سیکرٹری داخلہ پنجاب یو این ویمن کے وفد کا سیف سٹیز اتھارٹی کا دورہ

سیکرٹری داخلہ پنجاب یو این ویمن کے وفد کا سیف سٹیز اتھارٹی کا دورہ

  



لا ہو ر (کر ائم رپو رٹر)سیکرٹری داخلہ پنجاب کیپٹن (ر)فضیل اصغر نے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا دورہ کیا جہاں مینیجنگ ڈائریکٹر علی عامر ملک نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ اجلاس میں چیف آپریٹنگ آفیسر اکبر ناصر خان اور چیف ایڈمن محمد کامران خان بھی شریک تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری داخلہ پنجاب کو شہر میں امن و امان کی صورتحال اور الیکٹرانک چالان نگ منصوبے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، علاوہ ازیں پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کے سربراہ جمشیدقاضی نے وفدکے ہمراہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا دورہ کیا۔ یو این وومن کے تین رکنی وفد میں پنجاب آفس کی سربراہ حفصہ مظہر اور عائشہ مختار شامل تھیں۔ چیف آپریٹنگ آفیسر اکبر ناصر خان نے یو این وومن کے وفدکو پراجیکٹ بارے تفصیلی بریفنگ دی۔ اقوام متحدہ کے وومن چیف کو پنجاب سیف سٹیز اینڈرائڈوومن سیفٹی ایپلی کیشن سے متعارف کروایا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی میں 25فیصد خواتین افسران فرائض سرانجام دے رہی ہیں اور پوری تندہی سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ اس موقع پر یواین ویمن کے نمائندہ برائے پاکستان جمشید قاضی کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے سیف سٹیز اتھارٹی کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔

جمشید قاضی نے کہا کہ خواتین افسران لاہور شہر کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہیں جو خوش آئیند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ وومن سیفٹی ایپلی کیشن کو خواتین میں عام کرنے میں مدد کرے گا تاکہ خواتین اس سہولت سے بھرپور مستفید ہو سکیں۔ اقوام متحدہ کے وفد نے جدید پولیسنگ کے نظام کو سراہااور گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

وفد کو ایمرجنسی رسپانس،ایڈوانس ٹریفک مینجمنٹ سسٹم اورآپریشنز اینڈ مانیٹرنگ سینٹر بارے بریفنگ دی گئی۔ انہیں 15 ایمرجنسی ہیلپ لائن، فیشل ریکگنایزیشن ٹیکنالوجی، اے این پی آر کیمروں بارے بھی بتایا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پولیس کو تفتیش میں مدد کیلئے ہر ماہ سینکڑوں کیسز میں ڈیجیٹل شواہد فراہم کیے جاتے ہیں جن سے کیسز کے ٹرائل میں بھی مدد مل رہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ شہر میں سب سے زیادہ ٹریفک سگنل اور سپیڈ لِمٹس قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اس لیے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پہلے مرحلے میں ریڈ سگنل کی خلاف ورزی پر چالان بھجوائے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت شہر میں جعلی نمبر پلیٹ کی حامل مشکوک گاڑیوں کی چیکنگ کا عمل زوروشور سے جاری ہے۔ اس موقع پر اجلاس سے خطاب میں سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ لاہور میں سیکورٹی کیساتھ ساتھ ٹریفک مسائل کے حل کیلئے اتھارٹی کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹیز اتھارٹی کا الیکٹرانک ٹکٹنگ سینٹر اور ٹریفک ٹیم عمدہ کام کر رہی ہے اورسیف سٹی اتھارٹی جیسے منصوبوں سے پولیس کلچر میں نمایاں بہتری آر ہی ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے ہدایت کی کہ محکمہ ایکسائز گاڑی مالکان کے ایڈریس کا ڈیٹا جلد مکمل کرے جس سے الیکٹرانک چلاننگ سسٹم اور لاء4 اینڈ آرڈر پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹیزاتھارٹی کی کوششوں سے جرائم میں کمی اور ٹریفک قوانین کی پاسداری ہورہی ہے۔

مزید : علاقائی