بھارت، اسرائیل اور امریکہ کا اتحاد ثلاثہ اور اہل حرم

بھارت، اسرائیل اور امریکہ کا اتحاد ثلاثہ اور اہل حرم
بھارت، اسرائیل اور امریکہ کا اتحاد ثلاثہ اور اہل حرم

  



ہندوستان بڑی تیزی سے اپنی اقتصادی اور عسکری پوزیشن مستحکم کررہا ہے، دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، دفاع و فوجی اخراجات وغیرہ بغیر مضبوط معاشیات کے پورے کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے، یہ دونوں ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں، ضروری ہوتا ہے کہ معاشیات اتنی مضبوط ہوکہ وہ ملٹری اخراجات کا بوجھ برداشت کرے مضبوط فوج اور دفاع، مستحکم معیشت کی ضمانت بنتا ہے۔ گویا دونوں ایک دوسرے کا سہارا ہوتے ہیں، ایک دوسرے کو سپورٹ دیتے ہیں، آگے بڑھیں تو یہ دونوں شعبے ایک موثر سفارتی/خارجہ حکمت عملی کے بغیر پنپ نہیں سکتے ہیں، کیونکہ دورِ جدید میں درآمدات برآمدات او اسلحہ سازی اور خریداری وغیرہ کا تعلق اقوام کے درمیان تعلقات سے جُڑا ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری/فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کسی بھی قوم کی اقتصادی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، گویا اقتصادیات، دفاع اور خارجہ امور کی تکون کسی ملک یا قوم کی ساکھ اور تعمیر و ترقی کا فیصلہ کرتی ہے اور اس تکون کے تینوں کونے بیک وقت فعال ہوں تو قوم تعمیر و ترقی کی منازل طے کرتی ہے۔

ہندوستان کے بنیا حکمرانوں نے اس راز کو بہت عرصہ پہلے پالیا تھا، یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستان عالمی برادری میں اپنا ایک بڑا مقام رکھتا ہے، اُس کی خارجہ پالیسی کا کمال ہے کہ اس کی بہت سی تجارت بلکہ دشمن اقوام کے ساتھ بیک وقت دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ امریکہ، ہندوستان کوایک عرصے سے بڑھاوا دے رہا ہے، اس کی فوجی قوت میں اضافہ کررہا ہے، امریکہ نے اسے سول نیوکلئیر ٹیکنالوجی بھی دے دی ہے، اسے نیوکلئیر سپلائرز کلب میں لانے کے لئے بھی کوشاں ہں۔ اس کی سلامتی کونسل کی ممبر شپ کا بھی حامی ہے، دوسری طرف بھارت سرکار کے سوویت یونین/روس کے ساتھ بھی دیرینہ تعلقات قائم ہیں، روس بھی بھارت کو ایک فوجی طاقت بنانے پر تُلا ہوا ہے، اسے امریکی ناراضگی اور دھمکیوں کے باوجوداربوں ڈالر کاجدید میزائل سسٹم سپلائی کررہا ہے۔ ہندوستان کی معاشی ترقی میں بھی ایک عرصے سے سوویت یونین/روس حصہ لے رہا ہے۔ اسرائیل بھی ہندوسرکار کا دوست ہے، ایک عرصے سے اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے رہا ہے۔

پاک بھارت جنگ میں بھارتی ایسٹرن کمانڈ کا مرکزی دفتر کلکتہ میں واقع تھا، جہاں اسرائیلی جنرل جیکب نے بھارتی منصوبہ سازوں کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ہنود اور یہود کے اس اتحاد میں مسلم دشمنی ایک مشترکہ عامل ہے۔ ذرا غور کریں یہودی ریاست 70سالوں سے فلسطینی مسلمانوں کے خلاف مورچہ زن ہے، یہودی ریاست عالم عرب کا ناطقہ بند کئے ہوئے ہے، مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے، لیکن بھارت سرکار کے عرب حکمرانوں کے ساتھ بھی قریبی اور مشفقانہ تعلقات ہیں۔ مشرقی وسطیٰ میں ہندوستان کے لاکھوں شہری کام کرتے ہیں اور ملک کو اربوں ڈالر کا سرمایہ فراہم کرتے ہیں، اسرائیل عربوں کا دشمن ہے، انہیں ختم کرنا چاہتا ہے، ان کی زمینوں پر قابض ہے،بھارت کا دوست ہے،

پاکستان کی تباہی و بربادی میں حصہ لے چکا ہے، لیکن عرب، بھارت کے ساتھ بھائی چارہ رکھتے ہیں، اس کے لاکھوں شہریوں کو روزگار مہیا کرتے ہیں۔ بھارتی معیشت کو سہار دیتے ہیں، 80کی دہائی میں بھارت اور اسرائیل نے مل کر پاکستان کے ایٹمی پلانٹ کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی اور دونوں نے مل کر حملہ بھی کیا تھا، یہ الگ بات ہے کہ جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں پاکستان جاگ رہا تھا اور جب حملہ آور یہاں آئے تو انہیں پاک فضا میں پاک شاہین محو پرواز ملے اور اس طرح ہنود و یہود کی سازش ناکام ہوگئی، لیکن بھارت اسرائیل دوستانہ تعلقات ہنوز اسی محبت اور چاہت سے قائم دائم ہیں۔

