قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف گرفتار، عمران کا اصرار ، محاذ آرائی بڑھ گئی

قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف گرفتار، عمران کا اصرار ، محاذ آرائی بڑھ گئی

سابق وزیر اعلیٰ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کی گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) کے رد عمل اور وزیراعظم عمران خان کی لاہور میں پریس کانفرنس سے سیاسی محاذ آرائی میں پہلے کی نسبت شدت آئی ہے اور فریقین نے اپنے اپنے موقف کے مطابق سخت رویہ اختیار کرلیا ہے، وزیراعظم عمران خان بلوچستان کے دو روزہ دورہ کے بعد لاہور آئے اور یہاں انہوں نے صوبائی کابینہ کی صدارت کی اور متعدد فیصلوں کے بارے میں تفصیل جانی اور ہدایات جاری کیں، خصوصی طور پر ان کی توجہ کا مرکز نیا بلدیاتی نظام رہا، انہوں نے یہاں بتایا کہ ایسا بلدیاتی نظام لایا جارہا ہے جس سے نچلی سطح پر عوام کی نمائندگی ہوگی اور مسائل حل ہوں گے، انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت، پنجاب اور کے پی کے کی صوبائی حکومتوں سے مشاورت کرکے یہ نظام نافذ کررہی ہے، تو اس کے بارے میں بلوچستان اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کوبھی مشورہ دیا جائے گا کہ وہ بھی ایسا کریں تاکہ پورے ملک اور صوبوں میں یکساں نظام رائج ہوجائے، پنجاب میں بلدیاتی اداروں میں مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہے اور ان کی طرف سے مزاحمت کے اشارے دیئے جارہے ہیں، ابھی یہ بل ڈرافٹ کی شکل میں ہے، جب نفاذ کے لئے اسمبلی میں سامنے آئے گا تو بھی ہنگامہ آرائی ہوگی۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے علاوہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف بھی عدالت عالیہ میں پیش ہوئے، جہاں فاضل بنچ ان کے اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کررہی ہے، جو محمد نواز شریف کے ایک انٹرویو کی بنیاد پر دائر کی گئی اور اس میں انٹرویو کرنے والے سرل المیڈا کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔اس درخواست کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں، چنانچہ تینوں فریق مسؤل علیہ ہیں۔ پیر کو پیشی کے لئے نواز شریف آئے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے، ٹریفک میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ تحریری جوابات کے لئے سماعت ملتوی ہوگئی۔

وزیراعظم عمران خان کی آمد پر ایک نجی ہاؤسنگ سکیم کے متاثرین نے زمان پارک کے باہر مظاہرہ کیا تو پولیس نے سڑک پر ٹریفک کی روانی کے لئے ان کو حراست میں لے لیا اور ہلکا لاٹھی چارج کرکے منتشر بھی کیا، بعد ازاں یہ رہا کردیئے گئے تھے۔

قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کی گرفتاری نے سیاست میں بھی ہلچل پیدا کردی ہے اور اپنی اہلیہ کی وفات کے باعث خاموشی اختیار کرنے والے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف بھی متحرک ہوگئے ہیں اور انہوں نے خاموشی توڑ دی مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بلا لیا گیا، جہاں اس میں تحریک کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں شہبازشریف کو طاقت کے ایوان سے مفاہمت کا حامی تصور کیا جاتا تھا، ان کی گرفتاری کے بعد اب پھر سے عملی جماعتی باگ ڈور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے سنبھال لی اور جماعت کی مرکزی عاملہ کے اجلاس میں ان کی تجاویز کے مطابق حکومتی ایوانوں سے ٹکرا جانے کا فیصلہ کر لیا گیا اور بات اب الٹی میٹم کے انداز میں کی گئی کہ آج (بدھ) تک پنجاب اورقومی اسمبلی کے اجلاس بلا لئے جائیں ورنہ اجلاس سڑکوں پر ہوں گے دوسرے معنوں میں حکومت مخالف تحریک کا ضمنی اعلان کردیا گیا، اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان اور اب وزیر اطلاعات فواد چودھری کہہ چکے کہ جوکوئی کرنا چاہے کرلے احتساب کا عمل نہیں رکے گا، چنانچہ بات اب شدت والی محاذ آرائی تک آ ہی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے یہاں اپنی پریس کانفرنس میں واضح کردیا کہ گیس اور پٹرول کے بعد بجلی کے نرخ بھی بڑھیں گے اورٹیکس نیٹ بھی بڑھایا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معاشی حالت بہت خراب ہے اسے سنبھالنے کے لئے یہ اقدامات ضروری ہیں، انہوں نے پھر سے کرپشن کے خلاف مہم کی بات کی اور کہا کہ ابھی مزید لوگ بھی جیل جائیں گے، اور اپنا وزن وزیراعلیٰ سردار عثمان بزردار کے حق میں ڈالا۔

مزید : ایڈیشن 1