ملکی سالونٹ انڈسٹری مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا بڑا ذریعہ

ملکی سالونٹ انڈسٹری مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا بڑا ذریعہ
 ملکی سالونٹ انڈسٹری مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا بڑا ذریعہ

  

بھارت سے غیر معیاری سویا بین مِیل کی درآمد بند ہونے کے بعد پاکستان میں کمرشل سطح پر مرغیوں کی مجموعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، مقامی سطح پر ملکی ضرورت سے زائد پیداوار کے باعث برائلر کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں، لاہور پولٹری ٹریڈرز ایسوسی ایشن کی ریٹ کمیٹی کے مطابق گزشتہ روز زندہ مرغی کا فارم گیٹ ریٹ 98 روپے فی کلو تھا، جبکہ صوبائی دارالحکومت میں مرغیوں کی سب سے بڑی ٹولنٹن مارکیٹ میں فی کلو گوشت 159 روپے میں فروخت ہوا۔شہر کی سبزی منڈیوں میں ٹماٹرکی دو سو روپے اور پیاز کی 100 روپے فی کلو میں فروخت کے دنوں میں مرغی کا گوشت 130 روپے فی کلو تک ہونا شہریوں کیلئے کسی خوشگوار حیرت سے کم نہیں، لیکن یہ ریٹ پولٹری فارمرز کے لئے ناقابلِ برداشت حد تک نْقصان دہ ہیں ۔

گزشتہ 6ماہ سے مرغی کا گوشت پیداواری لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت ہورہا ہے ،موجودہ حالات میں پولٹری اور فارمر نہایت سنگین صورتحال سے دو چار ہیں اور اس امر کو میڈیا اور حکومتی اداروں تک پہنچانا از حد ضروری ہے کیونکہ مرغی کے گوشت کی موجودہ قیمت کو کسی طور پر بھی آئندہ کیلئے مثال نہیں بنایا جا سکتا ہے ایسے حالات میں جب مرغی پیداواری لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہو اور فارمرز کا دیوالیہ نکل جائے ان حالات میں چھوٹے فارمرز اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ پورے سال میں ایک ، دو ماہ جب مرغی کی قیمت اوپر جاتی ہے تو سرکاری محکمے فوری طور پر اسے کنٹرول کرنے کیلئے میدان میں آ جاتے ہیں، مرغی کا گوشت بیچنے والوں کے چالان کئے جاتے ہیں اور ڈیلروں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے جو غیر منصفانہ عمل ہے۔ مرغی ایک انتہائی’’پیریش ایبل آئٹم ‘‘ ہے اورمخصوص وزن کے بعد اسے کسی طور بھی ہولڈ نہیں کیا جا سکتا لہٰذامرغی کی قیمتوں کا تعلق خالصتاً طلب و رسد پر منحصر ہے اور ’’فری مارکیٹ ‘‘کے اس بنیادی اصول کے تحت ہی منڈیوں میں قیمتیں طے ہوتی ہیں۔ اگر حکومت قیمتیں زیادہ ہونے پر حرکت میں آتی ہے تو قیمتیں انتہائی سطح سے بھی کم ہونے پر بھی فارمر کی مدد کو آنا چاہیے کیونکہ اگر حکومت ’’کنٹرولڈ مارکیٹ ‘‘ چاہتی ہے تو مرغی کی پیداواری لاگت ، بجلی ، پٹرول کے نرخ اور دیگر لوازمات کو جمع تفریق کر کے اس کی کم از کم قیمت بھی فکس کردے اور زیادہ سے زیادہ بھی۔بعض حکومتی شخصیات کی مرغی کے کاروبار سے وابستگی کو بھی اپوزیشن کے ارکان ہدف تنقید بناتے ہیں جن سے عوامی سطح پر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید مرغی کی قیمتوں کو اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کیا جا سکتا ہے حالانکہ ہم با ر بار یہ کہتے آئے ہیں کہ مرغی کی قیمتیں طلب و سد کے فطری اصولوں کے مطابق طے ہوتی ہیں اعشاریہ کچھ فیصد تو کجا مجموعی ملکی پیداوار میں 20 فیصد کا حصہ دار بھی مرغی کی قیمتوں کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکتا۔

