی‘‘۔اسی طرح سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا بھی کہنا ہے کہ ’’پاک بھارت جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے‘‘۔

جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، بلکہ اس کی وجہ سے مزید کئی مسائل جنم لے لیتے ہیں۔ اس سے قبل بھی پاک بھارت جنگوں میں مسئلہ بجائے حل ہونے کے مزید پیچیدہ ہوگیا اور دونوں ممالک زبردست جانی و مالی نقصانات کے باعث کمزور تر ہوتے چلے گئے۔فرض کریں کہ مودی اپنے جنون ،یا پھراپنے متعصب اور جوشیلے پیروکاروں کے دباؤ کی وجہ سے جنگ چھیڑ دیتے ہیں تو حاصل کیا ہوگا؟ اول تو بے گناہ خلق خداہی دونوں طرف ماری جائے گی، کچھ یتیم ہوں گے،بے آسرا ہوں گے، کچھ بوڑھے لوگ جو اپنی ضعیفی کے باعث کہیں آجانہیں سکتے،ان کا کیا بنے گا، خوراک اور دوائیں ناپید ہوجائیں گی۔اس سب کا وبال مودی کی گردن پر ہوگا اور تاریخ اسے ہمیشہ ایک’’ولن‘‘ کے طور پر پکارے گی۔ پاکستان بھی ایک نیو کلیر طاقت ہے، وہ کبھی بھی اس کا آسان شکار نہیں بنے گا۔ اگر جنگ کسی کی بھی غلطی کی وجہ سے ایٹمی جنگ کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو ہندوستان پر گرایا جانے والا بم تو اس پر گرے گا ہی، لیکن پاکستان پر گرایا جانے والا بم بھی اس کے نزدیک ہونے کے باعث اپنے برے اثرات کے باعث دراصل اس پر ہی گرے گا۔ فرض کیا جائے کہ خدانخواستہ انڈیا کی سازشوں کے باعث پاکستان کمزور ہوجاتا ہے، اس کی ذیلی ریاست بن جاتا ہے یا پھر خاکم بدہن ختم ہوجاتا ہے تو اس کے بعد کیابھارت امن و سکون سے رہ سکے گا؟ اس کے کروڑوں کی تعداد میں مسلمان کیا کشمیری مجاہدین جیسا کردار شروع نہیں کردیں گے!

تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان ہمیشہ سے مسلمان حملہ آوروں کا پسندیدہ نشانہ رہا ہے۔ اس وقت پاکستان نہیں تھا،جب شہاب الدین غوری نے باہر سے آکر پرتھوی راج کو شکست دی تھی۔ محمود غزنوی نے غزنی سے آکر ہندوستان کی با ر بار اینٹ سے اینٹ بجائی تھی اور سومنات کو پاش پاش کیا تھا۔ ظہیر الدین بابر ہو،شاہ زمان ہو یا احمد شاہ ابدالی، ان سب کا راستہ پشاور اور پنجاب ہی رہا، جہاں سے یہ ہندوستان میں داخل ہوئے۔ محمد بن قاسم نے عرب سے آکر راجہ داہر کو شکست دی۔ نادر شاہ ایران سے آیا اور تین دن تک اس کی فوج کو دلی میں جو انسان نظر آیا،تہہ تیغ کردیا۔جاتے ہوئے نادر شاہ سارا خزانہ،کوہ نور اور تحت طاؤس ایران لے گیاجو آج ترکی کے عجائب گھر میں پڑا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ ہندوستان اگر قائم رہ سکتا ہے تو صرف ایک مضبوط پاکستان کی بدولت۔ اگر ہندوستان اپنے ایجنٹوں، براہمداغ بگتی یا غفار خان کی پوتی جیسے ا پنے گماشتوں کی مدد سے ’’ را‘‘ کی سازشوں اور پاکستان کی نااہل قیادت کی بدولت پاکستان کو کمزور کردیتا ہے تو ذرا سوچے، آگے کیا ہے! راستہ صاف ہے، افغانستان ہے، جس میں کبھی مستقل پائیدار امن قائم نہیں ہوا۔ کابل کے متعلق کہا جاتا ہے وہاں’’جھاڑیاں ہیں، پہاڑیاں یا پھر داڑھیاں‘‘ یعنی وہاں کچھ کھانے کو فصل نہیں اگتی، وہ لوگ دوسروں پر ہی انحصار کرتے ہیں۔

پچھلے دور میں ان کی آمدن کا بڑا ذریعہ جنگیں ہی رہی ہیں۔ آج انڈیا والے ’’افغان بھارت بھائی بھائی‘‘ کے نعرے سن کر مست ہورہے ہیں، لیکن وقت اور حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ احمد شاہ ابدالی کی آدھی اولا د نے اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی تھی۔ جو لوگ اپنے بھائیوں کی آنکھیں نکال لیتے ہیں، پاکستان نہ ہوا تو ان کا سیدھا پڑاؤ دہلی ہی ہو گا۔افغانستان کے آگے سارا وسطی ایشیا مسلمان ممالک پر مشتمل ہے ۔دوسری طرف دیکھیں تو ایران مسلمان ملک ہے۔ اس کے ساتھ عراق، پھر شام، خلیجی ممالک، سعودی عرب اور پھر یمن۔یہ سب مسلم ممالک ہیں، غور فرمائیے کہ داعش جیسی تنظیم جس نے عراق اور شام کے نصف حصے پر قبضہ کررکھا ہے اور سارا یورپ اس کی دہشت سے لرز رہا ہے ، اس جیسی تنظیم کے لئے ہندوستان ہی سب سے بڑی کشش ہو گی۔ اگر خدانخواستہ پاکستان نہ رہا،کیونکہ سب کی راہ میں یہی ایک دیوار ہے۔ سو کوئی ہے جو نریندمودی اور اس کے چیلوں کو یہ بتائے کہ بیرونی حملہ آوروں کے لئے سب سے بڑی دیوار پاکستان ہے، اس دیوار کو مضبوط بنائیے ،یہ دیوار کمزور پڑی تو ڈاکو اس کو پھلانگ کر آپ کو مار ڈالیں گے۔ ہندوستان کی بقاپاکستان ہی سے مشروط ہے اور ’’مضبوط پاکستان ہی ہندوستان کی بقا کا ضامن ہے‘‘ ۔ ضرورت ہے کہ دونوں ممالک مل بیٹھ کر ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کی بنیاد پر اپنے مسائل حل کریں ۔ لڑنا ہے تو واقعی غربت کے خلاف مل کر لڑیں، اس سے اچھی کوئی بات نہیں۔

مزید :

کالم -