حکومت کرنا آسان نہیں

حکومت کرنا آسان نہیں
حکومت کرنا آسان نہیں

  



حکومت کرنا واقعی ایک بہت مشکل کام ہے، حکومت بھی ایسی جو عوام کی توقعات پر پورا اُترسکے، اُن دعووں کی تکمیل کرسکے جو عوام سے کئے گئے۔ پاکستانیوں کے لئے یہ بات کوئی نئی نہیں کہ آنے والی ہر حکومت خزانہ خالی ہونے کا بتاتی ہے اور یہ بھی کہتی ہے کہ عوام کو قربانی دینا ہوگی، لیکن اس بار چونکہ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم میں عوام کی اُمیدوں کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا اور نئے پاکستان کا کچھ ایسا نقشہ کھینچا تھا جیسے ستر برسوں کے مسائل حکومت بنتے ہی ختم ہوجائیں گے، اس لئے حکومت کی وہ روائتی باتیں اب عوام کو بہت عجیب لگ رہی ہیں، خود وزیر اعظم عمران خان کو بھی عوام کے ساتھ معذرت خواہانہ لہجے میں بات کرنا پڑ رہی ہے، اُن کے پاس مہنگائی کا کوئی فوری حل نہیں، بلکہ اُن کی مجبوری یہ ہے کہ وہ مہنگائی بڑھانے والے فیصلے کریں گے، ایسا نہیں کرتے تو ملک چلانا مشکل ہو جائے گا۔ دیوالیہ ہونے کی منزل زیادہ دور نہیں ہے، اب وہ فیصلہ بھی کرنا پڑا ہے، جس سے بچنے کی بہت تدبیریں کی جاتی رہیں، یعنی آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ۔

اب مخالفین اسے عمران خان کا سب سے بڑا یوٹرن کہہ رہے ہیں تو کچھ غلط نہیں کہہ رہے، کیونکہ انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے گزشتہ حکومتوں پر سب سے زیادہ تنقید اسی حوالے سے کی تھی کہ انہوں نے آئی ایم ایف کے پاس معیشت گروی رکھی اور عوام پر مہنگائی کا بے تحاشہ بوجھ لاد دیا، اب اُنہیں خود یہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ کیا انہیں اس بات کا ادراک نہیں تھا، کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ پاکستان کی معیشت میں اتنا دم خم نہیں کہ راتوں رات اپنا بوجھ آپ اُٹھا سکے۔ میرا خیال ہے ابھی شاید حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کے فیصلے کو مزید موخر کرتی، مگر کراچی اسٹاک ایکسچینج کے بیٹھ جانے اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی اڑان کے باعث حکومت کو فوری یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر اب کوئی چارہ نہیں۔

ایک طرف معیشت کے محاذ پر حکومت کو بہت دباؤ کا سامنا ہے تو دوسری طرف اُس نے احتساب کے حوالے سے جونعرہ لگایا ہے، اُس کی وجہ سے سیاسی طور پر اُس کے لئے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اب عمران خان کو علم ہو رہا ہے کہ پاکستان میں سول ہوں یا عسکری حکمران انہوں نے قدم قدم پر مصلحت سے کام کیوں لیا۔ یہاں کوئی بھی حکمران ایسا نہیں گزرا، جس نے اصولوں کی بنیاد پر حکمرانی کی ہو اور باد مخالف سے بچتا بھی رہا ہو۔ کہیں این آر او کے ذریعے اور کہیں سیاسی جماعتوں کو خوش کرکے وقت گزارا جاتا رہا۔ یہ نعرہ تو کسی آمر نے بھی نہیں لگایا کہ سب کا احتساب ہوگا اور کوئی نہیں بچے گا، یہاں تو جو اپنی چھتری تلے آتا رہا، اُسے معافی ملتی رہی اور جس نے بات نہ مانی، وہ احتساب کے شکنجے میں جکڑا گیا۔ عمران خان نے انتخابات سے پہلے بھی یہی کہا تھا کہ کسی ملک لوٹنے والے کو نہیں چھوڑیں گے اور آج بھی اُن کا بیانیہ وہی ہے۔ اس بیانیے کے حوالے سے وہ یوٹرن لینے کو تیار نہیں، کیونکہ یہی بیانیہ اُن کی سب سے بڑی طاقت ہے،

