تھر کے عوام کیلئے وفاقی حکومت نے کوئی مدد نہیں کی : مرتضی وہاب

تھر کے عوام کیلئے وفاقی حکومت نے کوئی مدد نہیں کی : مرتضی وہاب

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلی سندھ کے مشیر برائے اطلاعات ، قانون و اینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کے نوٹس کے باوجود تھر کے عوام کے لئے وفاقی حکومت نے کوئی مدد نہیں کی، سندھ حکومت اپنی مدد آپ کے تحت تھر کے عوام کی مدد کررہی ہے پی ٹی آئی حکومت کے پاس معاشی اور معاشرتی پلان نہیں عمران خان نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاونگا اب وہ خود فیصلہ کریں حکومت نے بڑی بڑی باتیں کرنے اور یوٹرن کے سوا کچھ نہیں کیا تحریک انصاف کی پالیسیز سے ظاہر ہوگیا کہ وہ کتنے سنجیدہ ہیں پی ٹی آئی صرف مہنگائی اور گیس وبجلی قیمتوں میں اضافے کا طوفان لائی یہ بات انہوں نے منگل کو اپنے دفتر میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ رجسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ وزیراعلی سندھ کی ہدایت پر تھر کا دورہ کرکے وہاں کے حالات کا جائزہ لیا ہے آر او پلانٹس سے لیکر اسپتالوں، بنیادی صحت کے مراکز، گندم زخیرہ کرنے کے لئے مختلف گوداموں، علاقہ مکینوں سے صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ زمینی حقائق کا جائزہ لیا ہمارے دورے کے دوران تھرپارکر سے منتخب رکن سندھ اسمبلی قاسم سراج سومرو اور دیگر بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ مروجہ طریقہ کار کے تحت پندرہ اگست تک بارشیں نہ ہوں تو تھر کو قحط زدہ قرار دیا جاتا ہے سندھ حکومت نے تھر کو بروقت علاقے کو قحط زدہ قرار دیا اور گندم تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ تھر کے لوگوں کو ریلیف مل سکے۔ نادرا سے ریکارڈ منگوا کر دو لاکھ آٹھ ہزار دو سو چھیالیس گھرانوں کو گندم تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تھر کے لوگوں سے مل کر معلوم ہوا کہ دو لاکھ اسی ہزار گھرانوں کو گندم تقسیم کی جائے، ہم نے انکی درخواست پر محکمہ ریونیو سے ریکارڈ منگوایا اور مزید سڑسٹھ ہزار گھرانوں کو گندم تقسیم کا فیصلہ کیا۔ تھر میں تین سو چھیاسٹھ پوائنٹس پر گندم تقسیم کی جائیگی تاکہ لوگوں کو دور دراز علاقوں سے نہ آنا پڑے۔ حکومت سالانہ باون ہزار خاندانوں کو بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کے تحت گندم دال بھر تقسیم کرتی ہے۔ گودام میں جاکر ہم گندم کے معیار کو چیک کیا ان میں گندم تھی وزن کرنے والی مشینوں پر بوری کا وزن چیک کیا جو پورا پچاس کلو تھا۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے لوگوں نے اسپتالوں میں فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمعینان کا اظہار کیا ہے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے بتایا کہ وزیراعلی سندھ نے تھر کے آر او پلانٹس کو فعال کرنے کا حکم دیا تھا اور منگل کی صبح کمشنر میرپورخاص نے رپورٹ دی کہ آر او پلانٹس فعال ہوچکے ہیں۔ ملک میں ڈیموں کا چرچا ہے سندھ حکومت نے اٹھارہ ڈیم بنائے ہیں جن سے ہزاروں ایکڑ اراضی سیراب ہورہی ہے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ پانی کے معاہدے کے تحت سندھ کو پانی نہیں مل رہا جس سے نہ صرف تھر بلکہ پورے صوبے میں زرعی پانی کی صورتحال اچھی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سرکاری ادویات کی نجی میڈیکل اسٹورز پرفروخت کی اطلاعات کا نوٹس لیاہے تھر کے آر اوپلانٹس کو چلانے کے احکامات پر عمل شروع ہوگیا ہے فنڈز کے عدم اجرا کے سبب آر او پلانٹس بند تھے تھر میں سندھ حکومت نے اٹھارہ چھوٹے ڈیم بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان کے عوام کو نہیں تھر کے لوگوں کو گندم دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بارش نہیں ہوگی تو سندھ حکومت گندم کی تقسیم کریگی بارش کا اختیار سندھ حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے تھر میں بچوں کو ادویات اور میڈیکل کی سہولیات فراہم کرنے موبائل پیڈیا ٹرک یونٹ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کے نوٹس کے باوجود وفاق کی طرف سے تھر میں کوئی امداد نہیں پہنچائی گئی افسوس کہ وفاق نے تھر کے لوگوں کو نظر انداز کرکے افغانستان گندم بھجوائی انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے مہنگائی کا طوفان لیکر آئے ہیں پی ٹی آئی نے صرف باتوں پر یقین کیا ہے عملی طور پر عوام کو کچھ دینے میں ناکام رہے ہیں۔

Ba

مزید : کراچی صفحہ اول