بھارت سرکار کی خارجہ پالیسی دیکھئے ایک طرف اس کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات وغیرہ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہیں، لاکھوں بھارتی شہری ان ریاستوں میں اپنے ملک کے لئے زرمبادلہ کما رہے ہیں، حد تو یہ ہے کہ امارات میں مندر بھی تعمیر کیاجاچکا ہے، جس کی لاگت شیخ نے اٹھائی ہے، دوسری طرف بھارت سرکار کے عربوں کے بالعموم اور ان دو ریاستوں کے بالخصوص دشمن ایران کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات قائم ہیں، ایرانی جزیرہ چاہ بہار کو دونوں ممالک مل کر ترقی دے رہے ہیں، اس سے نہ صرف دبئی کی ریاست کا کاروبار کم ہوگا، اس کی آمدنی میں کمی ہوگی۔ اس کے باوجود ہندوستان کے متحارب ممالک سے تعلقات قائم ہیں، یہی کامیاب خارجہ پالیسی ہے،

یہی متوازن معاشی حکمتِ عملی ہے، جس نے بھارت کو خطے کی ایک عظیم طاقت بنا دیا ہے اور اب وہ عالمی قیادت، عالمی طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ بھارت عالمی طاقتوں کے عالمی ایجنڈے میں شریک ہو چکا ہے، امریکہ کی صیہونی لابی حکمران لابی کھل کھلا کر اہل حرم کے خلاف صف آراء ہو چکی ہے، تہذیبوں کی جنگ اور صلیبی جنگ کے نام پر مسلم ممالک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے جاری کشت و خون میں صرف مسلمان ہی قتل کئے جا رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ صیہونی عیسائیوں اور یہودیوں کی یلغار میں ہے، عربوں کا قتل عام جاری ہے، یہودی اسرائیل کی طاقت کے ساتھ فلسطینی مسلمانوں کو قتل کرتے جارہے ہیں، مصر، شام اور عراق میں بعث پارٹی کے ذریعے اخوان المسلمین کو قتل کیا جاتا رہا، پھر عیسائی طاقتیں براہ راست سامنے آگئیں اور عربوں کو قتل کیا جانے لگا۔ پہلے جنگی ڈرامہ عراق میں رچایا گیا، صدام حسین کے خاتمے کے نام پر لاکھوں مسلمان قتل کئے گئے، پھر یہ ڈرامہ سر زمین شام میں رچایا گیا۔ اب تمام عیسائی طاقتیں یہاں جمع ہیں، بظاہر دو متحارب گروپوں کی شکل میں صف آرا ہیں، ایک گروہ بشار الاسد کی حکومت بچانے کے لئے کوشاں ہے۔ وہ ڈٹ کر اسے اسلحہ فراہم کررہی ہے، عسکری قوت فراہم کررہی ہے، ان ممالک کے عسکری مشیر یہاں شام میں موجود ہیں، ان ممالک کی مسلح افواج بھی یہاں موجود ہیں، ٹینک، توپ اور ہوائی قوت بھی موجود ہے۔ دوسری طرف وہ ممالک ہیں، جو شامی عوام کو اقلیتی حکمرانوں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لئے یہاں موجود ہیں،

وہ بھی اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ یہاں براجمان ہیں، دونوں گروہ بظاہر ایک معاشرے کے خلاف صف آرا ہیں، لیکن دونوں ہی مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں، ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں، لیکن مارے جارہے ہیں، مسلمان افغانستان میں کیا ہو رہا ہے۔ 2001ء سے عیسائی افواج افغانوں کا قتل عام کررہی ہیں۔ ناٹو ممالک کی متحدہ افواج، انٹرنیشنل سیکیورٹی اسٹفس (ISAF) کے پرچم تلے افغانوں کا قتل عام کررہی ہیں، نام چاہے طالبان ہو یا حقانی نیٹ ورک قتل مسلمان ہی ہو رہے ہیں۔

ہندوستان اس عالمی تثلیث کا حصہ ہے، جو اہل حرم کے خلاف مورچہ زن ہے، امریکہ اسرائیل اور بھارت مل کر مسلمانوں کی بیخ کنی میں لگے ہوئے ہیں، مشرقی وسطیٰ میں گزرے 70سالوں سے امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی کررہا ہے، عربوں کے قتل عام کے لئے اس کی معاونت کی جارہی ہے، خطے میں اسرائیل کی بدمعاشی سکہ بند ہو چکی ہے، اسے چیلنج کرنے کی جسارت کوئی عرب ملک نہیں کرسکتا ہے۔ اب وہ گریٹر اسرائیل کی تعمیر میں مشغول ہو چکا ہے، دوسری طرف بھارت نہ صرف اپنی مسلمان رعایا کا قتل عام کررہا ہے، بلکہ اس نے کشمیری مسلمانوں پر 7لاکھ فوج مسلط کررکھی ہے۔ اسی فوج کی سنگینوں کے سائے میں تین نسلیں اپنے حق خود ارادیت کی بازیابی کے لئے جدوجہد کرچکی ہیں، لاکھوں نوجوان اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرچکے ہیں اور ہنوزیہ سلسلہ جاری ہے۔

ہندوستان اپنی عسکری قوت بڑھارہا ہے، روس سے 5ارب ڈالر مالیت کے میزائلی نظام کی خریداری اسی سلسلے کی کڑی ہے، یہ میزائل سسٹم پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے، ہندوستان کے مسلم کش کردار کی کامیابی کی راہ میں پاکستان بہت بڑی رکاوٹ ہے، جس کے خلاف بھارت 70سال سے مصروف عمل ہے۔ بھارت نے یہ بات ایک دن کے لئے بھی نہیں بھولی کہ ’’پاکستان بھارت کا ازلی دشمن ہے‘‘ لیکن ہم کیا کر رہے ہیں ذرا سوچئے۔ 

مزید : رائے /کالم