ان ڈائریکٹ ٹیکسز کاپچاس فیصد قرضے اتارنے کیلئے مختص کیا جائے ‘انجمن تاجران

ان ڈائریکٹ ٹیکسز کاپچاس فیصد قرضے اتارنے کیلئے مختص کیا جائے ‘انجمن تاجران

  



لاہور( این این آئی)آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ قرضوں میں جکڑا ملک معاشی طور پر کسی صورت بھی ترقی نہیں کر سکتا ،کھربوں روپے مالیت کی بیکار پڑی سرکاری اراضی کی فروخت اوران ڈائریکٹ ٹیکسز سے حاصل ہونے والی آمدنی کے پچاس فیصد حصے کو قرضے اتارنے کیلئے مختص کیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اشرف بھٹی نے کہا کہ حکومت کو ڈنڈا پکڑنے کی بجائے اصلاحات کے ذریعے آسانیاں پیدا کرے ۔ سرکاری اداروں کے اہلکار خود چور راستے دکھاتے ہیں جس سے قومی خزانہ کو اربوں روپے کانقصان ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسیشن کے نظام کی ری سٹرکچرنگ کی صورت ہے بصورت دیگر ٹیکسزاکٹھے ہونے کی شرح بڑھنے کی بجائے کم ہوتی جائے گی ۔حکومت ایسے اقدامات جس سے عوام کو تحفظ کا احساس ہو نہ کہ ناکہ مایوسی پھیلے ۔ موجودہ حالات میں ہر شعبے میں بے یقینی کی فضاء طاری ہے جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔اشرف بھٹی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ تاجروں کی کیٹگریز بنا کر فکس ٹیکس نافذ کیا جائے۔

اور ہم اس کیلئے مارکیٹوں کے سروے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے بھی لئے تیار ہیں۔

مزید : کامرس