تھر میں لوگوں کو مرتے نہیں دیکھ سکتا ، علاقے کا دورہ کروں گا ، چیف جسٹس

تھر میں لوگوں کو مرتے نہیں دیکھ سکتا ، علاقے کا دورہ کروں گا ، چیف جسٹس

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) سپریم کورٹ میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عوام کی زندگی کا معاملہ ہے چیف سیکرٹری اوروزیراعلی سندھ کوبلا لیتے ہیں اپنے لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا‘عدالت نے سندھ حکومت کی جمع کرائی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔عدالت عظمی میں سماعت کے دوران سیکرٹری ہیلتھ نے بتایا کہ ماں کی صحت ٹھیک نہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ ورکرزصرف 40فیصد علاقے میں کام کرتی ہیں، جن علاقوں میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کام کررہی ہیں وہاں اموات کم ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مسئلہ حل کر نے کے لیے جو اقدمات کیے گئے وہ بتائیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ عوام کی زندگی کا معاملہ ہے چیف سیکرٹری اور وزیراعلی سندھ کوبلالیتے ہیں، ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہیں جوغیر جانبدار رپورٹ پیش کرے۔تھرکے رکن قومی اسمبلی رمیش کمارنے عدالت عظمی کو بتایا کہ ہمیں بنیادی دیہی مراکز بنانا ہوں گے۔رمیش کمار نے کہا کہ تھروہ جگہ ہے جہاں پورے ملک میں ملنے والا ہر نشہ ملے گا، وزرات صحت کے بس کی بات نہیں دیگر اداروں کو شامل کرنا ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب بتائیں اس میں ہم کیا اقدمات کرسکتے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جہاں ہسپتال بنائے جاتے ہیں وہاں ڈاکٹرنہیں ملے گا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشینیں بہت بڑی بڑی ہوں گی ان کا آپریٹرنہیں ہوتا، مٹھی کے ڈسٹرکٹ جج کو بلا کر پوچھ لیں کیا حال ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ اپنے لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا،میں خود تھر کا دورہ کروں گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ چیف سیکرٹری سندھ خود حاضر ہوں۔ سندھ میں اس وقت شدید خشک سالی کے باعث بچے مررہے ہیں۔ سندھ کی موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے دس سال ہوچکے ہیں۔ دس سال میں اندرون سندھ عام آدمی کیلئے کچھ بھی نہیں کیا گیا سب کچھ کاغذی ہے عملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا جارہا۔چیف جسٹس نے کہا رپورٹس آتی رہتی ہیں مجھے حل بتائیں تھر جا کر بیٹھ جاؤں گا کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر سندھ نے بتایا کہ کراچی میں بھی یہی حال ہے۔ چیف جسٹس نے کہا پہلے بھی پانچ بچے مر گئے تھے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں خوراک اور پانی کی فراہمی کا ذمہ دار کون ہے؟ جنگی بنیادوں پر کام کریں ہمیں دیکھنا ہے کہ وہاں بچوں کی کیا ضروریات ہیں۔ پانی خوراک کے ٹرک بھجوائیں۔ چیف جسٹس نے کہا اربوں روپے لے کر سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے غذائی قلت سے بچوں کی اموات سے متعلق کیس کی سماعت 11 اکتوبرتک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرچیف سیکرٹری سندھ ، سیکرٹری فنانس ، سیکرٹری ہیلتھ ، اے جی سندھ، سیکرٹری پاپولیشن اورسیکرٹری ورک اینڈ سروسز کو طلب کرلیا۔ دربار پاکپتن سے ملحقہ اوقاف کی اراضی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پاکستا ن نے کہا ہے کہ اوقاف کی زمین کسی کو دینے کا اختیار وزیراعلیٰ کو کس نے دیا ،سابق وزیراعلیٰ نوازشریف سمیت تمام متعلقہ افرادکو نوٹس جاری کریں گے۔وکیل صفائی نے کہا کہ نوازشریف نے بطوروزیراعلیٰ زمین قطب الدین کے نام کی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نوازشریف کا نام سن کر خواجہ حارث ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں ،خواجہ صاحب آپ کے دیکھنے کے انداز سے ڈر گیا ہوں۔وکیل صفائی نے کہا کہ حکومتی غلطی کی سزادیوان قطب علی کو کیوں مل رہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ فائدہ اٹھانے والوں سے بھی بازپرس کی جائے گی کیو نکہ اوقاف کی پراپرٹی کسی کو نہیں دی جا سکتی۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں بگٹی قتل کیس میں پرویز مشرف کے حفاظتی مچلکوں کی واپسی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی۔عدالت نے شکایت کنندہ جمیل اکبر بگٹی کو نوٹس جاری کردیا۔ سماعت کے دوران جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ مچلکوں کی واپسی پر ریاست کو کوئی اعتراض ہے؟ وکیل استغاثہ نے بتایا کہ ریاست کو کوئی اعتراض نہیں مدعی کی اپیل بھی نہیں گئی۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا عدالت کی تسلی کیلئے مدعی کو نوٹ جاری کردیتے ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا یہ جاننا ضروری ہے مدعی نے اپیل دائر کی یا نہیں؟ عدالت نے کیس سماعت 10 روزہ کیلئے ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ اول