جس کے ساتھ عوام کھڑے ہیں اور شاید اُن کی مہنگائی، ٹیکسز اور آئی ایم ایف کے پاس جانے کی خامیوں کو درگزر کردیں گے، مگر یہ نہیں چاہیں گے کہ عمران خان احتساب کے عمل کو چھوڑ دیں اور مصلحتاً سب سے مک مکا کرلیں، اگر یہ بات اُن کی سیاسی طاقت ہے تو دوسری طرف یہی بات اپوزیشن کے لئے متحد ہونے کا باعث بھی بن گئی ہے۔ جب سے شہباز شریف کی گرفتاری ہوئی ہے اور مزید گرفتاریوں کا شور اُٹھا ہے، عمران خان کے سیاسی مخالف اکٹھے ہوگئے ہیں، انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا ہے، گویا سیاسی ماحول گرم ہوچکا ہے۔ ممکن ہے اپوزیشن قومی اسمبلی اور سینٹ کی کارروائی کونہ چلنے دے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دھرنے دیئے جائیں اور پہیہ جام کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی جائے، لیکن عمران خان کے پاس ایسا کوئی اختیار نظر نہیں آتا کہ وہ اِن کی وجہ سے اپنا احتساب کا نعرہ ختم کردیں، کیونکہ جس دن انہوں نے ایسا کیا، اسی دن صحیح معنوں میں اُن کا سیاسی زوال شروع ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور کی پریس کانفرنس میں انہوں نے اپوزیشن کو کھلی پیشکش کی کہ وہ دھرنا دینا چاہتی ہے تو وہ اُسے کنٹینر دیں گے، اسمبلی میں احتجاج کرنا چاہتی ہے تو جتنا مرضی کرے، مگر احتساب کا عمل نہیں رکے گا۔

عمران خان اتنا سخت أوقف اس حقیقت کے باوجود اختیار کئے ہوئے ہیں کہ قومی اسمبلی میں اُن کی اکثریت اپوزیشن کے مقابلے میں صرف چند ووٹوں سے ہے، اسی طرح پنجاب اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کی حکومت چند ووٹوں کے فرق سے بنی ہے۔ یوں لگتا ہے عمران خان یہ جان گئے ہیں کہ مصلحت کا شکار ہو کر وہ اپنی حکومت نہیں بچا سکتے، معاشی حوالے سے سخت فیصلوں کے باعث حکومت اگر غیر مقبول ہوتی ہے تو اُسے جو بات سب سے زیادہ تقویت دے سکتی ہے، وہ کڑے احتساب کا عمل ہے، جو عوام کی بہت پرانی خواہش ہے اور جس کے لئے انہوں نے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے، اس لئے احتساب تو اب جاری رہے گا اور اُس ایجنڈے کو چھوڑنا تحریک انصاف کے لئے ممکن ہی نہیں۔ اس کڑے أوقف کی وجہ سے شاید اپوزیشن کو اپنی احتجاجی سیاست کے لئے عوام کی حمایت نہ مل سکے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ اپوزیشن خاص طور پر مسلم لیگ (ن) احتجاج کے ذریعے شہباز شریف کو رہا کرانا چاہتی ہے،

جو کام اُس نے نواز شریف کو رہا کرانے کے لئے نہیں کیا، وہ اب شہباز شریف کے لئے کررہی ہے۔ کیا واقعی اس سے شہباز شریف پر نیب کے کیسز ختم ہو جائیں گے، کیا اگلی پیشی پر نیب عدالت میں جاکر یہ بیان دے گی کہ شہباز شریف بے گناہ ہیں، ہم انہیں رہا کررہے ہیں، کیا کسی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نیب کی حراست سے ملزم کو رہائی دلائی جاسکتی ہے؟کیا یہ بچگانہ کھیل تماشا مسلم لیگ (ن) کو مزید جگ ہنسائی کا باعث تو نہیں بنائے گا؟ پیپلز پارٹی شاید احتجاج کو اسمبلی سے باہر لے جانے کی مخالفت کرے، کیونکہ وہ پی ٹی آئی کے دھرنے کی اس لئے مخالفت کرتی رہی تھی کہ وہ پارلیمنٹ کی بجائے، اُس کے باہر دیا گیا، جس سے پارلیمنٹ کی حرمت پامال ہوئی، اب وہ خود یہ کام کیسے کرسکتی ہے؟۔۔۔ایسی دبنگ حکومت جیسی عمران خان کر رہے ہیں،

