پاکستان کا مانچسٹر اور اُس کے مسائل

پاکستان کا مانچسٹر اور اُس کے مسائل
پاکستان کا مانچسٹر اور اُس کے مسائل

  



فیصل آباد میرا آبائی شہر ہے لاہور میں رہتے ہوئے کوشش کرتا ہوں کہ دو ہفتوں میں کم از کم ایک چکر اپنے گھر لگا لیا کروں لہذا چند دن پہلے جب میں فیصل آباد گیا تو وہاں پینے کے صاف پانی کے فقدان کا سال ہا سال سے جاری مسئلہ سمجھنے کی کوشش کی اور کسی حد تک اِس معاملے تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہو گیا کہ آخر فیصل آباد سے صاف پانی کہاں چلا گیا ہے، دوسرا سوال جو میرے ذہن میں مسلسل گھر کئے ہوئے تھا کہ اہل فیصل آباد پینے کا صاف پانی کہاں سے حاصل کرتے ہیں اور وہ پانی کس طرح صاف کیا جاتا ہے ؟ پہلے تو میں نے یہ پتا لگایا کہ پاکستان کے مانچسٹر سے کا صاف پانی مضر صحت کیونکر ہوا جس کا جواب کچھ یوں ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ قائم ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں استعمال ہونے والے کیمیکلز نے زیر زمین جا کر صاف پانی کو گدلا کیا اور صرف گدلا ہی نہیں بلکہ اُس کیمیکل کی وجہ سے پینے کے پانی میں کئی بیماریوں کے جراثیم بھی پیدا ہو گئے جو ہائیپاٹائیٹس سمیت دوسری جان لیوا بیماریوں کو پیدا کرنے کا سبب بنے ، کچھ فیکٹریوں کو شہر کی حدود سے باہر نکال دیا گیا لیکن ابھی کئی بڑی فیکٹریاں شہر کے اندر موجود ہیں جنہیں کسی بھی حکومت نے شہر سے باہر نکالے جانے کا کوئی نوٹس نہیں دیا ۔جو فیکٹریاں شہر میں موجود ہیں وہ یقیناًسیاسی اکابرین کی مداخلت کی وجہ سے شہر سے منتقل کئے جانے کے مراحل سے نہیں گزاری گئیں ۔فیصل آباد شہر کی حدود میں ایک نہر گٹ والا پل سے سلونی جھال اڈا کی طرف جاتی ہے اُس نہر کے کنارے پر مقامی بلدیہ کی جانب سے کچھ پمپس لگائے گئے ہیں جہاں سے سیکڑوں ریڑھی بان کیمیکل کے خالی کینوں میں پانی بھرتے ہیں اور شہر بھر میں بیچتے ہیں صاف پینے کا پانی کہہ کر بیچا جانے والا کین دس سے بیس روپے میں فروخت ہوتا ہے ، کین میں پانی سے پہلے کون سا کیمیکل تھا اور اُس کین کو کس طرح دھویا گیا اس بات کی پرواہ کئے بغیر لوگ اپنے گھروں میں کین بیچنے والے ریڑھی بان کا انتظار کرتے ہیں ، یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ شہر میں پینے کا صاف پانی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے اہل فیصل آباد سخت ترین طبی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں اور موجودہ حکومت سمیت کسی حکومت نے اس مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی ، کچھ سال پہلے ایک پائپ لائن چنیوٹ سے فیصل آباد تک بچھائی گئی تھی جسے فیصل آبادیوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کا نام دیا گیا اور اس پراجیکٹ میں اُس وقت کے منتظمین نے کروڑوں روپے کمائے تھے ۔چنیوٹ تا فیصل آباد بچھائی جانے والی پانی کی پائپ لائن میں اتنا گند اور کیڑے مکوڑے آنے لگ پڑے کہ خدا کی پنا ہ ، ساتھ ساتھ اس پائپ لائن میں آنے والا پانی بھی اپنی مرضی سے ہی آ رہا یا یوں کہیں کہ آ ہی نہیں رہا ہے جس سے اہل فیصل آباد کو پینے کے صاف پانی جیسا مسئلہ اپنی جگہ ابھی تک قائم و دائم ہے ۔

اب نئی حکومت اس معاملے کو کس طرح حل کرتی ہے ، کرتی بھی ہے یا نہیں ؟ اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ موجودہ حکومت نے جس طرح اپنے کئے ہوئے تمام وعدوں سے منہ موڑا ہے اُس سے کہیں بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ فیصل آباد والوں کو صاف پانی مہیا ہو گا ۔

