سرکاری مشینری کو صحیح طور پر فعال بنانا اور خدمات فراہمی کیلئے ماحول دینا بنیادی مقصد ہے : محمود خان

سرکاری مشینری کو صحیح طور پر فعال بنانا اور خدمات فراہمی کیلئے ماحول دینا ...

  



پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے مرکزی حکومت کے سول سروسز میں اصلاحات کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی طرف سے درکار تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری پچھلی صوبائی حکومت نے اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں، جن محکموں کا سروس سٹرکچر نہیں تھا ،انکو سروس سٹرکچر دیا ہے، سرکاری مشینری کو صحیح طور پر فعال بنانا اور اداروں کو خدمات کی فراہمی کیلئے مناسب ماحول دینا بنیادی مقصد ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں وزیر اعظم کے مشیر برائے سول سروسز اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش اور سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ارشد مجید بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات میں سول سروسز میں اصلاحات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، عشرت حسین نے سول سروسز اصلاحات کے معاملہ میں صوبوں کو ساتھ لیکر چلنے کے حکومتی مؤقف سے وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا، انہوں نے بتایا کہ سول سروسز اصلاحات کیلئے بنائی گئی ٹاسک فورس مکمل طور پر غیر جانبدارہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قابل عمل اصلاحات لانا چاہتے ہیں، بیوروکریسی کو سیاست سے آزاد کرنا وزیر اعظم عمران خان کا وژن ہے، وزیر اعلیٰ نے سول سروسز میں اصلاحات کیلئے وفاقی حکومت کی کاوش کا خیر مقدم کیا اور یقین دلایا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن مدد کرے گی، انہوں نے کہا کہ مختلف کیڈرز کے تحفظات کو دور کرکے مشاورت کے ساتھ اصلاحات کا عمل دیرپا اور نتیجہ خیز ثابت ہو گا، ہماری سابق صوبائی حکومت نے بھی ملازمین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے اور آئندہ بھی اس سلسلے میں بھر پور کردار ادا کریں گے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد کیا گیا ہے، صوبے میں تبادلوں تعیناتیوں کی سیاست کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اداروں کو با اختیار بنانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ گورننس سسٹم کی بہتری کیلئے اداروں میں چیک اینڈ بیلنس کا ہونا بھی ناگزیر ہے تاکہ اداروں کے پس پردہ مقاصد کا حصول ممکن ہو سکے۔ رہنماؤں نے ملک کی معاشی صورتحال، روزگار اور خیبر پختونخوامیں سیاحت کی استعداد پر بھی تبادلہ خیال کیا، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس صوبے میں سیاحت انڈسٹری کی کافی پوٹینشل موجود ہے، صوبائی حکومت کے اقدامات اور پالیسیوں کی بدولت حالات بدل چکے ہیں شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں بھی ماحول بہتر ہو گیا ہے، سیاحت ترقی کر رہی ہے، لوگوں کو روزگار مل رہا ہے، سوات، ملاکنڈ اور ہزارہ کے سیاحتی علاقوں میں انفراسٹرکچر کو ترقی دینے کی ضرورت ہے اگر وفاقی حکومت صوبے کے وسائل بر وقت فراہم کرے تو نہ صرف صوبے کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں بلکہ ہم ملکی معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انکی حکومت اپنے وسائل پیدا کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے ہمارے پاس وسیع پیمانے پر سرکاری اراضی موجود ہے جسکو استعمال میں لانے کا طریقہ کار وضع کرنا ہو گا محمود خان نے کہا کہ سابق صوبائی حکومت نے تجاوزات کے خاتمے کیلئے بہت کام کیا ہے ۔موجودہ حکومت اس سلسلے میں مزید اقدامات اُٹھائے گی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کیلئے کمپنیاں بنائی گئی ہیں ۔ اُنہوں نے کہاکہ قوانین بہت ہیں مگر اُن پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ صوبائی حکومت اس سلسلے میں کام کر رہی او روفاقی حکومت کے ساتھ بھی مکمل تعاون کیلئے پر عزم ہے ۔

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے محکمہ جنگلات کے علاقوں میں موجود معدنی ٹائٹلز کیلئے سرمایہ کاروں کو جاری کئے گئے این او سیز کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کیلئے صوبائی محکموں قانون، جنگلات، معدنیات اور خزانہ پر مشتمل اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی ہے ۔انہوں نے کمیٹی کو باہمی مشاورت سے مسائل کا بغور جائزہ لے کر دو ہفتوں کے اندر حقیقت پسندانہ سفارشات پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔اُنہوں نے واضح کیا کہ ہم نے جنگلات کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے اور قیمتی معدن سے وسائل بھی پیدا کرنے ہیں۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاو رمیں اجلاس کی صدارت کرر ہے تھے ۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا ، وزیر ماحولیات اشتیاق ارمڑ، وزیر قانون سلطان محمود، وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو محکمہ جنگلات کی حدود میں موجود معدنی ٹائٹلز کی سرمایہ کاروں کو فراہمی کے سلسلے میں قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور تاحال جاری کئے گئے این او سیز کے سلسلے میں درپیش قانونی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس کو اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں پیش رفت اور اس مقصد کیلئے بنائی گئی کمیٹی کی تجاویز سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ معدنیات کی طرف سے سرمایہ کاروں کو جاری شدہ این اوسیز اور محکمہ جنگلات کی طرف سے قانونی تحفظات اور دیگر متعلقہ مسائل کا قابل عمل حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے جاری شدہ این او سیز کا جائزہ لینے اورمسائل کے حل کیلئے قائم کمیٹی کو دو ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارے لئے جنگلات کا تحفظ بھی زیادہ اہم ہے اور ہم ماحولیاتی خطرات کی وجہ سے جنگلات کی بقاء و تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے اور دوسری طرف صوبے میں موجود معدنی وسائل کو بھی بروئے کار لانا ہے تاکہ صوبے کی مالی بنیاد کو مضبوط کیا جا سکے ۔ صوبے کی ترقی ، ماحولیات کے تحفظ اور معاشی ضروریات تینوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول