پنجاب پولیس کے آئی جی طاہر خان کو ایک ماہ بعد ہی تبدیل کیوں کردیا گیا؟

پنجاب پولیس کے آئی جی طاہر خان کو ایک ماہ بعد ہی تبدیل کیوں کردیا گیا؟
پنجاب پولیس کے آئی جی طاہر خان کو ایک ماہ بعد ہی تبدیل کیوں کردیا گیا؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

الیکشن کمیشن نے پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) طاہر خان کو تبدیل کرکے امجد جاوید سلیمی کو نیا آئی جی لگانے کا وفاقی حکومت کا حکم معطل کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کا تبادلہ رکوانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھی خط لکھ دیا ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق 14 اکتوبر کو ملک بھر میں ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں، جو عام انتخابات ہی کا تسلسل ہیں، اس لئے ان دنوں میں آئی جی تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ آئی جی کا تبادلہ کرکے الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے دو روز کے اندر اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے وضاحت بھی طلب کرلی ہے۔ طاہر خان پی ٹی آئی کی سابق کے پی کے حکومت میں صوبے میں تعینات تھے اور آئی جی ناصر خان درانی کی رہنمائی میں انہوں نے صوبے کی پولیس کی بہتری کے لئے بڑا کام کیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین وزیر اعظم عمران خان صوبے کی جس مثالی پولیس کا اکثر و بیشتر ذکر کرتے ہیں اور اس کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں، وہ مثالی ہے یا نہیں لیکن اگر اس پولیس کی کارکردگی میں بہتری پیدا ہوئی ہے یا یہ سیاسی دباؤ قبول کرکے آزادانہ فیصلے کر رہی ہے تو اس کا کچھ نہ کچھ کریڈٹ طاہر خان کو بھی جاتا ہے۔ جب ایک ماہ قبل انہیں پنجاب کا آئی جی لگایا گیا تو یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ جس طرح انہوں نے کے پی کے پولیس کو مثالی بنایا ہے، اسی طرح وہ پنجاب کی پولیس کو بھی ویسا ہی بنائیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس افسر کے ساتھ اتنی زیادہ توقعات وابستہ کی گئی تھیں کہ وہ پنجاب جیسے صوبے کی پولیس کا ایک نیا امیج بنانے کے لئے یہاں تعینات کئے گئے۔ پنجاب میں پولیس کلچر میں تبدیلی کی کوششیں نہ جانے کتنی مرتبہ کی گئیں اور کتنی حکومتوں اور افسروں کی توانائیاں ان کوششوں میں صرف ہوگئیں۔ کتنے کمیشن بنائے گئے، جن کی سفارشات کی فائلیں نہ جانے گرد آلود ہوکر کس سٹور میں پڑی ہیں۔ یہ ساری کوششیں چونکہ ناکام ہوگئیں اس لئے پنجاب پولیس کو مثالی بنانے کے لئے اب کی بار طاہر خان کو آئی جی لگایا گیا لیکن ایک ہی مہینے کے اندر کیا ایسا ہوگیا کہ انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آگئی۔ اب تو خیر الیکشن کمیشن نے تبادلہ معطل کر دیا ہے، لیکن ہفتے بعد جب ضمنی الیکشن کا سلسلہ اختتام کو پہنچے گا تو دوبارہ تبادلے کی نوبت آسکتی ہے، اس لئے اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ آخر وہ کیا ایمرجنسی پیدا ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے طاہر خان کو تبدیل کیا گیا، بعض باخبر حلقوں کا خیال ہے کہ ناصر خان درانی اور ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے، حالانکہ یہ قیاس بظاہر درست نہیں لگتا کیونکہ دونوں افسر کے پی کے میں اکٹھے کام کر رہے تھے اور کسی کو شکایت نہیں تھی، اس کا جواب یہ حلقے اس طرح دیتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں ناصر درانی آئی جی تھے اور طاہر خان ان کے ماتحت تھے، دونوں سرونگ افسر تھے، اب پنجاب میں طاہر خان صوبے میں پولیس کے سب سے اعلیٰ منصب پر فائز ہیں تو ان پر پولیس کمیشن کے سربراہ کے نام پر ناصر خان درانی کی نگرانی کوئی جچتی نہیں، ویسے بھی وہ اب ریٹائرڈ افسر ہیں، اس لحاظ سے وہ اگر آئی جی کے ساتھ ماضی کی طرح ایک ماتحت کا سا سلوک کریں گے تو آئی جی اسے مائنڈ تو کرے گا لیکن ایک دوسرے ذریعے کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے ہی اعلانات، دعوؤں اور وعدوں کی یرغمالی بن کر رہ گئی ہے۔ بار بار یہ وعدہ کیا گیا کہ پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے گا، لیکن پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے حلف اٹھاتے ہی پاک پتن کے ڈی پی او کو آدھی رات کے بعد تبدیل کیا ، کیا یہ سیاسی دباؤ نہیں تھا؟ پھر جب جناب چیف جسٹس نے اس کا از خود نوٹس لیا تو معاملے کی تحقیقات پر کلیم امام (سابق آئی جی پنجاب حال آئی جی سندھ) کو متعین کیا گیا جنہوں نے اپنی رپورٹ میں سارا ملبہ پاک پتن پولیس پر ڈال دیا اور وزیراعلیٰ اور احسن گجر کو معاملہ سے صاف نکال دیا، جناب چیف جسٹس نے یہ رپورٹ مسترد کرکے نیکٹا کے سربراہ خالق دادلک کو دوبارہ انکوائری کا حکم دیا، جنہوں نے رپورٹ دی تو اس کا جواب چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ آئی جی کلیم امام اور احسن گجر سے طلب کیا تو تینوں نے تقریباً ایک ہی طرح کا جواب دے کر یہ موقف اختیار کیا کہ یہ رپورٹ مفروضوں پر مبنی ہے۔ جناب چیف جسٹس نے اس جواب کو مسترد کر دیا جس پر تینوں نے غیر مشروط معذرت کرلی، تب چیف جسٹس نے از خود نوٹس نمٹا دیا۔ خالق دادلک کی رپورٹ بظاہر جانفشانی سے تیار کی گئی تھی اور ایک دیانتدار پولیس افسر کی شہرت رکھنے والے اس افسر نے بظاہر کسی کا سیاسی دباؤ قبول نہیں کیا اور ایک ایسی رپورٹ فاضل چیف جسٹس کے روبرو پیش کر دی جو وزیراعلیٰ کو بھی پسند نہیں آئی اور آئی جی کو بھی۔ ویسے بھی وزیراعلیٰ عثمان بزدار حیران ہوئے ہوں گے کہ ایک سرونگ پولیس افسر نے ایسی بے باک اور بے لاگ رپورٹ دینے کی جرأت کیونکر کی۔ عین ممکن ہے اس سلسلے میں آئی جی طاہر خان کی مدد طلب کی گئی ہو، جنہوں نے معاملے کی صداقت کا ادراک کرتے ہوئے ایسی کسی مدد سے انکار کر دیاہو، اس لئے بظاہر غیر سیاسی پولیس کا نعرہ لگانے لیکن عملاً ایسی سیاسی پولیس دیکھنے کے خواہش مند حکمرانوں نے آئی جی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری کہتے ہیں جو کام نہیں کرے گا اسے جانا پڑے گا، اس کا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ جو ہماری خواہشات کے مطابق کام نہیں کرے گا تو اسے جانا پڑے گا، کیا یہ بھی سیاسی دباؤ کا حربہ نہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر آپ کو کس حکیم نے کہا ہے کہ پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کا دعویٰ کریں؟ ان واقعات کی گہرائی میں جاکر غور کریں تو کہیں نہ کہیں سیاسی دباؤ تو نظر آتا ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تبادلے کی وجہ وہ واقع بھی ہے جس میں ایک پولیس اہلکار کو اغوأ کرکے تشدد کیا گیا اور جس کا کار سرکار میں مداخلت کا پرچہ درج ہوچکا ہے۔ آئی جی نے اس سلسلے میں دباؤ قبول کرنے سے انکار کیا تھا، اس لئے ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔ حالانکہ آئی جی کا تبادلہ سپریم کورٹ بعض پابندیوں کے تابع کرچکی ہے۔

مزید : تجزیہ