ایک بار پھر آئی ایم ایف کے کوچے میں

ایک بار پھر آئی ایم ایف کے کوچے میں

تحریک انصاف کی حکومت نے بالآخر بیل آؤٹ پیکج کے لئے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس جانے اور قرض حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے وزیر اعظم عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے، وزیر خزانہ اسد عمر اس مقصد کے لئے انڈونیشیا روانہ ہوگئے ہیں جہاں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس ہو رہے ہیں وہ اِن اجلاسوں میں شرکت کریں گے، سٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ سیکرٹری اقتصادی امور غضنفر عباس جیلانی اور سپیشل فنانس سیکرٹری نور احمد بھی ان کے ہمراہ ہیں، وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ معاشی بحران پر قابو پانے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا مشکل فیصلہ کیا یہ حکومت کے لئے بڑا چیلنج تھا لیکن ملک کے کمزور طبقے پر حکومت کے مشکل فیصلوں کے اثر کو کم کرنے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا گیا معاشی بحالی کے لئے ہمارا ہدف صاحبِ استطاعت افراد ہیںآئی ایم ایف سے ایسا پروگرام لینا چاہتے ہیں جس سے معاشی بحران پر قابو پایا جاسکے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں تاکہ تحریک انصاف کواپنے معاشی پروگرام میں تبدیلی نہ کرنی پڑے وزارتِ خزانہ کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ معتبر معاشی ماہرین کی مشاورت کے بعد حکومت نے معیشت کے بحالی پروگرام اور استحکام کے لئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کئی ہفتوں سے جو اقدامات کررہی تھی اور پچھلے ہفتے آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ جو مذاکرات ہوئے ان سے یہ اندازہ تو پوری طرح ہوگیا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جارہی ہے لیکن ’’نیمے دروں نیمے بروں‘‘ کی کیفیت میں ہے، بیل آؤٹ پیکج لینا بھی چاہتی ہے اور یہ بھی کہہ رہی ہے کہ شاید ضرورت نہ پڑے اگرچہ معاشی ماہرین عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف سے پیکج لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں لیکن حکومت ان ماہرین کی آرا کونظر انداز کرکے ’’سیاسی فیصلے‘‘ کرنے کو ترجیح دے رہی تھی اور اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی انتخابی مہم کے دوران تسلسل کے ساتھ قرضوں کی پالیسی کو ہدف بناتے رہے اور اب تک ایسا کررہے ہیں یہاں تک کہ ایک موقع پر وہ جوش جذبات میں یہ تک کہہ گزرے تھے کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خودکشی کو ترجیح دیں گے، ویسے تووہ اس طرح کے کئی اور بیانات بھی دیتے رہے جن سے اب وہ رجوع کرچکے ہیں لیکن ستم ظریف سیاست دان ایساموقع کب جانے دیتے ہیں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو اُن کے وعدے یاد دلانا شروع کردئے ہیں۔

سیاسی بیانات اور سیاسی دعووں سے قطع نظر امر واقعہ یہ ہے کہ کافی عرصے سے بہت سے معاشی ماہرین کہہ رہے تھے کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر چارہ نہیں اور قرضہ لے کر معاشی مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے،اب بھی ان ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اچھا فیصلہ کیا ہے اگرچہ اس میں تاخیر کردی ہے اگر پہلے ہی یہ فیصلہ کرلیا جاتا تو معاشی حوالے سے گو مگو اور غیر یقینی کی جو صورت پیدا ہوئی وہ نہ ہوتی، اب وزیر خزانہ بھی وہی باتیں کہہ رہے ہیں جو معاشی ماہرین ایک طویل عرصہ قبل کہہ چکے اور مسلسل کہتے رہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ معاشی امور میں معاشی ماہرین کی رائے ہی کو اولیت حاصل ہونی چاہئے اور ان مسائل پر سیاست نہیں کرنی چاہئے غالباً یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپوزیشن کو کئی بار یہ پیش کش کی کہ ایک اقتصادی چارٹر طے کرلیا جائے اور حکومت کسی بھی جماعت کی ہو جو اقتصادی پالیسی ایک بار سوچ بچار کے بعد وضع کرلی جائے اسے جاری رکھا جائے لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اُن کی اس پیش کش کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اقتصادی مسائل پر بھی خوشی خوشی سیاست کی جاتی رہی اور اب تک کی جارہی ہے، بس اتنا ہوتا ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف کے چہرے بدل جاتے ہیں سیاست جاری رہتی ہے، تاہم سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا آخری بجٹ پیش کیا تھا کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ درست ہے اور وہ اس کی مخالفت نہیں کریں گے تاہم انہوں نے کہا کہ جو بجٹ انہوں نے پیش کیا تھا اس میں معاشی مشکلات سے نکلنے کا حل موجود تھا اور تحریک انصاف کی حکومت نے اس پر نظر ثانی کرکے ضمنی بجٹ پیش کرنے میں جلد بازی سے کام لیا، ہماری بجٹ تجاویز تحریک انصاف کی تجاویز سے کہیں بہتر تھیں۔

