دینی مدارس، رجسٹریشن اور نصاب!

دینی مدارس، رجسٹریشن اور نصاب!

پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے اور جہاں کہیں بھی مسجد بنتی ہے وہاں درس و تدریس کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے، تاہم جامع مساجد کے ساتھ منسلک مدارس زیادہ بہتر اور موثر ہیں جبکہ یہاں باقاعدہ طور پر بھی مدرسے ہیں اوران کے ساتھ مساجد ملحق کی گئی ہیں، اب تو بڑے اور اہم مدارس میں جدید آلات (کمپیوٹر وغیرہ) کا سلسلہ بھی شروع ہے اور اکثر بڑے مکتبوں میں سرکاری نصاب بھی پڑھایا اور طلباء باقاعدہ امتحانات بھی دیتے ہیں، یوں بھی درس نظامی کے حوالے سے ان مدارس سے مختلف نصاب اور کورسز میں فارغ التحصل طلباء کی درجہ بندی بھی ہے جو میٹرک سے ایم، اے تک ہے، یوں ان مدارس کے فارغ التحصل بھی تعلیم یافتہ ہی ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہزاروں مدارس دینی تعلیم کے حوالے سے ہی گزارا کررہے ہیں اور ان میں نماز، روزہ کی ادائیگی کی تربیت دی جاتی اور قرآن ناظرہ پڑھایاجاتا ہے یا پھر حفظ کی حد تک بھی خدمت کی جاتی ہے یہ زیادہ ترعلاقائی مدرسے ہوتے ہیں۔دینی مدارس کے حوالے سے نصاب اور ان طلباء کو دنیاوی تعلیم سے بہرہ ور کرنے کے مسائل طویل عرصہ سے زیر غور اور زیر تجویز تو ہیں لیکن کسی نہ کسی وجہ سے فیصلہ نہیں ہو پاتا، اس کی ایک وجہ ان مدارس کا مسلکی ہونا ہے کہ ہر مدرسہ چھوٹا ہو یا بڑا کسی نہ کسی مسلک سے جڑا ہوا ہے،یوں ہمارے علماء کرام کسی بھی تجویز کومداخلت سمجھ کر مسترد کردیتے ہیں، ہر حکومت نے یہ کوشش کی کہ نصاب اور دنیاوی تعلیم کے مسائل طے ہوسکیں لیکن کامیابی نہ ہوئی، حتیٰ کہ اب تو مدارس کی رجسٹریشن بھی ایک تنازعہ ہے، جومدارس رجسٹر ہو چکے ہوئے ہیں وہ وفاقی سطح پر خود اپنی تنظیم سے منسلک ہیں اور یہ تنظیم قطعاً پسند نہیں کرتی کہ کوئی حکومت مداخلت کرے۔ اب بھی یہ تنازعہ جاری ہے حالانکہ یہ تجویز بری نہیں کہ دینی مدارس کے طلباء کو بھی دنیاوی نصابی تعلیم سے بہرہ مند ہوکر معاشرے کا اہم رکن بننا چاہئے لیکن ایسا بوجوہ نہیں ہو پا رہا اور جب بھی کوشش ہوئی معاملہ محاذ آرائی کا بن گیا۔ ان مدارس میں لاکھوں طالب علم زیر تعلیم ہیں اور اکثر اقامتی بھی ہیں اور طلباء کو کھانا بھی دیا جاتا ہے، حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کو کسی قاعدے میں لایا جائے لیکن ہمارے علماء کرام اسے مداخلت گردانتے ہیں، بہر حال یہ مسئلہ کوئی لاینحل تو نہیں اسے حل کرنا ہوگا جس کے لئے مشاورت اور مذاکرات ہی بہتر عمل ہے، تاکہ سب باہمی اتفاق رائے سے ایسا نصاف مرتب کراسکیں جو مسلکی ہو بھی تو متنازعہ نہ ہو اور ساتھ ہی دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو کہ فارغ التحصل صرف واعظ ہی نہ بنیں معاشرے کے مفید شہری بھی بن سکیں، اس کے لئے اتفاق رائے سے معاملات طے کریں۔

مزید : رائے /اداریہ