کراچی پورٹ ، 3لاکھ ٹن سویا بین سیڈ ۱کے 5جہاز ڈیڑھ ماہ بعد بھی کلیئر نہ ہوئے

کراچی پورٹ ، 3لاکھ ٹن سویا بین سیڈ ۱کے 5جہاز ڈیڑھ ماہ بعد بھی کلیئر نہ ہوئے

  



لاہور(کامرس رپورٹر)کراچی پورٹ پر3 لاکھ 30 ہزار ٹن سویا بین سیڈ اور کینولا سے لدے پانچ جہازڈیڑھ ماہ بعد بھی کلیئر نہ ہو سکے، پلانٹ پراٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے5 جہازوں کو 45 دن بعد بھی کلیئرنس نہ ملنے پر غیر ملکی تجارتی کمپنیوں نے رد عمل کے طور پر پاکستانی مصنوعات پر اپنے ممالک میں نان ٹیرف بیریئر لگانے کا عندیہ دے دیا ہے، صورتحال کے باعث پاکستان کے ٹیکسٹائل، لیدر اور سرجیکل سمیت فوڈ گروپ کے بڑے برآمد کنندگان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جن کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ جیسے ممالک سے آئے ہوئے لاکھوں ٹن مال سے لدے جہاز مسلسل ڈیڑھ ماہ تک کلیئر نہ ہونا پاکستانی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت فوڈ سیکورٹی کا قلمندان گزشتہ کئی ماہ سے خالی تھا جس کے باعث اس کے ذیلی ادارے پلانٹ پراٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کا کوئی پرسان حال نہیں تھا تاہم چند روز قبل اس وزارت کیلئے صاحبزادہ محمدمحبوب سلطان کی تعیناتی عمل میں لائی گئی جنہیں فوری طور پر جہاز کلیئر نہ کرنے کے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرنی چاہیے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں گرتی ہوئی برآمدات معیشت کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہیں جسے بہتر کرنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کی ٹیم کام کر رہی ہے ، تاہم دوسری جانب بندر گاہوں پر غیر ملکی کمپنیوں کا مال کلیئر نہیں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی برآمدات بھی ان غیر ملکی منڈیوں میں مشکلات سے دو چار ہو سکتی ہیں،اس وقت پاکستان پر بیرونی قرضہ 60 ارب ڈالر سے بڑھ کر 95 ارب ڈالر ہو چکا ہے، جبکہ بجٹ خسارہ بھی 16 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر قابو پانے کیلئے پلانٹ پراٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی کے باعث کراچی پورٹ پر پھنسے ہوئے جہاز کلیئر نہ ہونے کا فوری نوٹس لے۔

مزید : کامرس