پاکستان کے ممتازکارڈیالوجسٹس اور ریڈیالوجسٹس کے لیے جی ای ہیلتھ کےئر اور شیرازی ٹریڈنگ کی تعلیمی ورکشاپس

پاکستان کے ممتازکارڈیالوجسٹس اور ریڈیالوجسٹس کے لیے جی ای ہیلتھ کےئر اور ...

لاہور(پ ر) جی ای(NYSE: GE) نے شیرازی ٹریڈنگ کے تعاون سے راولپنڈی میں Magnetic Resonance Imaging (MRI) اور Computed Tomography (CT) پر متعدد ورکشاپس منعقد کیں۔ان ورکشاپس کی رہنمائی ممتاز کارڈیالوجسٹ، ڈاکٹر صائمہ مشتاق اور جی ای ہیلتھ کےئر کے کلینیکل لیڈرز،Murat Karakoc اور ابراہیم الموجی نے کی ، جن میں کراچی ، لاہور اسلام آباد، ملتان، پشاور، بہاولپور اور فیصل آباد کے کلینکس اور ہسپتالوں 60 سے زیادہ اسپیشلسٹس نے شرکت کی،اس دوران لیکچرز دیئے گئے ، کیس اسٹڈیز پر غور کیا گیا اور تربیت دی گئی۔

جی ای ہیلتھ کےئر کے ایم آر اور سی ٹی پروگرام ،جی ای کی جدید ترین ایڈوانسڈ ورک اسٹیشن سرور 3.2 کلینیکل ایپلیکیشنز استعمال کرتے ہوئے منعقد کیے گئے۔تربیت کے طریقہ ء کار ،جس میں اسکیننگ اور پوسٹ پراسیسنگ فنکشنز کو یکجا کیا گیا تھا ،رئیل کیس اسٹڈیز اور ماہرین کے ساتھ ریڈنگ سیشنز میں جائزہ لیتے ہوئے متعارف کرائے گئے۔ان ورکشاپس کا مقصد مقامی اسپیشلسٹس کو ان کی فہم اور مہارت کو بہتر بنانے میں مدد دینا تھا جن کی انھیں پاکستان میں مریضوں کو بہتر نگہداشت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

جی ای ہیلتھ کےئر کے کلینیکل لیڈرCT- ،مرات کراکوک نے lung nodule analysis & lung emphysema analysis, liver volume & segmentation, bone removal and vessel analysis, aneurysm analysis & hematoma measurement, brain stroke evaluation, CT colonoscopy & polyp analysis, cardiac vessel analysis and dual energy applications سمیت انتہائی اہم ایریاز کا احاطہ کیا۔

جی ای ہیلتھ کےئر کے ایم ڈی، ایم آر آئی کلینیکل لیڈر،ڈاکٹر ابراہیم الموجی نے hepatic steatosis, fibrosis & Iron overload جیسی جگر کی بیماریوں کے علاج کے بارے میں حالیہ پیش رفت کے حوالے سے سیشنز کی رہنمائی کی اور ایسے کیسز کا جائزہ لینے میں رہنمائی کی ،جن میں اس قسم کے مخصوص علاقوں تک محدود اور پیچیدہ امراض کی تشخیص میں جدید ایم آر آئی ٹیکنالوجی کی اہمیت کو ظاہر کیا گیا تھا۔انھوں نے ایم آر آئیperfusion اور کلینیکل استعمال کے لیے tractography کے امکانات بڑھانے پر بھی روشنی ڈالی۔

شیرازی ٹر یڈنگ کے سی ای او،فاروق سلیم نے کہا کہ " اس قسم کی مخصوص ورکشاپس جی ای ہیلتھ کےئر کی جدید ترین ٹیکنالوجیز استعمال کرتے ہوئے تربیت میں مدد فراہم کرتی ہیں تاکہ ہیلتھ پروفیشنلز اپنے علم میں اضافہ کر سکیں۔شیرازی اور جی ای ہیلتھ کےئر اس جدید ٹیکنالوجی کو پاکستان کے ہیلتھ کےئر سیکٹر میں لانے کے لیے پر عزم ہیں" ۔

Milan's Centro Cardiologico Monzino کی کارڈیالوجسٹ، ڈاکٹر صائمہ مشتاق نے clinical indication of Cardiac CT and tecnological developments; prognostic role of cardiac CT and plaque vulnerability, FFR-CT; CT perfusion; CMR priciples, sequences, scan protocols, post-processing and clinical applications of Cardiac MRI کے بارے میں تین کلینیکل کارڈیک ورکشاپس میں معاونت کی ۔

ڈاکٹر صائمہ نے کہا کہ " کارڈیک سی ٹی اور ایم آر آئی ٹیکنالوجی میں زبردست ترقی ہوئی ہے اور یہ بات انتہائی اہم ہے کہ میڈیکل پریکٹشنرز جدید ترین رجحانات سے آگاہ ہوں ،تاکہ وہ اعلیٰ معیار کی دیکھ بھال فراہم کر سکیں۔مثال کے طور پر کارڈیک سی ٹی وہ واحد طریقہ ہے جو anatomy کا اندازہ لگا سکتا ہے اور ایک اسکین میں stenosis کا فنکشنل تجزیہ کر سکتا ہے۔یہ ورکشاپس ملک میں ہیلتھ کےئر کے معیارات مزید بڑھانے کے لیے انتہائی مفید ہیں" ۔

جی ای ہیلتھ کےئر پاکستان کے کنٹری مینجر، ڈاکٹر مظہر قریشی نے کہا کہ " طرز حیات سے جڑی ہوئی بیماریوں میں اضافہ سے ان کی جلد تشخیص اور برقت علاج پر توجہ مرکوز کرنا انتہائی اہم ہے ہمیں امید ہے کہ ان ورکشاپس کے ذریعے اور اس قسم کی دوسری طبی تعلیمی سرگرمیوں سے پاکستان میں صحت عامہ کے معیارات کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔جی ای ہیلتھ کےئر نہ صرف ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ذریعے بلکہ طبی برادری کو علم کی منتقلی کے ذریعے بھی ہیلتھ کےئر سیکٹر کو تبدیل کرنے میں مدد دینے کے لیے پر عزم ہے " ۔

مزید : کامرس