اس حوالے سے مرغی کے پیداواری عمل کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، پاکستان میں صنعت مرغبانی گزشتہ ایک عشرے سے نہایت جدید خطوط پر استوار ہو گئی ہے اور مرغیوں کی پیداوار کنونشنل فارمنگ کے روایتی طریقوں سے نکل کر جدید’’کنٹرول شیڈز ‘‘میں منتقل ہو چکی ہے جہاں بائیو سیکیوریٹی ، پولٹری ویکسین اور انتہائی نگہداشت کے باعث مرغیوں کی افزائش میں بے حد اضافہ ہْوا ہے،علاوہ ازیں بھارت سے درآمد شدہ ناقص سویا بین میلِ کی درآمد بند ہونے اور اس میٹریل کی مقامی سالونٹ پلا نٹس پر تیاری کے باعث پولٹری انڈسٹری کی کار کردگی میں انقلاب پیدا ہوا ہے۔

پولٹری فیڈ کی تیاری میں تیس فیصد تک استعمال ہونیوالے سویا بین مِیل کی بھارت سے بے تحاشا درآمد بند ہونے کے بعد پولٹری فیڈ کی ایف سی آر( فیڈکنورشن ریشو1.52 پر آ گئی ہے ، یعنی فیڈ کی ایک بوری کھانے کے بعد 26 کلو زندہ برائلر بنتا تھا جو 32 کلو کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ بھارت سے ناقص سویا بین میل کی بے تحاشا درآمد بند ہونے سے ناصرف اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ ضائع ہونے سے بچا ہے بلکہ ملکی سالونٹ انڈسٹری کا پہیہ تسلسل کے ساتھ چلنے سے لوگوں کواضافی روزگار بھی ملا ہے۔

چند برس قبل تک مقامی طور پر سویا بین مِیل کی تیاری ایک خواب تھا تاہم اب پاکستان اس شعبے میں ترقی کر گیا ہے اور بیرون ممالک سے معیاری سویا بین بیج منگوا کر سویابین مِیل سمیت دیگر مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔

سی پیک کے تناظر میں اگر ملکی صنعت کو مناسب اور مسابقتی سہولتیں دی جائیں تو مستقبل میں پاکستان سویا بین مِیل برآمد کرنے کی پوزیشن میں بھی آ سکتا ہے، علاوہ ازیں حکومت کو چاہیے کہ مرغی کی اضافی پیداوار کے پیش نظر اسکی قیمتوں میں اس حد تک استحکام کو یقینی بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے کہ فارمر اور کنزیومر دونوں کی ضرورتوں میں ایک مناسب توازن قائم رہے نہ تو قیمتیں اتنی کم ہو جائیں کہ فارمر ناقابلِ برداشت نقصان کا شکارہو کر کاروبار سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے جس کے نتیجہ میں مْرغی کے گوشت کی اتنی قلت ہو جائے کہ عام آدمی کی پہنچ سے ہی باہر ہو جائے اور نہ ہی کنزیومر کو بلا وجہ مہنگی مرغی خریدنی پڑے اس مقصد کیلئے ایک جامع حکمتِ عملی تشکیل دی جا سکتی ہے جس میں پولٹری انڈسٹری، زندہ مْرغی فروخت کرنے والے حضرات (جو کہ کل مرغی کا چھیا نوے فی صد فروخت کرتے ہیں )اور کنزیومرز کے نمائندوں کے اشتراک سے ایک مستقل فورم تشکیل دیا جائے جو قیمتوں کی مْستقل نگرانی بھی کرے اور تعین بھی کرے۔

مزید :

کالم -