میو ہسپتال ، آرتھو پیڈک شعبہ کی شاندار کار کردگی 

میو ہسپتال ، آرتھو پیڈک شعبہ کی شاندار کار کردگی 
میو ہسپتال ، آرتھو پیڈک شعبہ کی شاندار کار کردگی 

  



چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار صاحب کے اقدامات کے باعث کئی سرکاری محکموں میں تبدیلی کے اثرات نمایاں نظر آنا شروع ہوگئے ہیں ، تاہم کچھ شعبے پہلے سے ہی اچھی کار کر دگی کا مظاہر ہ کر رہے ہیں ، جن میں سرکاری سطح پر چلنے والے ہسپتال بھی شامل ہیں ۔ یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جہاں جہاں میرٹ پر اعلیٰ افسران کا تقرر ہوا ہے ان شعبوں میں چیف جسٹس صاحب کو مداخلت کر نی ہی نہیں پڑی ، اور جہا ں جہاں سیاسی بنیادوں پر افسران کی تعیناتی ہوتی رہی ہے ان اداروں کے سربراہ جومیرٹ کی دھجیا ں بکھیر کر لگائے جاتے رہے ہیں وہ تباہی کا شکار ہوئے ہیں ، جس ادارے کا سربراہ اہلیت کی بنیاد پر تعین کیا گیا ہو وہاں کا ماتحت عملہ کسی بد اعمالی ، کرپشن یا بے ضابطگی کا شکار کیسے ہو سکتا ہے ۔ 

پاکستان کا سب سے بڑا اور عالمی شہرت رکھنے والا میو ہسپتال اور اس سے وابستہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ز حضرات اپنے اپنے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو چلا رہے ہیں ۔ پروفیسر حضرات ٹیچنگ کے علاوہ عام مریضوں کو بھی دیکھتے ہیں ۔ ان پر عام ڈاکٹروں کی نسبت دوہری ذمہ داریاں ہوتی ہیں ۔ جس سے نبٹنا دشوار کام ہے ، تاہم حکومتی بے حسی اور وسائل کی کمی کے باوجود کئی شعبے اچھی کار کردگی کا مظاہر ہ کر رہے ہیں ان میں ایک شعبہ میو ہسپتال کا آرتھو پیڈک ون ہے جس کے انچار ج اپنے نام کی طرح خوبصورت شخصیت کے مالک آرتھو پیڈک سر جن پروفیسر ڈاکٹر رانا دلآ و یز ندیم ہیں ۔ مجھے ذاتی تجر بہ چند روز قبل ہو ا جب میرا بھتیجا بازو کے آپریشن کیلئے داخل تھا ۔ دو سال قبل اس کے بازو میں راڈ ڈالا گیا تھا جو کہ دوماہ بعد ہی ٹوٹ گیا تھا اور اس کے بازو پر سوجن ہو گئی تھی ۔

کئی آرتھو پیڈک سر جن سے آپریشن کیلئے مشورہ کرتے رہے مگر کوئی اس بگڑے ہوئے مشکل آپریشن کیلئے تیار نہیں ہوتا تھا۔ اسی دوران مریض تکلیف سے نڈھال ہو چکا تھا کہ میرے ایک دوست مڈ سٹی ہسپتال کے ڈاکٹر ذیشان احمد نے مشورہ دیا کہ پروفیسر ڈاکٹر دلآ ویز ندیم صاحب سے میو ہسپتال جاکر مریض کو چیک کرائیں ، اگر آپریشن ہوسکتا ہو ا تو وہ ضرور آمادہ ہوجائیں گے ۔ بغیر کسی سفارش مریض اپنی والدہ کے ساتھ میو ہسپتال لاہور کے آرتھو پیڈک ون میں گیا جہاں پروفیسر صاحب نے چیک اپ کر کے اپنے ایک ساتھی ڈاکٹر وسیم کے سپرد کر دیا کہ اسے داخل کر لو اور اس کے ٹیسٹ کراؤ ، جس کے بعد اس کا نام عید سے ایک روز قبل منگل 21 ۔ اگست کی آپریشن ٹسٹ میں شامل کر لیا گیا ، پروفیسر صاحب نے اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ بڑی دلچسپی سے اس کا انتہائی کامیاب آپریشن کر دیا۔ 

