نیو ملتان گرلز ہائی سکول کی معلمہ شہناز ظفر کے جاں بحق ہونے کی انکوائری کا حکم

نیو ملتان گرلز ہائی سکول کی معلمہ شہناز ظفر کے جاں بحق ہونے کی انکوائری کا حکم

  



ملتان ( سٹاف رپورٹر) محکمہ تعلیم کے حکام نے شدید بیماری کی حالت میں (بقیہ نمبر20صفحہ12پر )

چھٹی نہ ملنے پر گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مینگو ریسرچ سنٹرنیو ملتان کی ای ایس ٹی معلمہ شہناز ظفرکے جاں بحق ہونے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے ۔سکول کی معلمات نے انکوائری میں پرنسپل مہہ جبیں کو بچانے کی کوششوں پر تحفظات کا اظہار کیاہے ۔ بتایاگیا ہے کہ چند روز قبل معلمہ شہناز کو شدید بیماری کی حالت میں چھٹی دینے کی بجائے پرنسپل مہہ جبیں نے زبردستی سکول ڈیوٹی پر آنے کا حکم دیا جس کی حالت مزید خراب ہو گئی جسے پہلے نجی ہسپتال اور پھر بعد میں نشتر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی ۔ معلمہ شہناز ظفر 3بچیوں کی ماں تھی ۔ بچیاں ماں کی لاش سے لپٹ کر روتی رہیں ۔ یہ سنگین معاملہ میڈیا میں آنے پر پرنسپل مہہ جبیں نے یہ خبر میڈیا تک پہنچانے والی معلمات و سٹاف کی تلاش شروع کر دی اورسٹاف کو متنبہ کیاہے کہ جس نے زبان کھولی تو اس کی خیر نہیں ہوگی ۔ مزید براں ملتان کے افسران تعلیم نے بھی کارروائی کرنے کی بجائے معاملہ دبانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ بتایا گیا ہے کہ سی ای او بہاولپور شمشیر خان کا مذکورہ سکول میںآنا جانا لگا رہتا ہے ۔ بعض مرتبہ تو و ہ روزانہ آتے ہیں۔وہ جب آتے ہیں تو پرنسپل مہہ جبیں ان کو گیٹ تک لینے جاتی ہیں اور پھر اپنے آفس میں لے جاتی ہیں ۔ کہاجارہا ہے کہ شمشیر خان کے کہنے پر ہی سی ای اوملتان مختار حسین نے اس سنگین معاملے پر کارروائی نہیں کی بلکہ اسے دبانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ جس وقت پرنسپل مہہ جبیں کو معلمہ شہناز ظفر کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی تو اس نے فوری طور پر سی ای او بہاولپور شمشیر خان سے رابطہ کیا ۔ شمشیر خان نے فوری طور پر سی ای او ملتان مختار حسین کو فون کرکے پرنسپل مہہ جبیں کو بچانے کے لئے معاملہ دبانے کے لئے کہا ۔تعلیمی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ با اثر پرنسپل مہہ جبیں کے خلاف کارروائی نہ کیاجانا باعث تشویش ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ میرٹ پر انکوائری کی جائے ۔دوسری جانب ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن ملتان کا اجلاس ہوا جس کی صدارت کامریڈ مرتضی ٰ ملک نے کی ۔ اجلاس میں پرنسپل مہہ جبیں کی سفاکی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرنسپل مہہ جبیں معلمہ شہناز ظفر کی علالت سے بخوبی آگاہ تھی ۔ وہ پرنسپل سے بار بار چھٹی کی درخواست کرتی رہی لیکن پرنسپل کو رحم نہ آیا اور اسے موت کے منہ میں دھکیل دیا ۔ اجلاس میں چیف جسٹںآف پاکستان سے اپیل کی گئی کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں اور انسانیت کے قتل پر ذمہ داروں کو قرار واقعی سزاد یں۔

شہناز ظفر

مزید : ملتان صفحہ آخر