فن تعمیر کاشاہکار مقبرے مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہونیکا خدشہ

فن تعمیر کاشاہکار مقبرے مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہونیکا خدشہ

ہیڈ پنجند (نامہ نگار) فن تعمیر کا شاہکار یہ مقبرہ جات وقت کی بے رحمی کے ہاتھوں حسرتوں کا مرقع بنے ہوئے ہیں اور اپنی بد حالی پہ (بقیہ نمبر43صفحہ7پر )

نوحہ کناں ہیں۔ان مقبرے کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سینکڑوں کی تعداد میں ہر سال غیر ملکی سیاح یہاں پر آتے ہیں لیکن ایسے قیمتی اثاثوں کی بے قدری دیکھ کر مایوس اور افسردہ ہو جاتے ہیں۔محکمہ آثار قدیمہ نے اگر اب بھی اس طرف توجہ نہ دی تو وہ دن دور نہیں جب یہ فن تعمیر کے شاہکار مقبرے مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوجائیں گے جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور سے 87 کلومیٹر مغرب کی جانب واقع اوچ شریف ایک تاریخی شہر ہے ۔اوچ شریف کی تاریخ کے بارے ہمہ قسم آرا ہیں اس کو 500 قبل از مسیح شہر بھی کہا جاتا ھے سکندر اعظم جب فتوحات کرتا ھوا وسطی ایشیا پہنچا تو دریائے سندھ اور چناب کے سنگم پر اک شہر آباد کیا جسے اسکندریہ کہا جاتا تھا یہ چوتھی صدی عیسویں کی بات ھے اس کے بعد محمد بن قاسم نے اسکندریہ کو فتح کیا اس کے بعد سلطان محمود غزنوی راجہ جے پال اور شہاب الدین غوری کے قبضے میں رہا اس شہر کو آج دنیا اوچ شریف کے نام سے جانتی ہے اوچ شریف کو سر زمین اولیاء بھی کہا جائے تو کم نہیں ہوگا ۔اوچ شریف میں موجود بی بی جیوندی کا مقبرہ عالمی ادارے یونیسکو کے زیر نگاہ ہے ۔مائی جیوندی جن کو مقامی لوگ جندوڈی بھی کہتے ہیں جلال الدین سرخ پوش کی پوتی ہیں۔ جلال الدین شرخ پوش کا شجرہ تیرویں نسل حضرت امام حسین سے جا ملتاہے۔ جند وڈی آپ کی نسل ہیں یہ ولی اللہ خاتون تھیں مقامی لوگوں کا ماننا ھے کہ یہ ولی کامل تھیں اپنے دادا کی طرح جندوڈی کا مقبرہ 1494 میں خرسان کے بادشاہ دلشاد نے تعمیر کرایا ۔نیلی ٹائیلوں سے آرائش کی گئی ھے یہاں موجود تین مقبروں میں سے بی بی کا مقبرہ قدرے بہتر حالت میں ھے سرخ اور نیلی اینٹیں خوبصورتی کا ساماں ہیں۔1817 میں آنے والے سیلاب نے تباہی کر دی تھی جس کے بعد کسی بھی حکومت نے اسکو دوبارہ تعمیر کرنے یا بنانے کی زحمت نہیں کی جبکہ یہ تین مقبرے دنیا کی سو تاریخی عمارتوں میں شمار کیے جاتے ہیں اولیاء اللہ کی سر زمین اوچشریف میں واقع دنیا بھر میں قدیمی و ثقافتی اہمیت کے حامل سمجھے جانیوالے مقبریمحکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کی بدولت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔مقبرہ جات میں مقبرہ بی بی جیوندی،مقبرہ بہاول حلیم اور مقبرہ نوریا شامل ہیں۔شہریوں نے اعلیٰ حکام بالا سے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے۔

آثار قدیمہ

مزید : ملتان صفحہ آخر