اب آئی ایم ایف کے پاس جانے کے فیصلے پر معاشی ماہرین تقسیم ہیں ایسے بھی ہیں جو اس کے حامی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں یہی فیصلہ درست اورمبنی بر حقیقت ہے زیر گردش قرضوں کا بوجھ اورخسارہ کم کرنے کے لئے قرضے لینا حکومت کی مجبوری ہے اور اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا کیونکہ دوست ملکوں کی امداد کے بارے میں جو غیر حقیقی توقعات وابستہ کرلی گئی تھیں وہ بالآخر درست ثابت نہیں ہوئیں۔ آئی ایم ایف کے پیکج کے بارے میں یہ بات درست طور پر سمجھ لینی چاہئے کہ یہ پیکج نو، دس، بارہ ارب ڈالر جتنے کا بھی ہو یہ ایک قرض ہے اور اسے طے شدہ طریق کار کے مطابق مقررہ مدت کے اندر واپس بھی کرنا ہوگا جیسے پہلے قرض واپس کئے جارہے ہیں، بلکہ اُن کے سود کی قسط ادا کرنے کے لئے بھی قرضہ لینا پڑتا ہے، آئی ایم ایف کے پیکج کی بات کئی ہفتوں سے چل رہی تھی بلکہ امریکہ نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو قرض نہ دے کیونکہ وہ اس قرضے سے سی پیک کے قرضوں کی قسطیں دینا چاہتا ہے اگرچہ پاکستان نے اس کی تردیدکردی تاہم اس سے اتنا تو واضح ہو ہی جاتا ہے کہ قرض کا سرکل کس حد تک چلتا ہے اور قرضے ادا کرنے کے لئے بھی نئے قرضے لینے پڑتے ہیں عمران خان سابق حکومت پر اس لئے نکتہ چینی کرتے ہیں کہ وہ قرضے لے کر کام چلاتی رہی اب خود انہیں بھی اس راستے پر چلنا پڑا ہے تو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ سابق حکومتیں بھی کسی نہ کسی مجبوری کے تحت ہی قرضے لیتی رہی ہوں گی البتہ یہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہئے کہ جو قرضے بھی لئے جائیں وہ پیداواری مقاصد کے لئے استعمال ہوں تاکہ قرضوں کی واپسی میں آسانی رہے۔ اسد عمر نے روزگار کے وسائل پیدا کرنے کی بات کی ہے معلوم نہیں ان نئے قرضوں سے کیا ایسے یونٹ لگائے جارہے ہیں جن کی وجہ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، لیکن اگر یہ پیکج بھی کسی نہ کسی طرح پرانے قرضوں کا بوجھ اتارنے میں ہی صرف ہوگیا تو نئے وسائل کیسے پیدا ہوں گے اور نئے روزگار کہاں سے آئیں گے اس پر غور کی ضرورت ہے قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے لئے حکومت کو اندرونی وسائل بڑھانا ہوں گے اور ٹیکس نیٹ وسیع کرناہوگا، آئندہ ہفتوں میں مہنگائی بڑھے گی اور روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید نیچے آئے گا تو قرضوں کا بوجھ بھی بڑھے گا اور درآمدی اشیا بھی مہنگی ہوں گی ان سب امور کو پیش نظر رکھ کر نئی پالیسیاں بنانا ہوں گی۔

مزید : رائے /اداریہ