پاکستان میں چلانا آسان کام نہیں۔ اسلام آباد اور پنجاب میں قبضہ مافیا کے خلاف جنگ چھیڑ کر بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالا گیا۔ کئی جگہ اس مافیا نے غریبوں کو آگے کرکے عمران خان مردہ باد کے نعرے لگوائے، سڑکیں بلاک کرائیں، یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے درحقیقت عوام دشمنی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، مگر مجھے نہیں نظر آرہا کہ کہیں یہ مہم کمزوری کا شکار ہوئی ہے۔ عمران خان کے لئے مشکل صورت حال میں آسانیاں بھی غالباً اسی لئے پیدا ہو رہی ہیں کہ وہ نیک نیتی سے کام کررہے ہیں۔ وہ خود بھی واشگاف الفاظ میں اس بات کی تردید کرچکے ہیں کہ وہ کسی سے سیاسی انتقام لینا چاہتے ہیں اور ویسے بھی یہ نظر آرہا ہے کہ عدالت عظمیٰ اور نیب آزاد ہے۔

جہاں چیف جسٹس ثاقب نثار یہ کہہ دیتے ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان کو میری ناپسندیدگی کے جذبات پہنچا دیئے جائیں، وہاں کیسے ممکن ہے کہ وہ بااثر مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنائیں، انہوں نے عوام کو مہنگائی سے بچنے کا جوراستہ بتایا ہے، وہ بڑا سادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں جب تک قومی خزانہ لوٹنے والوں سے لوٹی گئی دولت واپس نہیں لی جاتی، ہم قرضوں کے جال میں جکڑے رہیں گے، اس طرح کا حل پہلے تو کسی حکمران کو نہیں سوجھا، سوجھا بھی تو اُس پر عمل کسی نے نہیں کیا۔ اب یہ مشکل راستہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے لئے چنا ہے، کیا وہ یہ چومکھی لڑائی لڑ سکیں گے؟ انہیں بطور کرکٹ کپتان کے فیلڈنگ، باؤلنگ، بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ پر بیک وقت نظر رکھنے کی تو پریکٹس ہے۔

کیا وہ حکومت میں رہ کر بیک وقت گڈگورننس، معیشت کی بہتری، اپوزیشن کی مخالفت، بیوروکریسی کی چالبازیوں اور قومی ترقی پر نظر رکھ سکیں گے؟ 22کروڑ آبادی والے ملک کی حکمرانی کوئی آسان کام تو ہے نہیں، اس میں بے شمار چیلنج ہیں، خود اُن کے اتحادی نظر یں گاڑے کھڑے ہیں، ایک ایک سیٹ والے اتحادی بھی منہ پھاڑ کے مطالبات کررہے ہیں۔ اتحادیوں میں ایم کیوایم بھی شامل ہے، جسے ماضی میں کوئی جماعت بھی خوش نہیں رکھ سکی، کیونکہ اُن کے مطالبات پورے کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔ اب تو وہ کراچی میں سکڑ گئی ہے، لیکن اُس کے مطالبات پہلے جیسے ہیں،

انہیں وزارت بھی دی جائے تو اگلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں اب کوئی باز پرس کی جائے نہ مداخلت، پھر معاملہ بابرغوری جیسی پورٹ اینڈ شپنگ کی وزارت جیسا ہو جاتا ہے، اربوں روپے کی لوٹ مار کے بعد حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی جاتی ہے، کپتان کے لئے وکٹ ہموار نہیں، تاہم اُن کا عزم اور ارادہ بالکل واضح اور ہموار ہے، اس لئے اُمید کی جانی چاہئے کہ وہ اپنی حکومت اور پاکستان کو اس مشکل مرحلے سے نکالنے میں کامیاب رہیں گے۔ 

مزید : رائے /کالم