میرے تجربے کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں عید سے قبل تمام مریضوں کو رضامندی سے یا جبراً چھٹی کرادی جاتی تھی ۔ کچھ مریض جو دور دراز سے آئے ہوتے تھے اپنی اور اپنی لواحقین کی مرضی سے چلے جاتے تھے اور عید کے بعد دوبارہ داخل ہوتے تھے ۔ مگر میری حیرت کی انتہا تھی کہ عید کے روز بھی ڈاکٹرز ہمارے مریض کودیکھنے کیلئے آتے رہے ، عید کے دوسرے اور تیسرے روز بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا ۔کئی مریض حادثات کے بعد اور کچھ مریض قربانی کے جانوروں سے زخمی ہو کر ایمر جنسی سے وارڈوں میں منتقل ہوئے ۔ میں اپنے مریض کی تیمارداری کے لئے جاتا رہا اور سب کچھ دیکھتا رہا ۔ایک فرشتہ صفت ڈاکٹر عرفا ن احمد چوہدری صاحب انتہائی محبت اور خلوص سے مریضوں کی خدمت میں مصروف دیکھے ۔ سبز لباس میں ملبوس ڈاکٹر عرفان احمد چوہدری ایسے مسیحا ہیں جنہیں دیکھ کر ، ان سے مل کر اور ان سے باتیں کر کے مریض دلی اور ذہنی سکون حاصل کرتے ہیں ۔ ہر مریض خصوصاً میرا بھتیجا ان سے اس قدر متاثر ہے کہ اب وہ گھر آ کر بھی ان سے فون پر مشورے کرتا رہتا ہے اور وہ انتہائی صبر و تحمل سے مریضوں کو مشورے دیتے ہیں ۔

میں نے گزشتہ روز اپنے بھتیجے سے ڈاکٹر عر فان صاحب کا نمبر لیکر ان سے بات کی اور انہیں اپنے جذبات سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے بتایا کہ کسی بھی شعبہ کے انچارج اچھے منتظم ہوں تو ماتحت عملہ کبھی کسی کوتاہی کا مرتکب نہیں ہوسکتا ۔ ہمارے انچارج ڈاکٹر رانا دلآ ویز ندیم صاحب جو آتھو پیڈک ون اور ٹو کے چیئرمین ہیں ، نہایت اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ڈاکٹر عرفان نے بتایا کہ وہ تین سال سے آرتھوپیڈک ون میں رجسٹرار کے طور پر ذمہ داری انجام دے رہے ہیں ۔ میں اور ہمارا سٹاف پروفیسر کی فنکارانہ اور انتظامی صلاحیتوں کے معترف ہیں ۔ مریضوں سے حُسن سلوک اور شگفتہ انداز بھی ہم نے انہی سے سیکھا ہے ۔ دونوں عیدوں پر آرتھو پیڈک کا شعبہ معمول کے مطابق خدمات انجام دیتا ہے۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں وہ کسی سرکاری مداخلت کو پسند نہیں کرتے ، اس لئے انہیں کبھی کسی دباؤ کا سامنا نہیں کر نا پڑا ۔ 

میوہسپتال کے باقی ڈیپارٹمنٹس کے بارے میں تو کچھ نہیں پتہ تا ہم آرتھوپیڈک کا شعبہ ایک نعمت سے کم نہیں ہے ، جسے بہترین سر جن ، ڈاکٹر ز نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کا تعاون حاصل ہے ۔

تمام مریضوں کیلئے ایئر کنڈیشنڈ وارڈز ہر قسم کی تمام ادویات اور دیگر ایکوپمنٹس مکمل طور پر بغیر کسی معاوضہ کے مہیا کر دیئے جاتے ہیں ۔ آپریشن تھیٹر کے تمام اخراجات ، اعلیٰ کوالیفائیڈ انتھیسیزین ڈاکٹر ( بے ہوش کرنے والے ڈاکٹر ز ) دستیا ب ہوتے ہیں ۔ تمام مریضوں اور ان کے لواحقین کو صبح ناشتہ ، دوپہر کا کھانا اور شام کا کھا نا بند ڈبوں میں گورمے بیکرز کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ 

اس آرتھوپیڈک کے شعبہ کی کار کردگی دیکھتے ہوئے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر عام سرکاری ہسپتالوں کے تمام شعبوں میں ان کے سربراہ خلوص اور خدمت خلق کے جذبہ سے کام کریں تو لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں کی لوٹ مار سے محفوظ ہوسکتے ہیں ۔ سرکاری شعبہ کے ہسپتالوں میں پروفیسر ڈاکٹر دلآ ویز ندیم جیسے سربراہوں کی ضرورت ہے ۔ 

مزید : رائے /کالم