ستم ظریفی یہ کہ شہر کے سکولوں میں بچوں اور بچیوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ، ہمارے یہ کل کے معمار پانی کو ترس رہے ہیں اور اگر کسی سکول میں پانی کی ٹینکی ہے بھی تو وہ جراثیموں والے پانی سے بھر دی جاتی ہے ، میں نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ملت کالونی ڈی ٹائپ کا دورہ کیا تاکہ دیکھ سکوں کہ وہاں پڑھنے والی بچیوں کی ذہنی نشو و نما کے لئے صاف پانی کس طرح مہیا کیا جاتا ہے ، سکول میں بچیوں کی تعداد دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا کہ اُن کو پڑھانے کے لئے سٹاف موجود نہیں ، پینے والا پانی بھی انتہائی بدبو دار اور جراثیم والا ہے ، ہیڈ مسٹریس روحی سے پوچھا کہ آپ نے ایجو کیشن آفیسر فیصل آباد یا محکمہ تعلیم کو سٹاف کے لئے درخواست نہیں دی ؟ کیا بچیوں کے پینے کے لئے صاف پانی کے حوالے سے محکموں کو خط نہیں لکھا ؟ میٹرک تک بچیوں کے سکول میں جو چوکیدار رکھا گیا ہے وہ نوجوان اور کنوارہ ہے اور بچیوں سے چھیڑ خانی کرنے کی سزا کے طور پر اُسے تبدیل کرکے اس سکول میں بھیجا گیا ہے جہاں وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا کیا آپ نے محکمے کو لکھا ہے کہ ہمیں ایسے چوکیدار کی ضرورت نہیں جس سے بچیاں اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھیں ؟ ہیڈ مسٹریس نے مجھے بتایا کہ میں نے سابق ایجو کیشن آفیسر کو سب کچھ بتایا تھا لیکن ابھی تک ان مسائل کو حل نہیں کیا گیا ، میں چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن فیصل آباد چوہدری علی احمد سیان کے دفتر گیا اور اُن کو تمام مسائل سے آگاہ کیا ، انہوں نے اُسی وقت اپنے ڈی ای او کو بلایا اور کہا کہ سکولوں میں پڑھانے والا سٹاف پورا کرنے کے لئے سمری بنائیں ، کنوارے چوکیداروں کو فوری طور پر بچیوں کے سکولوں سے تبدیل کرکے لڑکوں کے سکولوں میں تعینات کریں اور بچیوں کے سکولوں میں بزرگ چوکیدار تعینات کریں ، ساتھ ساتھ سکولوں میں پینے کے صاف پانی مہیا ہونے کی کوئی تدبیر کریں ، میں علی احمد سیان کے فوری احکامات دیئے جانے پر مطمعن ہو گیا کہ کم از کم فیصل آباد کے سکولوں میں صاف پانی بھی مہیا ہو گا اور بچیوں کو تحفظ بھی ملے گا ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ایجو کیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مجھے مطمعن کیا تھا یا ان کے دیئے گئے احکامات پر عمل درامد بھی ہوگا ؟ خیر مجھے اُمید ہے کہ فیصل آباد سے حالیہ الیکشن میں منتخب ہونے والے ایم این ایز فرخ حبیب ، راجہ ریاض ، نواب وسیر ، عاصم نزیر ، رضا نصراللہ گھمن اور فیض اللہ کموکا ان کے ساتھ ایم پی ایز چوہدری ظہیر الدین جو اب صوبائی وزیر بھی ہیں ۔

چوہدری اختر اور دوسرے ممبرز صوبائی اسمبلی اپنے شہر کو پینے کا صاف پانی مہیا کریں گے اور جو فیکٹریاں زیر زمین کیمیکل پھینکنے کا باعث بن رہی ہیں انہیں شہر سے باہر نکالنے کے احکامات جاری کریں گے ، کیونکہ حفظان صحت کے لئے یہ سب سے پہلا اور ضروری کام ہے ، جس طرح چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجو کیشن فیصل آباد نے سکولوں میں درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری احکامات جاری کئے تھے اسی طرح فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ’’ دبنگ ‘‘ اور فوری احکامات جاری کرنے ہوں گے تاکہ فیصل آباد کے مکینوں کی صحت اوراُن کے مستقبل یعنی اُن کے بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں ۔کیونکہ کسی بھی قوم کی ترقی میں صحت مند معاشرہ اہم کردار ادا کرتا ہے ۔

مزید : رائے /کالم