سی، پیک منصوبے سے کے پی کے کی شکایت، ازالہ کے لئے کمیٹی کی ضرورت!

سی، پیک منصوبے سے کے پی کے کی شکایت، ازالہ کے لئے کمیٹی کی ضرورت!

وزیر اعظم عمران خان نے پاک چین دوستی کو لازوال رشتہ قرار دیتے ہوئے سی پیک کے تحت جاری منصوبے فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ دوسری جانب یہ خبر بھی دی جا رہی ہے کہ سعودی عرب بھی سی پیک کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ اس پر چین نے بھی اطمینان کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ سی پیک میں کسی بھی تیسرے ملک کی شمولیت مثبت عنصر ہو گا۔ یہ دونوں امور نہایت خوش آئند اور امید افزا ہیں جس کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں بھاری مالیت سے شروع ہونے والا پاکستان کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ جلد پایہ تکمیل کو پہنچ جائیگا۔ اس حوالے سے ایک اہم نکتہ خیبرپختونخوا سے متعلق ہے جس کے بارے میں طویل عرصے سے اعتراضات چلے آ رہے ہیں، سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ سابق وفاقی حکومت نے سی پیک میں خیبرپختونخوا کو یکسر نظر انداز کر دیا اور اہل خیبر کو اس کے ثمرات سے محروم رکھاجا رہا ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں پاکستان تحریک انصاف صرف خیبرپختونخوا میں برسر اقتدار تھی جبکہ وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اس وجہ سے شکایات بھی زیادہ پیدا ہوتی رہیں اور ان کا کوئی حل بھی سامنے نہیں آیا لیکن موجودہ دور میں تو ہر طرف پی ٹی آئی ہی ہے اس لئے اگر خیبرپختونخوا کو اس کے مناسب حقوق نہ ملے تو گلے شکوے برقرار رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خود وزیر اعظم اس سلسلے میں معاملات حل کروائیں اور اپنی خیبر حکومت کے حکام سے باقاعدہ گفتگو کر کے کوئی حل تلاش کیا جائے۔ سی پیک روٹ کے حوالے سے ماضی میں جو اعتراضات سامنے آئے تھے انہیں دور کرنے کے لئے فوری طور پر کوئی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے کی بھی ضرورت ہے جو اس صوبے کے باسیوں کی شکایات دور کر سکے اور ایسی نوبت نہ آئے جو شکوک و شبہات کو جنم دے یا احساس محرومی کا اظہار دوبارہ سے شروع ہو جائے۔ ایک اور مسئلہ جو حال ہی میں سامنے آیا ہے وہ دیا میر بھاشا ڈیم کی حد بندی کے حوالے سے ہے، نئے صوبے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے درمیان اپنے اپنے علاقے کا تنازعہ تا حال حل نہیں ہو پایا اور اس کے تناظر میں سپریم کورٹ نے دیامر بھاشا ڈیم کی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں حد بندی کے معاملے میں اراضی کے تعین کیلئے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 15روز میں جواب طلب کرلئے۔ کہا جا رہا ہے کہ حد بندی کا تعین ہونے کے بعد ہی دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ ہوگا۔

خیبرپختونخوامیں امن و امان کا مسئلہ بھی طویل عرصے سے اہم موضوع چلا آ رہا ہے بالخصوص امریکہ کے نائن الیون کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی اس نے اس صوبے میں بد ترین خوف و ہراس کو جنم دیا جس میں مسلسل اضافہ بھی ہوتا رہا ۔ حالیہ عام انتخابات میں بھی امن و امان کی صورت حال نہایت خراب رہی اور سیاسی رہنماؤں و کارکنوں سمیت کئی شخصیات دہشت گردی کی نظر ہو گئیں۔ خوف وہراس کے سائے آج بھی منڈلا رہے ہیں اور گزشتہ دنوں دہشت گردی و ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات نے حالات مزید کشیدہ کئے ہیں۔ تخریب کاری کے واقعات کے بعد اکثر یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سرحد پار سے آنے والے دہشت گرد ملوث ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسے کئی دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا ہے جو کسی نہ کسی طور افغانستان سے تعلق رکھتے تھے یا وہ پاک افغان سرحد کے گرد و نواح میں قائم تربیتی مراکز کے فارغ التحصیل تھے ۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے حوالے سے اکثر مختلف بیانات سامنے آتے رہے ہیں، بعض اوقات دونوں ممالک کے مراسم نہایت اچھے اور کئی بار خراب بھی ہوتے رہے لیکن حال ہی میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ افغانستان کے دوران امید افزا فیصلے ہوئے ہیں جنہیں ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں گزشتہ روز جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانہ کھول دیا گیا اور قونصل خانہ جلال آباد اور اردگرد کے علاقوں سے ویزاکی درخواستیں وصول کرنا شروع کر دیں ۔پیر کو ترجمان دفتر خارجہ پاکستان ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانہ نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ جلال آباد میں یہ پاکستانی قونصل خانہ 30 اگست 2018 کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کیا گیا تھا تاہم افغانستان نے ویانا کنونشن کی روشنی میں قونصل خانہ کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔اس حوالے سے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانہ ننگرہار کے گورنر کی بے جا مداخلت کے بعد حفاظتی اقدامات کے پیش نظر بند کیا گیا تھا، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ کابل کے دوران قونصل خانے کی بندش کا معاملہ اٹھایا گیاتھا۔ ایک اور تجویز جو سامنے آئی ہے وہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے حوالے سے ہے اور اس بارے میں گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے اور پاکستان کا پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ درست ہے،شناخت کے بغیرقبائلیوں کو افغانستان جانے کی اجازت دینا مشکوک ہے ایسے قوانین نہیں لانا چاہتے جس سے فاٹا کی مثبت روایات ختم ہوں،جرگہ سسٹم کو قانونی حیثیت دی جائے گی اور فاٹا کے عوام کو بنیادی سہولتیں مہیا کرنے کی کوشش جاری ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں ضمنی انتخابات کیلئے تیاریوں کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے، سیاسی جماعتوں اور انتخابی امیدواروں نے کامیابی کیلئے اجتماعات اور عوامی رابطہ مہم تیز کردی ہے جبکہ 14اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں 9صوبائی اور ایک قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخابات ہوں گے، گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کی خالی کردہ نشست پی کے71پر ضمنی انتخابات 21 ا کتو بر کو ہوں گے، مجموعی طور پر63امیدوار ضمنی انتخابات میں حصہ رہے ہیں، تحریک انصاف کی جانب سے خالی کردہ زیا دہ تر نشستوں پر منتخب ارکان کے رشتہ داروں کو ہی دوبارہ ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی خالی کردہ دو نشستوں پر ان کا بیٹا ابراہیم خٹک اور بھائی لیاقت خٹک امیدوار ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی نشست پر ان کے بھائی عاقب اللہ خان جبکہ علی امین گنڈا پور کی سیٹ پر ان کے بھائی فیصل امین امیدوار ہوں گے۔

مزید : ایڈیشن 1