دماغی صحت کا عالمی دن اور لیجنڈز آف سائیکاٹری

دماغی صحت کا عالمی دن اور لیجنڈز آف سائیکاٹری

  



10اکتوبر کا دن ہر سال عالمی ادارۂ صحت کے زیر اہتمام دنیا بھر کے تمام ممالک میں ’’دماغی صحت کے عالمی دن‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کے لئے ہر سال کوئی نہ کوئی نیا موضوع طے کر دیا جاتا ہے جس کا تعلق دماغی صحت سے ہوتا ہے اور اس موضوع کی نسبت سے دنیا بھر کے اخبارات اور رسائل میں مضامین لکھے جاتے ہیں اور کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں تاکہ عوام الناس میں زیادہ سے زیادہ آگہی پیدا کی جائے۔ اس سال عالمی ادارۂ صحت نے جس موضوع کا انتخاب کیا ہے وہ’’نوجوان لوگ اور بدلتی دنیا میں ذہنی صحت‘‘ ہے۔

اس مناسبت سے میرے ذہن میں ایک انتہائی غیر معمولی اور لاثانی میاں بیوی کا خیال آ رہا ہے جنہیں بلا شرکتِ غیرے لیجنڈز آف سائیکاٹری کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ میری مراد پروفیسر اعجاز احمد خان ترین اور پروفیسر خالدہ ترین ہیں۔ آپ دونوں نے جس تندہی اور جانفشانی سے ہمارے وطن عزیز میں پچھلی چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ پر محیط ذہنی صحت کے میدان میں خدمات انجام دی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ دونوں میاں بیوی ڈاکٹری کی ڈگری کے حصول کے بعد کچھ عرصہ میوہسپتال لاہور میں خدمات سر انجام دینے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے انگلستان تشریف لے گئے جہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انتہائی باوقار نوکریاں بھی عطا کیں مگر اپنے ملک کے غریب اور نادار ذہنی صحت کے مسائل میں مبتلا نوجوان لوگوں اور ان کا خیال کرنے والے عزیز و اقارب کی خدمت کا جذبہ انہیں جلد ہی ملک واپس لے آیا۔ ملک واپس آکر جن نامساعد حالات کا سامنا ان دونوں نے کیا وہ علیحدہ داستان ہے تاہم میں اتنا ضرور کہوں گا کہ دونوں میاں بیوی کی بلند حوصلگی اور نہ ٹوٹنے والے ارادے ان کے کام آئے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت انہیں میسر آنے لگی۔ میں بار رہا سوچتا ہوں کہ ان دونوں کا ملک واپس آنا مشیت ایزدی کا حصہ تھا تاکہ ذہنی صحت کے میدان میں ان سے فقید المثال خدمت لی جا سکے۔ خدمت کے اس طویل سفر میں وہ دونوں نہ صرف اپنے اپنے تیءں دکھی انسانیت کی دلجوئی کرتے رہے بلکہ ایک دوسرے کو ضرورت پڑنے پر سہارا بھی دیتے رہے۔

پروفیسر خالدہ ترین نے بچوں اور نوجوان لوگوں کی ذہنی صحت کا شعبہ سنبھالا جبکہ پروفیسر اعجاز ترین نے بالغ لوگوں کی ذہنی صحت سے متعلقہ امور کا شعبہ سنبھال لیا۔ ڈاکٹر خالدہ ترین کو ہمارے ملک کی پہلی چائلڈ سائیکاٹرسٹ ہونے کا عظیم الشان اعزاز حاصل ہوا۔ پاکستان واپسی کے کچھ ہی عرصہ بعد انہوں نے اپنے شوہر نامدار کی مدد سے ذہنی اور جذباتی طور پر معذور بچوں کی تعلیم و تربیت اور معاشرتی بحالی کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے ایک چیریٹی قائم کی جس کے زیر اہتمام ایک سکول سپیشل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سنٹر کا آغاز کیا جو کہ 1981ء میں ایک کرائے کی عمارت میں شروع ہوا مگر بعد میں اس سکول کو جوہر ٹاؤن لاہور میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ ہمارے ملک میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے جو کہ ذہنی اور جذباتی طور پر معذور بچوں اور نوجوان لوگوں کی خدمت پرمامور ہے۔ کئی سال پہلے اس ادارے کے کام میں توسیع کردی گئی۔ آس پاس کی جھگیوں کے پسماندہ خاندانوں کے بچوں کی تعلیم و تربیت اور خواتین کی تعلیم کا بھی بندوبست کر دیا گیا۔

پروفیسر خالدہ ترین کوکنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج اور میوہسپتال لاہور کے بچوں اور نوجوان لوگوں کے ذہنی امراض کے شعبہ کے اجرا کے ساتھ ساتھ انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلباء اور طالبات کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بے شمار ملکوں کے ساتھ مل کر ریسرچ کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا جس کی پذیرائی عالمی ادارۂ صحت نے بھی کی جس کے لئے انہیں اس ادارے کے مشیر ہونے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔ چند سال قبل ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا۔ وہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے شعبہ کی تا حیات پروفیسر بھی ہیں۔

ہم ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ تاہم آج کے دن اور آج کے دن کے موضوع کے حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ پروفیسر خالدہ ترین جیسی کامیاب خاتون کے پچیھے ایک مرد کا ہاتھ ہے تو یہ غلط نہ ہوگا اور یہ مرد پروفیسر اعجاز ترین ہیں۔ میں نے انہیں پہلی بار کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ایک استاد کی حیثیت سے دیکھا اور بطور ایک شاگرد کے ان کی شخصیت کے طلسمانی اور مقناطیسی اثرات سے بے انتہا متاثر ہوا۔ میری خوش نصیبی تھی کہ میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی توجہ، شفقت اور تربیت میرے کام آئی اور ان کے کام کرنے کے انداز کی چھاپ کا رنگ میرے اوپر بخوبی آیا۔ مجھے اس دوران انہیں قریب سے جاننے کا موقع بھی ملا اور ان کی شخصیت کے گوناگوں اور ہمہ جہت پہلوؤں سے شناسائی بھی ہوئی۔

مجھے انگلستان میں رہائش پذیر ہوئے اور سائیکاٹری کی پریکٹس کرتے ہوئے کم و بیش تین دہائیاں ہو گئی ہیں اور اس دوران میں نے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر بھی کیا ہے، بے شمار پروفیسروں اور ریسرچ سکالرز کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع بھی ملا ہے۔ میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ مجھے آج تک ان میں سے کسی نے بھی اتنا متاثر نہیں کیا جتنا محترم پروفیسر اعجاز ترین نے کیا ہے۔ مجھے اپنے تمام سائیکاٹرک کیریئر میں نہ صرف ان کی رہنمائی میسر رہی بلکہ جب بھی ذہنی صحت کے کسی پہلو پر ان سے بات ہوئی ہے مجھے ان سے سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میرے نزدیک وہ واحد عہد ساز سائیکاٹرسٹ ہیں جن کا نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی سائیکاٹری کے شعبہ سے تعلق رکھنے والی بلند پایہ شخصیات نے ان کے علم و فضل کا اعتراف کیا ہے۔

گزشتہ سال لیڈز یونیورسٹی انگلینڈ کے تا حیات پروفیسر آف سائیکاٹری پروفیسر اینڈ ریوسمز (Andrew Sims) نے اعجاز ترین کی بیٹی ڈاکٹر عائشہ ترین کو ایک ای میل (Email) لکھی اور کہا ’’میں نے آپ کے والد اعجاز ترین کی انٹرنیٹ سے تصویر نکالنے کی کوشش کی ہے مگر میں اس میں کامیاب نہیں ہو سکا اگرچہ ان کے ہم عصر لوگوں اور شاگردوں کی بے شمار تصاویر مجھے نظر آئیں۔ آپ کے والد محترم ایک انتہائی انکسار پسند شخص ہیں۔ مجھے ان کی تصویر اس لئے چاہئے کہ میں مستقبل قریب میں لیڈز یونیورسٹی میں ایک لیکچر دینے والا ہوں جس میں ان لوگوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے عالمی سطح پر سائیکاٹری میں گہرا اثر چھوڑا ہے۔‘‘

میرا پختہ یقین ہے کہ پاکستان میں سائیکاٹرک پریکٹس کو ایک نئی جہت دینے میں پروفیسر اعجاز ترین کا کردار نہ صرف کلیدی ہے بلکہ مجددانہ ہے۔ اس کا مرکزی نقطہ ذہنی امراض میں مبتلا بے چارو بے بس مریضوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا تحقیر آمیز سلوک تھا اور ان کی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج ان مریضوں کی چھینی ہوئی تکریم بہت حد تک معاشرتی سطح پر بحال ہو چکی ہے۔ ان کے اس تاریخی کردار کے حوالے سے انہیں اٹھارہویں صدی عیسوی میں انگلستان میں شہرت پانے والے ماہر ذہنی امراض ولیم ٹیوک (William Tuke) فرانس کے فلپ پنل (Phillipe Pinel) اور امریکہ کے بنجمن رُوش (Benjamin Rush) کے ہم پلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل میوہسپتال لاہور میں قائم نفسیاتی و دماغی امراض کے شعبہ میں تعلیم و تدریس کے لئے وقف ہال کو ان کی دماغی صحت کے میدان میں سر انجام دی گئی خدمات کے اعتراف میں ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے جو اب ’’ترین ہال‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عوامی فلاحی خدمت کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ اس کا اظہار ان کے زمانہ طالب علمی سے ہی شروع ہو گیا تھا جب انہوں نے غریب طلباء و طالبات کے لئے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں لینڈنگ لائبریری قائم کی۔ یہی جذبہ بعد میں میوہسپتال لاہور میں سوسائٹی برائے بہبودی مریضاں کی شکل میں سامنے آیا۔ اس سوسائٹی کے زیر انتظام غریب اور نادار ذہنی مریضوں کے لئے مفت ادویات کی فراہمی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ اکثر و بیشتر یہ انتظام ان کے ذاتی وسائل سے ہوتا رہا۔ اسی طرح سرکاری نوکری کے اختتام سے قبل ہی مالی اعتبار سے کمزور اور حیثیت نہ رکھنے والے دماغی مریضوں کی سہولت کے لئے فری کلینکس کا اجرا بھی کیا جو بلا اہتمام اور بلا رکاوٹ اور بسا اوقات اپنی نا سازی طبع کے باوجود بھی جاری رکھتے ہیں۔

میری دعا ہے کہ ربِ جلیل ان لیجنڈز آف سائیکاٹری پروفیسر اعجاز ترین اور پروفیسر خالدہ ترین کو تادیر صحت و عافیت عطا فرمائے رکھیں اور وہ ہمیشہ کی طرح ان سے عوامی خدمت اور فلاح کا کام لیتے رہیں۔ بے شک دونوں میاں بیوی کا نام ہماری ملکی تاریخ میں سنہری اور جلی حروف کے ساتھ لکھا جائے گا۔

مزید : رائے /کالم